لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کریں:شہبازشریف حکومت رابطہ کرے تو مثبت جواب دیا جائے:محمود اچکزئی
قوم کی منشا ہے پاکستان محنت، امانت اور دیانت کے ساتھ آگے بڑھے،اڑھائی سال کی محنت اور ٹیم ورک کے ذریعے معیشت کو پائو ں پر کھڑا کیا: اسلام آباد میں انڈرپاس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب
گیس لوڈ مینجمنٹ کی حکمت عملی پر عملدرآمد کے حوالے سے بھرپور عوامی آگہی مہم چلائی جائے ،موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں گیس کی بلا تعطل درآمد کے حوالے سے تمام تر ضروری اقدامات کئے جائیں:وزیراعظٹ
رابطے پر پہلی شرط عمران خان سے ملاقات ہونی چاہیے ‘ بہنوں کی رہائی سے حکومت مثبت پیش رفت کا آغاز کرسکتی ہے، عمران خان سے ملاقات نہیں ہوتی تو وزیراعظم سے ملاقات بے معنی ہوگی:اچکزئی کا اپوزیشن رہنمائوں کو پیغام
اسلام آباد(آئی این پی )وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے تحریک انصاف کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہاہے لانگ مارچ اور دھرنے ختم کریں گے تو آپ کے ساتھ بات کریں گے۔ اسلام آباد میں کشمیر چوک انڈرپاس کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ انشااللہ ایک دن یہ شاہراہ کشمیر اور سری نگر پہنچے گی، تاہم سڑکیں، انڈرپاسز اور پل عوام کی سفری سہولیات کیلئے بنائی جاتی ہیں۔ ڈھائی سال کی محنت اور ٹیم ورک کے ذریعے ملکی معیشت کو اپنے پائو ں پر کھڑا کیا، میکرو اکنامک استحکام بہت مشکل سے حاصل ہوا، یہی قوم کی منشا اور ہر پاکستانی کی آواز ہے کہ پاکستان کو عظیم بنائیں گے، بدقسمتی نے مذاکرات کو کامیاب بنانے کی ہماری کوششیں بار آور ثابت نہ ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف ملکی ترقی اور خوشحالی کا عمل جاری ہے اور دوسری جانب احتجاج کے باعث برآمدات، درآمدات اور مینو فیکچرنگ کا شعبہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے، دھرنوں اور احتجاج کی سیاست کا پہلا نشانہ معیشت ہوگی۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کیا ترقی کے پہیے تو دوبارہ جام کرنا ملک دشمنی نہیں، ہوش کے ناخن لیں اور دھرنوں کو ختم کریں، کیا آپ پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، مارچ اور دھرنے ختم کریں گے تو آپ کے ساتھ بات کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے دھرنوں اور لانگ مارچ کے بھیانک سائے دوبارہ نمودار ہورہے ہیں، اتفاق رائے سے طے کیا کہ پی ٹی آئی کی لیڈرشپ سے بامعنی، بامقصد مذاکرات کریں، مل بیٹھ کر باہمی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل ڈھونڈیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومتی کمیٹی نے پی ٹی آئی سے سپیکر چیمبر میں 2 دن بات چیت کی، امید کی جارہی تھی بات چیت سے مثبت نتائج ظاہر ہوں گے، بلکہ پرامید تھے بات چیت کے بعد دھرنوں کی سیاست کو خیرباد کہا جائے گا، بدقسمتی سے پی ٹی آئی وفد نے طے شدہ چیزوں میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ دریں اثناء محمد شہباز شریف نے موسم سرما میں گیس کی لوڈ مینجمنٹ کیلئے جامع لائحہ عمل مرتب کرنے اور پیشگی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔وزیراعظم کی زیر صدارت موسم سرما میں گیس لوڈ مینجمنٹ کے حوالے سے اجلاس ہوا، جس میں متعلقہ حکام نے گیس کی طلب و رسد اور لوڈ مینجمنٹ کے لئے کئے جانے والے پیشگی اقدامات پر بریفنگ دی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مقامی گیس کی فراہمی میں گھریلو صارفین کو ترجیح دی جائے گی، جبکہ بجلی کی پیداوار اور صنعتوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے آر ایل این جی کو ترجیح حاصل ہوگی، گھریلو سطح پر مقامی گیس کے بجائے متبادل ذرائع توانائی کے استعمال کو فروغ دینے کے لئے بھی عوامی آگہی مہم شروع کی جائے گی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک کے شمالی علاقوں میں موجود گیس کے ذخائر سے بلا تعطل ترسیل یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں، موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں گیس کی بلا تعطل درآمد کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی بھی وزیراعظم نے ہدایت کی۔علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن ٹیم کو حکومت سے مذاکرات سے متعلق ہدایات جاری کردیں ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی نے اس بارے میں اخونزادہ حسین یوسفزئی کے ذریعے اپوزیشن راہنمائوں کو پیغام بھجوا دیا ہے.ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی نے کہا کہ اگر حکومت رابطہ کرے تو مثبت جواب دیا جائے، حکومت کے رابطے پر پہلی شرط عمران خان سے ملاقات ہونی چاہیے محمود اچکزئی نے کہا کہ بہنوں کی رہائی سے حکومت مثبت پیش رفت کا آغاز کرسکتی ہے، اگر عمران خان سے ملاقات نہیں ہوتی تو وزیراعظم سے ملاقات بے معنی ہوگی،ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات نہ ہوئی تو وزیراعظم سے ملاقات سے انکار کا سوچا جا سکتا ہے۔