قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی کی گئی تو تسلیم نہیں کرینگے مولا نا فضل الرحمان

مجھے کہا جاتا ہے  آپ شریف آدمی ہیں کیوں سیاست کر رہے ہیں، قومی و ملی زندگی کی تدبیر کا نام سیاست ہے، سیاست ایک کھلا میدان ہے
منبر رسول پرعلماء کے علاوہ کوئی کھڑانہیں ہوسکتا، مسند سیاست کا بھی علما کے علاوہ کوئی مستحق نہیں ہوسکتا: سربراہ جے یو آئی  کا تقریب سے خطاب
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومتی اتحادیوں کی جانب سے کی جانے والی قانون سازی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے  قرآن و سنت کے خلاف قانون سازی کی گئی تو اس کو نہیں مانوں گا، سیاست شریف لوگوں کا کام نہیں رہا اور مجھے کہا جاتا ہے مولانا صاحب آپ شریف آدمی ہیں آپ کیوں سیاست کر رہے ہیں‘قومی و ملی زندگی کی تدبیر کا نام سیاست ہے، سیاست ایک کھلا میدان ہے اور حضور پاک نے بھی سیاست کا تذکرہ کیا۔انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب  کرتے ہوئے کہا  جیل بہت معمولی چیز ہے اور پھانسی بہت معمولی چیز ہے، اس سے آگے کوئی چیز ہو تو قبول کریں گے، ہمارا مؤقف بہت واضح ہے اور ایسی قانون کی پیروی مت کرو کیونکہ خالق کی نافرمانی پر مبنی قوانین کی پاسداری جائز نہیں ہے۔
انہوں نے کہا  سیاست کا درس یہی رہ گیا  دھاندلی کے ساتھ کسی طرح کرسی تک پہنچ جاؤں، دھاندلی سیکرسی تک پہنچنے والوں کو زبردست سیاست دان کہا جاتا ہے، سیاست شریف لوگوں کا کام نہیں رہا جبکہ سیاست انبیا کی وراثت ہے اور انبیا کا وظیفہ ہے۔انہوں نے کہا کہ علما انبیا کے وارث ہیں، منبر رسول پر علمائے کرام کے علاوہ کوئی کھڑا نہیں ہوسکتا، مسند سیاست پر بھی علما کے علاوہ کوئی مستحق نہیں ہوسکتا۔انہوں نے کہا  الیکشن میں ٹکٹ مل گیا تو ٹھیک ورنہ جماعت چھوڑ دی جاتی ہے، ہمارے ماحول میں نہ کوئی مشرک ہے نہ کوئی یہودی ہے لیکن انکی بری عادتیں ہمارے اندر آجاتی ہی، قرآن کریم بھی مخلص کارکن کا ذکر کرتا ہے، قرآن بھی کہتا ہے کہ کچھ کو مفاد مل جائے تو راضی نہ ملے تو ناراض ہو جاتے ہیں، مفاد پرست طبقے کو سمجھنا پڑے گا۔ ہمارے سیاست دان بھی یہی کہتے ہیں ہم بھی نماز پڑھتے ہیں، سیاست دان ملک کو جو نظام اور قانون دے رہے ہیں وہ کیا ہے، ہمیں کسی کے نماز روزے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ پارلیمنٹ میں کہا گیا کہ فضل الرحمان نے قانون کو چیلنج کیا ہے، میں کون ہوتا ہوں قانون کو نہ ماننے والا، جس قانون میں اللہ کی نافرمانی ہوگی اس کی اطاعت نہیں کی جا سکتی۔انہوں نے کہا  عام مسلمان کو پیغام دیتے ہیں کہ ایسے قانون کی پیروی مت کرو، جب سے آئین بنا ہے اسلامی نظریاتی کونسل بنی ہے قانون کو وہاں لے جاؤ، ایسی باتوں کو جذباتی یا غصہ نہیں سمجھنا ہوگا، برائی کے حجم کے مطابق ردعمل آئے گا، ہاتھی کے برابر برا عمل ہوگا تو اتنا ہی ردعمل آئے گا۔