روسی صدر ولادیمر پیوٹن نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے رواں سال کے دوران 189 یوکرینی علاقوں پر قبضہ کیا ہے، اور انہوں نے یوکرین میں امریکا کی مداخلت کو کشیدگی کی ایک اہم وجہ قرار دیا۔
امریکا کی یوکرین میں مداخلت
پیوٹن نے کہا کہ امریکا یوکرین کو ہتھیار اور دیگر امداد فراہم کرکے کشیدگی بڑھا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مغرب نے روس کو اس صورت حال پر جواب دینے پر مجبور کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے روس کے خلاف میزائل تعینات کیے، تو روس اپنی تمام رضاکارانہ پابندیاں واپس لے لے گا۔
جوہری ہتھیاروں کا ذکر
پیوٹن نے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے کہا کہ روس جوہری ہتھیاروں کی "برانڈنگ" نہیں کر رہا بلکہ یہ ایک نیوکلیئر ڈیٹرنس پالیسی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس اسٹریٹجک نیوکلیئر ہتھیاروں کی صلاحیت کو برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس میں کسی قسم کی کمی نہیں کرے گا۔
روس کی عسکری پالیسی
پیوٹن کی جانب سے یہ بیان اس وقت آیا جب عالمی سطح پر روس کی عسکری پالیسی اور یوکرین کے تنازعے پر شدید دباؤ بڑھ رہا ہے۔ روس نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور ان کے استعمال کی دھمکی دے کر مغربی ممالک کی توجہ حاصل کی ہے۔
مستقبل کی حکمت عملی
روسی صدر کا کہنا تھا کہ روس اپنی فوجی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی نہیں لائے گا اور جنگی صلاحیت کو مزید مستحکم کرے گا، خاص طور پر اسٹریٹجک نیوکلیئر ہتھیاروں کے میدان میں۔