لاہور ہائی کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف بیانات کی نشریات رکوانے کی درخواست پر سماعت ہوئی، جسے عدالت نے مزید کارروائی کے بغیر غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا۔
اہم نکات:
درخواست گزار کے وکیل کا موقف:
درخواست گزار کی جانب سے سردار خرم لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ درخواست میں شامل ٹی وی چینلز بطور پرفارما فریق ہیں، اس لیے ان کے مکمل پتہ جات فراہم کرنا ضروری نہیں۔
عدالت کے ریمارکس:
جسٹس فاروق حیدر نے وکیل سے استفسار کیا کہ درخواست میں شامل ٹی وی چینلز کے مکمل پتہ جات فراہم کیوں نہیں کیے گئے۔عدالت نے واضح کیا کہ مکمل پتہ جات کے بغیر نوٹس جاری کرنا ممکن نہیں ہوگا۔جسٹس فاروق حیدر کا وکیل سے مکالمہ:"آپ نے درخواست میں لکھا ہے کہ یہ ٹی وی چینلز نشریات چلا رہے ہیں۔""ٹی وی چینلز کے مکمل ایڈریس کے بغیر ان کو نوٹس کیسے دیا جائے گا؟"
حکومتی نمائندگی:
پنجاب حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل محمد فرخ خان لودھی عدالت میں پیش ہوئے۔
فریقین:
درخواست میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور متعدد ٹی وی چینلز کو فریق بنایا گیا ہے۔
فیصلہ:
عدالت نے وکیل درخواست گزار کو ہدایت دی کہ آئندہ سماعت سے قبل فریقین کے مکمل پتہ جات فراہم کریں اور کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔
پس منظر:
درخواست پی ٹی آئی رہنما اکمل خان نے دائر کی تھی، جس میں پیمرا اور دیگر چینلز کو بانی پی ٹی آئی کے خلاف بیانات نشر کرنے سے روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔