حمیدہ بانو، ایک بھارتی خاتون جو 2002 میں ایجنٹ کے ذریعے دبئی جانے کا وعدہ کرکے پاکستان کے شہر حیدرآباد پہنچ گئی تھیں، 22 سال بعد اپنے وطن بھارت واپس لوٹ آئی ہیں۔
حمیدہ بانو کے مطابق انہیں حیدرآباد میں بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا تھا، اور کچھ عرصہ بعد انہوں نے کراچی کے رہائشی شخص سے شادی کر لی تھی، جو کوویڈ 19 کے دوران انتقال کر گئے۔ وہ اس وقت اپنے سوتیلے بیٹے کے ساتھ رہائش پذیر تھیں۔حمیدہ بانو کی زندگی کے اس پیچیدہ معاملے کا آغاز 2022 میں ہوا جب ایک مقامی یوٹیوبر نے ان کی ویڈیو شیئر کی، جس میں انہوں نے اپنی کہانی بیان کی۔ اس ویڈیو کے ذریعے ان کے خاندان کا پتہ چل گیا، اور ان کی بیٹی، جو بھارت میں مقیم تھی، سامنے آئی۔
حکومت پاکستان نے اس معاملے کا نوٹس لیا اور بھارت سے حمیدہ بانو کی شہریت کی تصدیق کے بعد انہیں بھارت واپس بھیجنے کا انتظام کیا۔حمیدہ بانو نے پاکستان میں گزارے گئے سالوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ابتدائی برسوں میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن پاکستانی عوام کی محبت نے ان کے دل میں ایک خاص مقام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اب ان کا دوسرا گھر بن چکا ہے۔اس واقعے کے بعد، حمیدہ بانو کو واہگہ بارڈر کے ذریعے بھارت بھیجا گیا، جہاں وہ اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ ملنے کی خوشی میں وطن واپس جا رہی ہیں۔