روس کی سکیورٹی سروس، ایف ایس بی، نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے ایک اعلیٰ روسی حکومتی عہدیدار کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔
ایف ایس بی کے مطابق، یہ منصوبہ اس وقت انجام دیا جا رہا تھا جب روسی اہلکار ماسکو کے قریب اپنے رشتہ داروں کی قبروں پر حاضری دے رہا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یوکرینی ایجنٹس نے اس حملے کی منصوبہ بندی کی تھی، مگر روسی سکیورٹی فورسز نے اس ناکام بنا دیا۔ایف ایس بی کا مزید دعویٰ ہے کہ یوکرین روس کے اندر اسی نوعیت کے مزید حملوں کی تیاری میں مصروف ہے۔ تاہم، یوکرین کی سکیورٹی سروس نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس “مسلسل جھوٹی خبریں” پھیلا رہا ہے۔یہ صورتحال اُس وقت سامنے آئی ہے جب کیف ایک بار پھر روسی فضائی حملوں کا نشانہ بنا ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق، حالیہ حملوں میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 27 زخمی ہوئے ہیں، جن میں دو بچے اور ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہیں۔ حملوں سے شہر کے مختلف علاقے متاثر ہوئے ہیں، جن میں 15 سے زائد عمارتیں اور ایک طبی مرکز بھی تباہ ہوا ہے۔دوسری جانب، یوکرین کے ڈرون حملے نے روس کے بندرگاہی شہر نووروسیئسک میں ایک آئل ڈپو کو نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں چار افراد زخمی ہوئے۔ اس حملے کا مقصد روس کی معیشتی سرگرمیوں کو نقصان پہنچانا بتایا گیا ہے۔
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دوران ٹارگٹ کلنگز اور اغوا کی کارروائیاں بھی بڑھتی جا رہی ہیں۔ مانیٹرنگ گروپ اے سی ایل ای ڈی کے مطابق، 2025 کے پہلے تین کوارٹرز میں روس کے اندر ہونے والی ٹارگٹ کلنگز پچھلے تین سال کے مجموعی اعداد و شمار سے زیادہ رہی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں، کئی روسی افسران کو کار بم دھماکوں اور خفیہ کارروائیوں میں مارا گیا ہے، جن کی ذمہ داری یوکرین نے قبول کی ہے۔ اسی طرح، یوکرین میں بھی سکیورٹی اہلکاروں کے قتل کے واقعات پیش آئے ہیں، جن کا الزام کیف نے روسی ایجنسیوں پر عائد کیا ہے۔