جمعیت علمائے اسلام نے 26 ویں ترمیم میں وعدہ خلافی پر کارکنوں کو احتجاج کیلئے تیار رہنے کی ہدایت کردی

فضل الرحمن حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی 
حکومت ،جے یوآئی میں نئے مدارس بل پر ڈیڈلاک برقرار۔ بیک ڈوررابطے اور مشاورت جاری ،پارلیمنٹ کیمشترکہ اجلاس کی سمری صدر کو ارسال،جے یوآئی نیپختونخوامیں قانون سازی کیلئے پی ٹی آئی سے مدد مانگ لی
لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)مولانا فضل الرحمن نے حکومت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجادی، حکومت ،جے یوآئی میں نئے مدارس بل پر ڈیڈلاک برقرار۔ بیک ڈوررابطے اور مشاورت جاریجمعیت علمائے اسلام پنجاب نے کارکنوں کو احتجاج کیلئے تیار رہنے کی ہدایت کردی۔ترجمان جییوآئی پنجاب کے مطابق 26 ویں ترمیم میں وعدہ خلافی پرکارکن احتجاج کیلئے تیار رہیں۔ترجمان نے کہا کہ ہم مفاہمت پریقین رکھتے ہیں لیکن حکمران مزاحمت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ترجمان نے بتایاکہ مدارس رجسٹریشن بل عالمی قوتوں کی خوشنودی کیلئے روکا جارہا ہے۔دینی مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق نئے بل پر حکومت اور جے یو آئی (ف )کے درمیان ڈیڈلاک برقرار تاہم بیک ڈوررابطے اور مشاورت جاری ہے، اس حوالے سے جے یو آئی ف اور پی ٹی آئی کے درمیان بھی سیاسی رابطہ ہوا ہے ، جے یو آئی نے سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل کے تناظر میں خیبرپختونخوا میں قانون سازی کے لئے پی ٹی آئی سیبھی مدد مانگ لی۔دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نیصدر مملکت آصف علی زرداری کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کی ایڈوائس بھجوا دی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 17 دسمبر کو دن 11 بجے بلانے کی ایڈوائس بھیجی ہے، مشترکہ اجلاس میں دینی مدارس کی رجسٹریشن سمیت آٹھ بلز کی منظوری کا امکان ہے ، سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل کے حوالے سے پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر اور جے یوآئی ف کے سینیٹر کامران مرتضیٰ کی ملاقات ہوئی، ملاقات میں سیاسی صورتحال اور سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل سے پیدا شدہ صورتحال پر مشاورت کی گئی۔ ملاقات میں دوطرفہ سیاسی تعاون کے حوالے سے بھی گفتگو ہوئی، اس موقع پر اسد قیصر نے کہا کہ جے یو آئی بتائے کہ پی ٹی آئی مدارس کے مسئلے پر جے یو آئی کی کیا مدد کرسکتی ہے۔ کامران مرتضیٰ نے کہا کہ پی ٹی آئی پہلے آپس میں مشاورت کر کے طے کر لے کہ جے یو آئی کے ساتھ چلنا چاہتی ہے یا نہیں؟، کامران مرتضیٰ نے پی ٹی آئی رہنمائوں کی طرف سے جے مدارس سے متعلق متضاد بیانات کی بھی نشاندہی کی۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی مدد کرنا چاہتی ہے تو سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل کی روشنی میں دینی مدارس سے متعلق خیبر پختونخوا اسمبلی بھی قانون سازی کرے، مرکز سے منظور ہونے والے بل کا دائرہ کار صرف اسلام آباد تک ہوگا۔ جے یو آئی پنجاب، سندھ اور بلوچستان اسمبلی سے بھی قانون سازی کے لئے صوبائی حکومتوں اور سیاسی قیادت سے بات کرے گی۔ جے یو آئی ف کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کے پاس کردہ دینی مدارس رجسٹریشن بل پر ایوانِ صدر کے اعتراضات سے بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے۔ بیان میں ان کا کہنا ہے کہ بل پر اعتراضات سے ثابت ہو گیا کہ اصل مقصد مدارس کو فیٹف کے حوالے کرنا ہے ، رہنما جے یو آئی ف نے کہا کہ یہ بھی ثابت ہو گیا کہ یہ پارلیمنٹ پاکستان کی نہیں بلکہ فیٹف کی پارلیمنٹ ہے، اسلامی جمہوریہ پاکستان قانون سازی میں آج بھی آزاد نہیں ہے۔ ایوانِ صدر کے بابوئوں نے سوسا ئٹیز ایکٹ پڑھا ہی نہیں ورنہ اعتراضات اٹھانے کی نوبت نہ آتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایوانِ صدر قوم کو بتائے کہ آج تک فائن آرٹ کے کتنے ادارے ہیں۔ حافظ حمد اللہ کے بیان پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ردعمل میں کہا ہے کہ مدارس بل پر صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات میں فیٹف کا ذکر ہے اور نہ ہی کوئی تعلق، بل پر جو اعتراضات لگائے ہیں وہ قانونی اور آئینی ہیں، عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ قانونی اور آئینی معاملات پر سیاست کرنا کسی کے حق میں نہیں، مدارس کی رجسٹریشن کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (فیٹف) سے جوڑنا بے سروپا تخیّل اور خیال آرائی کے مترادف ہے۔ قانون سازی کا طریقہ کار آئین میں واضح ہے، صدر مملکت نے آئینی اعتراضات لگائے ہیں اوران کی تصحیح بھی آئینی طور پرپارلیمان سے ہونی ہے۔اس معاملے پر غیر ضروری بیان بازی اور تنقید برائے تنقید سے صدر اور پارلیمنٹ کے اختیارات کو ہدف بنانے سے گریز کیا جائے۔ مدارس رجسٹریشن بل کے حوالے سے گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر نے کہا ہے کہ صدر آصف علی زرداری نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی ، چکوال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مدارس بل پر علماء￿  کرام کی مختلف تجاویز ہیں جس کو ایک پیج پر لانا ہے، مولانا فضل الر حمن سمیت تمام علماء￿  کرام کو ایک پیج پر لانا چاہتے ہیں ، مدارس رجسٹریشن کا ایسا بل لانا ہے جو تمام مدارس کو قبول ہو۔ اس حوالے سے چیئرمین پاکستان علماء￿  کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا ہے کہ مدارس کی رجسٹریشن پر کوئی سمجھو تا ممکن نہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اختلاف اس بات پر ہے کہ جو مدارس وزارتِ تعلیم سے منسلک ہو گئے ان سے متعلق منفی قانون سازی نہ ہو۔ طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ مدارس اپنا آڈٹ بھی کرواتے ہیں، حسابات سب کے لیے کھلے ہیں، کوئی مدارس کے حسابات چیک کرنا چاہتا ہے تو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ کسی عالمی قوت کو پاکستان کے نظام میں مداخلت کا حق نہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ فیٹف سے متعلق ماضی میں بھی مدارس کی کوئی شکایت نہ تھی اور نہ ہی اب ہے۔ طاہر اشرفی نے یہ بھی کہا کہ گا لم گلوچ اور الزام تراشی سے مدارس کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ادھر جمعیت علمائے اسلام پنجاب کے ترجمان حافظ غضنفرعزیز نے کارکنان کواحتجاج کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو 26 ویں آئینی ترمیم میں وعدہ خلافی مہنگی پڑے گی۔جمعیت علمائے اسلام صوبہ پنجاب نے 26ویں آئینی ترمیم میں حکومت کی جانب سے وعدہ خلافی پر غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی قیادت کے حکم پر احتجاج کرنے کے لیے تیار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت کے اعتراضات سامنے آمنے کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا ہے۔