بھارتی ریاست گجرات کے شہر سورت میں ایک انتہائی انوکھا اور چونکا دینے والا واقعہ پیش آیا، جس میں ایک 32 سالہ شخص نے اپنی بائیں ہاتھ کی چار انگلیاں خود ہی کاٹ ڈالیں تاکہ وہ اپنے رشتہ دار کی ڈائمنڈ فرم میں کمپیوٹر آپریٹر کی ملازمت سے بچ سکے۔
اس شخص کا نام مایور تاراپارا تھا، اور اس کا تعلق گجرات کے شہر سورت سے ہے۔مایور نے ابتدائی طور پر پولیس کو یہ کہہ کر گمراہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ سڑک پر بے ہوش ہو گیا تھا اور جب ہوش میں آیا تو اس کے ہاتھ کی چار انگلیاں کٹی ہوئی تھیں۔ تاہم، تحقیقات کے دوران پولیس نے اس کے بیانات میں تضادات پائے اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ مایور نے خود ہی یہ عمل کیا تھا۔پولیس کے مطابق، مایور نے اپنی انگلیاں اس لیے کاٹیں کیونکہ وہ اپنے رشتہ دار کو بتانے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتا تھا کہ وہ اس کی کمپنی میں مزید کام نہیں کرنا چاہتا۔
اس نے یہ انتہائی قدم اٹھایا تاکہ وہ کام سے بچ سکے اور اس کا رشتہ دار اس کے فیصلے کو نہ جانے۔پولیس نے اس معاملے کی تحقیقات کے دوران مایور کی کٹی ہوئی تین انگلیاں ایک تھیلے سے برآمد کیں، جبکہ چوتھی انگلی کا پتا لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک چاقو بھی تھا، جس سے مایور نے اپنی انگلیاں کاٹی تھیں۔ پولیس نے مایور کے اس عمل کو خود ساختہ سمجھا اور اس کے اعتراف کے بعد مقدمہ درج کیا۔یہ واقعہ نہ صرف مایور کے انتہائی قدم کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس کی ذہنی حالت اور ملازمت سے بچنے کے لیے کیے گئے غیر معمولی اقدام کی عکاسی کرتا ہے۔