وفاقی حکومت کی پالیسیوں، حالیہ قانون سازی، مذہبی طبقات کے تحفظات کے بعد مولانا فضل الرحمان متحرک

مولانا فضل الرحمان، علامہ ساجد نقوی اور حافظ نعیم الرحمان کے درمیاں ملاقاتوں میں اہم امور پر مشاورت ، غیر فعال ایم ایم اے کے قائدین کا اکٹھ غیر معمولی نوعیت کا ہے
 سابقہ ادوار میں جماعت اسلامی کے علاوہ دیگر جماعتوں سے مشاورت کی گئی،تاہم موجودہ مشاورتی عمل میں جماعت اسلامی بھی شریک ،احتجاجی تحریک سمیت دیگر امور پرمشاورت
اسلام آباد(آن لائن)وفاقی حکومت کی پالیسیوں، حالیہ قانون سازی، مذہبی طبقات کے تحفظات کے بعد سربراہ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمان متحرک ہوگئے اورمولانا فضل الرحمان، علامہ ساجد نقوی اور حافظ نعیم الرحمان کے درمیاں ملاقاتوں میں اہم امور پر مشاورت کر لی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق سابقہ ادوار میں جماعت اسلامی کے علاوہ دیگر جماعتوں سے مشاورت کی گئی،تاہم موجودہ مشاورتی عمل میں جماعت اسلامی بھی شریک رہی ہے۔ذرائع کے مطابق غیر فعال ایم ایم اے کے قائدین کا اکٹھ غیر معمولی نوعیت کا ہے،مولانا فضل الرحمان نے علامہ ساجد نقوی اور حافظ نعیم الرحمان کے بعد جے یو پی، جمعیت اہلحدیث کو بھی اعتماد میں لیا۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان اور علامہ ساجد نقوی کے درمیان سانحہ ترلائی کلاں، امن و امان کے علاوہ حالیہ قانون سازی پر بھی مشاورت ہوئی، حافظ نعیم الرحمان اور مولانا فضل الرحمان میں بھی امن و امان سمیت سیاسی معاملات پر مفصل گفتگو ہوئی۔ ذرائع کے مطابق مذہبی سیاسی طبقات کو گھریلو تشدد بل، کم سنی شادیوں بارے قانون سازی، بورڈ آف پیس پر تحفظات ہیں،مذہبی سیاسی جماعتوں کو خطے کی حالیہ صورتحال پر بھی تشویش ہے اور وفاقی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک سمیت دیگر امور پر ابتدائی مشاورت کررہے ہیں۔ذرائع کے مطابق مذہبی سیاسی جماعتوں کا ان اہم معاملات پر مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔مذہبی سیاسی جماعتوں نے ایک بار پھر ایم ایم اے جیسے سیاسی اتحاد پر بھی مشاورت کی، کچھ عرصہ قبل بھی ایم ایم اے فعالیت بارے مشاورت کی گئی مگر بات آگے نہ بڑھ پائی، ذرائع کے مطابق سابقہ ادوار میں جماعت اسلامی کے علاوہ دیگر جماعتوں سے مشاورت کی گئی،تاہم موجودہ مشاورتی عمل میں جماعت اسلامی بھی شریک رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کی کامیاب سیاسی حکمت عملی بھی زیر غور آئی۔