پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی نئی فرنچائزز اور سرمایہ کاری کا ماڈل

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی نئی فرنچائزز اور سرمایہ کاری کا ماڈل

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پی ایس ایل میں ساتویں اور آٹھویں ٹیموں کے لیے فرنچائز ماڈل تیار کر لیا ہے، جس میں سرمایہ کاروں کے لیے اہم مواقع اور قواعد وضوابط شامل ہیں:

سرمایہ کاری اور بولی
پاکستان، برطانیہ، امریکہ اور دیگر ممالک کے کاروباری افراد نئی فرنچائزز میں سرمایہ کاری کے خواہشمند ہیں۔فرنچائز کے مالکان کا فیصلہ 8 جنوری 2026 کو ہونے والی نیلامی میں کیا جائے گا۔بولی دہندگان کو ٹیکنیکل پروپوزل میں مجوزہ ٹیم کا نام اور لوگو شامل کرنا ہوگا۔
مالی ماڈل اور آمدنی کی تقسیم
تمام فرنچائزز کو سینٹرل انکم پول سے 85% سے 95% تک حصہ دیا جائے گا۔ساتویں اور آٹھویں ٹیموں کو پی ایس ایل 11 سے اگلے 5 ایڈیشنز تک کم از کم 85 کروڑ روپے کی ضمانت دی جائے گی۔ اگر کسی ٹورنامنٹ میں آمدنی کم ہو تو پی سی بی کمی کو پورا کرے گا۔میڈیا رائٹس سے حاصل ہونے والی آمدنی میں سے ٹیکس، پروڈکشن اور لائسنسنگ فیس منہا کرنے کے بعد فرنچائزز کو 95% حصہ ملے گا۔سپانسر شپ اور ٹکٹس کی فروخت سے حاصل شدہ رقم میں بھی اتنا ہی شیئر دیا جائے گا۔سینٹرل لائسنسنگ انکم کا 85% حصہ فرنچائزز کو ملے گا۔
ٹیم کا نام اور لوگو
کامیاب فرنچائز ٹیم کے نام میں شہر کے ساتھ لاحقہ شامل ہو سکتا ہے، جس کی بورڈ سے پیشگی تحریری منظوری ضروری ہے۔موجودہ فرنچائزز کے نام جیسے قلندرز، کنگز، یونائیٹڈ، زلمی، گلیڈی ایٹرز اور سلطانز استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔لوگو میں کمرشل برانڈ یا موجودہ فرنچائزز کے نام شامل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
فرنچائز کی ملکیت اور ٹرانسفر
ابتدائی 3 سالہ مدت کے دوران فرنچائز کو بیچنے یا ملکیت منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔چوتھے سال میں، پی سی بی کی تحریری اجازت کے بعد فرنچائز منتقل ہو سکتی ہے، جس کے لیے سالانہ فرنچائز فیس کا 10% حصہ بطور ٹرانسفر فیس ادا کرنا ہوگا۔