احتساب عدالت نے پرویز الہٰی کی مستقل حاضری معافی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

احتساب عدالت نے پرویز الہٰی کی مستقل حاضری معافی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا

لاہور: کرپشن اور کک بیکس کے ریفرنس میں احتساب عدالت لاہور نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کی مستقل حاضری معافی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

احتساب عدالت کے جج زبیر شہزاد کیانی نے پرویز الہٰی اور دیگر ملزمان کے خلاف گجرات ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کرپشن اور کک بیکس کے ریفرنس پر سماعت کی۔

پرویز الہٰی عدالت میں پیش نہ ہوئے
آج کی سماعت میں بھی سابق وزیر اعلیٰ پرویز الہٰی عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جس پر ان کے وکیل نے ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست دائر کی، جو عدالت نے منظور کر لی۔

مستقل حاضری معافی کی درخواست پر دلائل مکمل
پرویز الہٰی نے عدالت میں حاضری سے مستقل استثنا کی درخواست بھی جمع کرا رکھی تھی، جس پر آج فریقین نے اپنے دلائل مکمل کر لیے۔ ان کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ پرویز الہٰی عمر رسیدہ اور بیمار ہیں، ڈاکٹرز نے انہیں مکمل بیڈ ریسٹ کی ہدایت دی ہے، اس لیے عدالت انہیں مستقل حاضری سے معاف کرے اور ان کی جگہ انوار حسین کو پلیڈر مقرر کیا جائے۔

نیب پراسیکیوٹر کی مخالفت
نیب کے پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ نے اس درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پلیڈر مقرر کرنے کے لیے پرویز الہٰی کا عدالت میں پیش ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ پرویز الہٰی ماضی میں عدالت میں پیش ہوتے رہے ہیں، لہٰذا انہیں کم از کم ایک بار طلب کیا جائے۔

دیگر ملزمان کی حاضری معافی درخواستیں بھی دائر
سابق پرنسپل سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی نے بھی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست دائر کی، جس پر عدالت نے ابھی فیصلہ نہیں سنایا۔

گواہ کا بیان قلمبند
نیب کے گواہ، ڈپٹی سیکرٹری لوکل گورنمنٹ امجد علی نے عدالت میں اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ترقیاتی اسکیموں کا تمام ریکارڈ عدالت میں پیش کر دیا ہے اور گجرات کے ترقیاتی منصوبوں کی منظوری پنجاب اسمبلی اور کابینہ نے دی تھی۔ ملزمان کے وکلاء نے گواہ کے بیان پر جرح بھی مکمل کر لی۔

پسِ منظر
نیب نے سابق وزیر اعلیٰ پرویز الہٰی اور دیگر ملزمان پر ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ کک بیکس اور رشوت لینے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ عدالت نے اس کیس میں پرویز الہٰی سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم بھی عائد کر رکھی ہے۔احتساب عدالت نے کیس کی مزید سماعت 27 فروری تک ملتوی کر دی۔