انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لئے تمام ادارے فعال کردار ادا کریں ، ایف آئی اے میں افرادی قوت کی کمی کو فوری طور پر پورا کیا جائے، بیرون ملک سفر کرنے والوں کی سکریننگ کا معیاری نظام قائم کیا جائے
دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات پر تشویش پائی جاتی ہے، روایتی ایندھن کی گاڑیوں کے بجائے ماحول دوست توانائی کی حامل الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دیکر آلودگی میں کمی لائی جاسکتی ہے:اجلاس میں گفتگو
اسلام آباد(آئی این پی)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے انسانی اسمگلنگ کے مکروہ دھندے سے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائی گی۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں انسانی سمگلنگ کے خاتمے کیلیے لیے گئے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے تمام ادارے فعال کردار ادا کریں۔ ایف آئی اے میں افرادی قوت کی کمی کو فوری طور پر پورا کرے۔ بیرون ملک سفر کرنیوالوں کی اسکریننگ کا معیاری نظام قائم کیا جائے۔وزیراعظم نے وزارت اطلاعات و نشریات کو غیر قانونی بیرون ملک سفر اور انسانی اسمگلنگ کے بارے میں موثر آگاہی مہم چلانے اورایف آئی اے بیرون ملک انسانی اسمگلنگ کا مکروہ دھندہ چلانے والے انتہائی مطلوب اسمگلروں کی حوالگی کے لیے انٹرپول سے تعاون حاصل کرنے کی ہدایت کی۔دریں اثناء شہباز شریف نے کہا ہے پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز کو فروغ دینے سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئے گی، وزارت توانائی نے چارجنگ اسٹیشنز کے لیے بجلی کا ٹیرف 70 روپے سے کم کرکے 40 روپے کر دیا، منصوبہ تیزی سے آگے بڑھایا جائے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں الیکٹرک وہیکلز کو فروغ دینے کے حوالے سے اقدامات کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات پر تشویش پائی جاتی ہے، روایتی ایندھن کی گاڑیوں کے بجائے ماحول دوست توانائی کی حامل الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دیکر آلودگی میں کمی لائی جاسکتی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ ماحول دوست منصوبے اس حوالے سے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، باکو میں کوپ 29 کے انعقاد کے دوران بھی دنیا کو درپیش کلائمیٹ چینج کے معاملے پر غور کیا گیا اور کئی اقدامات تجویز کیے گئے۔شہباز شریف نے ہدایت کی وزارت توانائی الیکٹرک وہیکلز کے لیے چارجنگ اسٹیشنز کے منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھائے، الیکٹرک وہیکلز کو فروغ دیا جائے گا تو پاکستان کے خزانے پر امپورٹڈ ایندھن کی وجہ سے پڑنے والا زرمبادلہ کا دبا کم ہوگا۔