پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے، جس میں عدالت سے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی جانب سے متفرق درخواست کی صورت میں جمع کرائی گئی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ملک میں مہنگائی کے نئے طوفان کا سبب بنے گا اور اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوں گے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ عالمی منڈی کے رجحانات کے مطابق نہیں کیا جاتا، جس کے باعث عوام کو غیر ضروری مالی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے وزارتِ توانائی کے ذریعے نیا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 5 روپے فی لیٹر اضافہ کر کے نئی قیمت 258 روپے 17 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے 32 پیسے فی لیٹر اضافہ کر کے نئی قیمت 275 روپے 70 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق آئندہ 13 روز کے لیے کیا گیا ہے۔