پنجاب کے صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب میں امتحانی نظام ملک کے دیگر صوبوں سے بہتر ہے اور یہاں پورا پورا امتحانی سنٹر نہیں بکتا، یعنی امتحانات کے انتظامات اور شفافیت کے معاملے میں پنجاب نمایاں طور پر آگے ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ مریم نواز کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اے پی ایس کے شہداء کو خراج تحسین پیش کر رہی ہیں اور 16 دسمبر 2014 کو سانحہ اے پی ایس کا دن پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی لہر اب بھی جاری ہے اور افواج پاکستان دہشت گردی کے خلاف کامیابی کے ساتھ جنگ لڑ رہی ہیں، اسی لیے وہ اے پی ایس کے شہداء کے لیے دلی دعائیں کرتی ہیں۔عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ مریم نواز کے گورننس، شفافیت اور میرٹ کے ماڈل کی بھی تعریف کی، اور بتایا کہ برمنگھم میں بھی پنجاب کے گورننس ماڈل کی مثال دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں مختلف ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، جن میں شامل ہیں:
راولپنڈی میں دوسرا آئی ٹی سٹی، جبکہ پہلا لاہور میں بنایا جا رہا ہے۔
گوجرانوالہ میں نیا کارڈیالوجی ہسپتال بنایا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے 720 محنت کشوں کے فلیٹس کی قرعہ اندازی کی ہے، اور مزید 1872 فلیٹس اگلے 18 ماہ میں مکمل کیے جائیں گے۔
بیواؤں اور سپیشل افراد کو بغیر قرعہ اندازی کے فلیٹس فراہم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب نے گندم کی پیداوار میں نیا ریکارڈ قائم کیا ہے اور گندم کی پیداوار کے ہدف کو پورا کیا گیا ہے، اور یہ کہ محنت کشوں کے لیے معجزات ہو رہے ہیں، صرف کام نہیں بلکہ قابل تعریف نتائج سامنے آ رہے ہیں۔اس موقع پر صوبائی وزیر زراعت عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ یوریا کھاد بلیک مارکیٹ میں فروخت نہیں ہو رہی اور کھاد دکانوں پر دستیابی کے مسائل ختم ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں گندم کی پیداوار کے لیے درکار زمین 1 کروڑ 40 لاکھ ایکڑ تک پوری ہو رہی ہے۔مجموعی طور پر، صوبائی حکومت نے تعلیم، زراعت اور رہائشی منصوبوں میں شفافیت اور ترقی کے حوالے سے اپنی کامیابیوں کا خلاصہ پیش کیا ہے اور عوام کو یقین دلایا ہے کہ ترقیاتی کام جاری رہیں گے۔