انسانی سمگلرز کیخلاف کریک ڈائون شروع

 غیرقانونی طور پریورپ جانے کا کام نہ رک سکا،ڈیپورٹ ہونیوالوں کیخلاف کارروائی نہیں ہوتی 
لاہور ( کرائم رپورٹر)وفاقی حکومت کی بارہا کوششوں کے باوجود انسانی سمگلربارڈر کراسنگ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سینکڑوں پاکستانیوں کو ڈنکی کے ذریعے یورپ بھجوارہے ہیں ۔یونان میں کشتی حادثے کے بعد وزیر اعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بارڈر کراسنگ ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے ایجنٹس کے خلاف کریک ڈائون شروع کروادیا،پنجاب کے مختلف علاقوں میں موجود یونان بھجوانے والے انسانی سمگلرز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور ،سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، اسلام آباد اورکراچی اوردیگر ایئرپورٹس سے یونان کی ڈنکی لگانے والے سینکڑوں افراد بیرون ملک روانہ ہوچکے ہیں۔دبئی استنبول پہنچنے کے بعد ڈنکی لگانے والے اپنے پاسپورٹ اوردیگر سفری دستاویزات بیرون ملک موجود ایجنٹ کے ذریعے بدل لیتے ہیں ،انسانی سمگلرز کے ایجنٹس استنبول یا یورپ میں بیٹھ کر سارا گینگ آپریٹ کرتے ہیں۔ بارڈر کراسنگ کی سہولت حاصل کرنے کیلئے انسانی سمگلروں نے ایف آئی اے کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر کروڑوں کمائے ہیں۔ ہوائی سفر کے ذریعے لاہور سے دبئی اور استنبول سفر کرنے کی مد میں بھی ایجنٹس نے ملوث افراد کو رشوت دی۔استنبول سے یورپ جانے والے افراد کیلئے ایجنٹس اپنے قریبی عزیز و اقارب کی دستاویزات، پاسپورٹ اور بورڈنگ کارڈزاستعمال کرتے ہیں۔ یورب ، استنبول یا ایتھنز ایئر پورٹ سے ڈی پورٹ ہونے والے افرادکو ایف آئی اے پکڑتی نہیں۔انسانی سمگلر ایران اورترکی کے راستے یونان میں داخلے کیلئے سمندری راستے کو ترجیح دیتے ہیں تاہم ایسے میں گزشتہ روز جیسے کشتی کے حادثے معمول ہیں ۔ یونان کشتی حادثے میں بچنے والے زیادہ تر افراد کا تعلق وزیر آباد، گجرات ،گوجرانوالہ ،کھاریاں ،ملتان، جہلم، دینہ، گجرخاں، لاہور ،سیالکوٹ،سمبڑیال ،سوا ت اور کشمیر سے بتایاجاتاہے۔ دو سال قبل ہونے والے حادثے کے بعد بھی وفاق نے سخت ایکشن لینے کا حکم دیا تھا تاہم یہ سلسلہ نہیں رک سکا۔مختلف سکیورٹی اداروں کی جانب سے حکومت کو دی گئی رپورٹس سے ثابت ہوا کہ ایف آئی اے اہلکار وافسر انسانی سمگلروں سے رابطے میں رہتے ہیں، 18 ایسے افراد کو سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر عمران احمر نے دوبارہ کسی بھی ایئرپورٹ پر تعینات نہ کرنے کی سفارش کی تھی،الزام ثابت ہونے کے باوجود وہ افراد لاہور ایئرپورٹ پر ہی تعینات ہیں۔ لاہور، سیالکوٹ اورفیصل آباد ایئرپورٹس سے یونان بھجوانے کیلئے ایف آئی اے اہلکار 25 سے 30 لاکھ روپے وصول کرتے ہیں۔یورپ جانے والے غیرقانونی تارکین وطن پاکستان سے دبئی، استنبول اور ابوظہبی کی نسبت باکو سے یورپ جانے کی کوشش میں زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔