حکومت نے ہمارا کھانا پینا بند کر رکھا ہے،پارلیمنٹ کے اردگرد سیکیورٹی بھی سخت ،عون عباس

 سہیل آفریدی کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور جو لوگ باہر ہیں انھیں اندر نہیں جانے دیا جا رہا،ہمارے مطالبات اپنی جگہ پر موجود ہیں
اسلام آباد(آئی این پی )پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر عون عباس نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے مطالبات پر قائم ہے جب تک عمران خان کے علاج سے متعلق ہمارے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے، پارلیمنٹ میں دھرنا جاری رہے گا۔ اپنے ایک آڈیو پیغام میں سینیٹر عون عباس نے دعوی کیا کہ حکومت نے دھرنے والوں کا کھانا پینا بند کر رکھا ہے۔ اس وقت 25 کے قریب ارکان پارلیمان دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ان کا کہناتھا کہ پارلیمنٹ میں ڈیوٹی پر آنے والے اہلکاروں کی بھی جامہ تلاشی لی جا رہی ہے، تاکہ وہ دھرنے والوں کو پانی کی بوتل، بسکٹ یا کوئی ٹافی نہ پہنچا سکیں۔عون عباس کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا ایک طرح سے محاصرہ کیا گیا ہے، اس وقت جو راشن اندر موجود ہے، صرف اسی پر مشکل سے گزارہ ہو رہا ہے۔ لیکن ہمارے مطالبات اپنی جگہ پر موجود ہیں۔دوسری جانب اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ پارلیمنٹ کے اردگرد سیکیورٹی کو سخت کیا گیا ہے اور یہاں تک آنے والے راستے بھی بند ہیں۔انھوں نے کہا کہ وزیر اعلی سہیل آفریدی خیبر پختونخوا ہائو س کے اندر ہیں جبکہ کچھ لوگ کے پی ہائو س کے باہر دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جا رہی اور جو لوگ باہر ہیں انھیں اندر نہیں جانے دیا جا رہا۔