یوکرین نے روس کی دو اہم آئل ریفائنریوں پر ڈرون حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن کے نتیجے میں دونوں مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، جبکہ ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرین نے رات کے وقت روس کے کراسنودار اور یاروسلاول کے علاقوں میں واقع دو آئل ریفائنریوں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔ وولودیمیر زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ان کارروائیوں کا مقصد روس کی جنگی صلاحیت اور ایندھن کی سپلائی کو کمزور کرنا ہے، اور یوکرین اپنی دفاعی کارروائیاں جاری رکھے گا۔رپورٹس کے مطابق حملوں میں سلاویانسک آئل ریفائنری بھی نشانہ بنی، جس کی یومیہ پیداواری صلاحیت تقریباً ایک لاکھ بیرل خام تیل ہے۔ کراسنودار کے گورنر نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ریفائنری میں شدید آگ لگ گئی، جس کے نتیجے میں قریبی گاؤں میں ایک شخص ہلاک جبکہ ایک اور زخمی ہو گیا۔ادھر یاروسلاول میں حملے کے بعد ماسکو جانے والے بعض اہم زمینی راستوں پر عارضی سفری پابندیاں عائد کر دی گئیں تاکہ سکیورٹی صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکے۔یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب گزشتہ ہفتے بھی ماسکو کے جنوب مشرق میں واقع ایک آئل ریفائنری پر بڑے ڈرون حملے کے بعد شدید آگ بھڑک اٹھی تھی۔ یوکرین کی جانب سے روس کے توانائی کے مراکز اور لاجسٹک نظام پر مسلسل حملوں کے باعث جنوبی روس اور روس کے زیرِ انتظام کریمیا میں ایندھن کی قلت، بجلی کی بندش اور راشن بندی جیسی صورتحال کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
یوکرین کا کہنا ہے کہ یہ حملے فروری 2022 سے روس کی جانب سے یوکرینی شہروں، شہری آبادی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملوں کا جواب ہیں۔دوسری جانب ولادیمیر پیوٹن نے حکمران جماعت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ روس اس وقت ایک "مشکل دور" سے گزر رہا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ ملک اپنی سرحدوں، شہریوں اور قومی سلامتی کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔ انہوں نے یوکرینی حملوں کو "دہشت گردی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس ان چیلنجز پر قابو پا لے گا۔ادھر یوکرینی فوج نے بھی دارالحکومت کیف پر روسی بیلسٹک میزائل حملے کی اطلاع دی ہے، جبکہ شہر کے حکام کے مطابق فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔