نیب لاہور کو 2 لاکھ جرمانہ، پرویز الہٰی کی درخواست مسترد

نیب لاہور کو 2 لاکھ جرمانہ، پرویز الہٰی کی درخواست مسترد

نیب لاہور کو 2 لاکھ روپے جرمانہ کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا گیا۔ جسٹس طارق سلیم شیخ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے نیب لاہور کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔

 نیب لاہور نے پرویز الہٰی کی انکوائری میں گواہوں کے بیانات کی کاپیاں فراہم کرنے کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت ملزم کو فیئر ٹرائل کا حق دیا گیا ہے، اور نیب کے قانون کے مطابق انکوائری کے دوران گواہوں کے بیانات کی کاپیاں ملزم کو دی جا سکتی ہیں۔ فیصلہ میں مزید کہا گیا کہ نیب آرڈیننس کے سیکشن 18 سی کے تحت انکوائری کو تحقیقات میں تبدیل کرنے پر کاپیاں فراہم کی جا سکتی ہیں۔

نیب کی جانب سے کہا گیا کہ انکوائری کے دوران گواہوں کے بیانات کی کاپیاں دینے کا حق نہیں ہے، اور نیب پراسیکیوٹر نے احتساب عدالت کے فیصلے کو حقائق کے خلاف قرار دیا تھا۔ تاہم، عدالت نے نیب کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے 2 لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔پرویز الہٰی نے ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن کے ریفرنس میں گواہوں کے بیانات کی کاپیاں مانگی تھیں۔