پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے اپنی کوچنگ سے استعفیٰ دینے کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ انہیں ہائی پرفارمنس کوچ ٹم نیلسن کو نہ رکھنے کے فیصلے سے مکمل بے خبر رکھا گیا، جس کی وجہ سے ان میں ناراضی پیدا ہوئی۔
آسٹریلین میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں گلیسپی نے کہا کہ اس معاملے نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا ان کی کوچنگ کی ضرورت ہے یا نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک اہم فیصلے کے بارے میں آگاہ نہ کیا جانا ان کے لیے کافی مایوس کن تھا۔گلیسپی کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ تھا، لیکن کچھ وقت بعد ان کا کام صرف میچ کی صبح کیچنگ پریکٹس تک محدود ہوگیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہیڈ کوچ کا سلیکٹرز اور دیگر اسٹاف کے ساتھ مکمل رابطہ ضروری ہے تاکہ منصوبہ بندی اور فیصلے وقت پر کیے جا سکیں۔انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ انگلینڈ کے خلاف پہلے میچ کے بعد انہیں نئی سلیکشن کمیٹی کے بارے میں ایک ٹیکسٹ میسج کے ذریعے اطلاع ملی، جو کہ ایک غیر پیشہ ورانہ طریقہ تھا۔جیسن گلیسپی نے یہ بھی بتایا کہ بابر اعظم کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ نئی سلیکشن کمیٹی کا تھا، اور اس پر ان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔