اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے عزم اور سوشل میڈیا پر سرگرم دہشتگرد عناصر کے خلاف حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔
طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر دنیا کو باور کروانا چاہتا ہے کہ وہ دہشتگردوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کرنے میں سنجیدہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے گمنام اکاؤنٹس جو دہشتگرد نیٹ ورکس سے منسلک ہیں، ان کی نشان دہی ہو چکی ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں ان سے متعلق مکمل معلومات فراہم کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ اکاؤنٹس نامعلوم آئی ڈیز اور جعلی شناختوں کے ساتھ چلائے جا رہے ہیں اور ممکنہ طور پر افغانستان یا دیگر علاقوں سے آپریٹ ہو رہے ہیں، لیکن ان کا مواد پاکستان کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔اس موقع پر بیرسٹر عقیل ملک نے بتایا کہ پاکستان دہشتگردی سے نہ صرف جانی نقصان اٹھا چکا ہے بلکہ مالی طور پر بھی سخت متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن گروہوں کے اکاؤنٹس کی نشان دہی کی گئی ہے، وہ نہ صرف پاکستان بلکہ اقوام متحدہ کی فہرست میں بھی کالعدم قرار دیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ عالمی سوشل میڈیا کمپنیوں کو نہ صرف ان دہشتگرد عناصر کے اکاؤنٹس بند کرنے چاہییں بلکہ پاکستان میں اپنے دفاتر بھی قائم کرنے چاہییں تاکہ بہتر رابطہ کاری ممکن ہو۔وزراء نے بتایا کہ اب تک 180 سے زائد مشتبہ اکاؤنٹس کی نشان دہی ہو چکی ہے اور مزید اکاؤنٹس پر بھی کام جاری ہے۔ پریس کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ پاکستان، دنیا بھر میں دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ اس ضمن میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرے۔انہوں نے عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے مطالبہ کیا کہ وہ صرف انتباہی کارروائیوں پر اکتفا نہ کریں بلکہ دہشتگرد نیٹ ورکس کی جڑیں کاٹنے میں عملی اقدامات کریں۔
Ask ChatGPT