سڈنی میں حالیہ دہشت گرد حملے کے بعد بھارت پر عالمی سطح پر دہشت گردی کی سرپرستی کے الزامات دوبارہ نمایاں ہو گئے ہیں۔
متعدد رپورٹس اور میڈیا دعووں کے مطابق یہ واقعہ بھارت کے ریاستی سطح پر دہشت گردی کے مبینہ کردار سے جوڑا جا رہا ہے، جسے پاکستان کئی مواقع پر اجاگر کر چکا ہے۔پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ بھارت نہ صرف مقبوضہ جموں و کشمیر اور پاکستان میں بلکہ کینیڈا، امریکا اور یورپی ممالک میں بھی دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے۔ سڈنی حملے کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ حملہ آور ساجد اکرم اور اس کا بیٹا نوید اکرم بھارتی نژاد تھے اور حملے سے قبل فلپائن کا سفر کر چکے تھے۔فلپائن امیگریشن حکام کے مطابق ساجد اکرم نے بھارتی پاسپورٹ کے ذریعے فلپائن کا سفر کیا، جہاں ان کی آخری منزل جنوبی صوبہ ڈاواؤ درج تھی۔ دونوں افراد یکم نومبر کو سڈنی سے فلپائن پہنچے اور 28 نومبر کو واپس روانہ ہوئے۔کچھ بین الاقوامی میڈیا اداروں کے مطابق آسٹریلوی سیکیورٹی ذرائع اس امکان کا جائزہ لے رہے ہیں کہ حملہ آوروں نے جنوبی فلپائن میں عسکری تربیت حاصل کی ہو۔
دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ نے اس معاملے پر ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جس سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یاد رہے کہ سڈنی میں ہونے والے حملے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے اور تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں۔یہ واقعہ عالمی سطح پر بھارت کی مبینہ دہشت گرد سرگرمیوں کے تعلقات پر دوبارہ توجہ مرکوز کر رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی برادری اس واقعے کی تحقیقات اور ممکنہ سرپرستی کی سچائی سامنے لانے کی کوشش کر رہی ہے۔