پختونخوا، سیلاب سے تباہی ،قیامت صغریٰ برپا
بونیر میں 157لاشیں بر آمد، سینکڑوں زخمی و لاپتہ ،باجوڑ میں 75 ،بٹگرام میں 13 ،سوات میں 5اموات، ہیلی کاپٹر گرنے سے پائلٹوں سمیت 5 افراد شہید ، آزادکشمیر میں بھی 9 افراد جان سے گئے ،سینکڑوں گھر،بیسیوں پْل تباہ،مختلف علاقوں میں سینکڑوں افراد کو بچالیا گیا ، گلگت میں کئی افرادریلوں میں بہہ گئے ،دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب ، متعدد بستیاں زیرِ آب
پشاور، اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں، کلا ئوڈ برسٹ ،لینڈ سلائیڈنگ اورسیلابی ریلوں نے بڑے پیمانے پر تباہی مچادی ، 250سیزائد افراد جاں بحق ہو گئے ، سینکڑوں افراد زخمی ہوگئے ، صرف بونیر سے 157لاشیں بر آمد کرلی گئیں،سینکڑوں لاپتہ ہیں ، سب سے زیادہ نقصان ضلع باجوڑ ، بٹگرام اوربونیر میں ہوا ،خیبرپختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر امدادی کارروائی کے دوران کریش ہو گیا جس کے نتیجہ میں 5 افراد شہید ہوگئے۔بونیر میں ایمرجنسی نافذ ، پاک فوج کا بھی متاثرہ علاقوں میں ریلیف آپریشن شروع،صوبائی حکومت کا آج صوبہ بھر میں سوگ منانے کا اعلان ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر متاثرہ اضلاع کیلئے50 کروڑ روپے کے امدادی فنڈز جاری کر دیئے گئے ہیں جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہنگامی اجلاس میں متاثرہ علاقوں میں پھنسے شہریوں اور سیاحوں کو فوری محفوظ مقامات پر منتقل کرنے ، خیمے، ادویات، اشیائے خورونوش اور دیگر امدادی سامان ترجیحی بنیادوں پر ٹرکوں کے ذریعے فوری روانہ کرنے کی ہدایات جاری،گورنر اور وزیراعلیٰ پختونخوا کو فون کیا ۔تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں بونیر، بٹگرام، باجوڑ ، مانسہرہ ،سوات میں کلا ئوڈ برسٹ ،سیلابی ریلوں ،لینڈ سلائیڈنگ اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات نے تباہی مچا دی، سینکڑوں گھر صفی ہستی سے مٹ گئے۔ضلع بونیر میں سیلاب کئی گا ئوں بہا لے گیا، 157 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں، سینکڑوں زخمی اور اتنے ہی لاپتہ ہیں،جاں بحق افراد میں 9 خواتین ، 128 مرد اور 13 بچے بھی شامل ہیں۔ڈپٹی کمشنر بونیر کاشف قیوم نے کہا ہے کہ بونیر کے علاقوں گوکند اور پیربابا سمیت دیگر مقامات پر سیلابی صورتحال ہے،مختلف علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی، کئی شہری گھروں کے چھتوں پر امداد کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بونیر پیربابا میں جس طرح نوجوانوں نے جان پر کھیل کر پنجاب سے آئی فیملی کی جان بچائی اس کی مثال نہیں ملتی۔ ریسکیو 1122 کے میڈیا کو آرڈینیٹر محمد سہیل کے مطابق اب تک 157 سے زائد لاشیں نکالی جا چکی جبکہ 100 سے زائد افراد کو بچا کر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ،صورتحال نہایت سنگین ہے اور متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہیں۔ضلع بونیر کی تحصیل گدیزی کے بیشونی، ملک پور، بلوخان اور قریبی علاقے ، تحصیل ڈگرکے گوکند، کوٹ سمیت متعدد مقامات اور تحصیل چغرزئی کے گل باندی، درگہ چینہ سمیت دیگر مقامات سیلاب کی زد میں ہیں۔تحصیل گدیزی میں 120 سے زائد لاشیں ،تحصیل ڈگر میں 15 لاشیں بر آمد ہو چکیں، تحصیل چغرزئی میں ایک ہی گھر کے 22 افراد ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوئے جبکہ متعدد زخمی ہیں، جنہیں ٹی ایچ کیوں گل باندی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ۔ ڈپٹی کمشنر باجوڑ شاہد علی نے بتایا کہ باجوڑ کے تحصیل سلارزئی میں بادل پھٹنے اور آسمانی بجلی گرنے سے 75 افراد جاں بحق ہو گئے جن میں سے 18 کی لاشیں بر آمد کر لی گئیں جبکہ 3 افراد کی تلاش جاری ہے۔ جاں بحق افراد میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، کئی مکانات تباہ ہوگئے۔ ریسکیو ٹیمیں بھاری مشینری کے ذریعے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ لوئر دیر کی تحصیل میدان سوری میں طوفانی بارش کے باعث ایک رہائشی مکان کی چھت اچانک زمین بوس ہو گئی، ملبے تلے دبے 7 افراد کو نکال لیا گیا، جن میں سے 5 جاں بحق اور 2 زخمی ہو گئے۔ علاوہ ازیں پختونخوا حکومت کا ایم آئی 17ہیلی کاپٹر باجوڑ میں امدادی سامان لے جاتے ہوئے خراب موسم کے باعث ضلع مہمند کی تحصیل سوکئی بانڈہ میں کریش کر گیا جس کے نتیجہ میں 2 پائلٹوں سمیت عملہ کے 5 افراد شہید ہوگئے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے حادثہ کی تصدیق کر دی ہے، کے پی حکومت کا دوسرا ہیلی کاپٹر ضلع بونیر میں ریسکیو کارروائیوں میں مصروف ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈز پور نے کہا کہ صوبہ بھر میں آج(بروز ہفتہ )یوم سوگ ہو گا،ہیلی کاپٹر حادثے کی جگہ پر امدادی ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں، شہداء کی میتوں کو پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا، شہداء کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں ، ہیلی کاپٹر عملے نے دوسروں کی جائیں بچانے کے لئے اپنی جانیں قربان کردیں، یہ ہمارے اصل ہیرو ہیں۔اپنے ویڈیو بیان میں وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے مزید کہا ہے کہ ملاکنڈ اور ہزارہ ڈویڑنز میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں ، نقصانات کا مکمل ازالہ کیا جائیگا،مشکل کی اس گھڑی میں صوبائی حکومت عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ہمارا فوکس سرچ اینڈ ریسکیو پر ہے، ریسکیو ٹیمیں ضلع بونیر کے لیے پہنچ رہی ہیں۔انہوں نے لوگوں سے محتاط رہنے کی اپیل کی اور کہاکہ جب تک سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مکمل نہ ہو، تمام ممبران قومی و صوبائی اسمبلی، صوبائی وزرا اور ناظمین متاثرہ علاقوں رہیں۔جبکہ صدرِ مملکت آصف علی زردای نے ہیلی کاپٹر حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہید پائلٹس اور اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیاہے ، انہوں نے کہا حادثے میں شہید ہونے والے قوم کے ہیرو ہیں۔جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ہدایت پر صوبائی حکومت نے بونیر کو 15 کروڑ،باجوڑ،بٹگرام اور مانسہرہ کو 10، 10کروڑ اور سوات ?و 5 ?روڑ روپے کے فنڈز جاری کر دیئے ہیں۔دوسری طرف سوات اور باجوڑ میں پاک فوج اور فرنٹیئر کور کا فلڈ ریلیف آپریشن بھی جاری ہے ، پاک فوج کی ٹیمیں متاثرہ اضلاع میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں ، آئی جی ایف سی نارتھ کا ہیلی کاپٹر بھی امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہے، سیلاب زدہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل بھی کیا جارہا ہے۔ راشن اور ادویات کی فراہمی بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر کی جا رہی ہے۔ ادھر بٹگرام اور مانسہرہ کے سرحدی گا ئوں نیل بند میں رات گئے طوفانی بارش ، آسمانی بجلی گرنے اور سیلابی ریلے میں 18افراد جاں بحق ہو گئے، 4 گھر بہہ گئے۔اسسٹنٹ کمشنر بٹگرام محمد سلیم خان کے مطابق 26 افراد لاپتہ ہیں،اب تک 12 افراد کو زندہ بچا لیا گیا ۔ مقامی افراد، ریسکیو اہلکار، ریونیو عملہ اور الخدمت فا ئونڈیشن کے رضاکار ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ وی سی ملکال گلی کے مقامی رہائشی نور قدیم شاہ کے مطابق دیہاتیوں نے دودھ پتی اور تھوہر کے علاقوں سے 9 لاشیں نکالی ہیں، 15 مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ سیلابی ریلے سے شملائی مندروالی کے مقام پر اب تک 10 لاشیں ندی سے بر آمد کر لی گئیں۔ضلع مانسہرہ کے علاقے بسیاں میں سیلابی ریلے میں ایک کار بہہ گئی جس میں سوار 6 افراد میں سے 3 جاں بحق ہو گئے جبکہ 3 کو زندہ بچا لیا گیا۔تھانہ گڑھی حبیب آکی حدود خیر آباد میں بارش کے باعث ایک مکان گرنے سے ماں اور بیٹی جاں بحق ہو گئیں جبکہ ایک کمسن بچی کو ملبے سے زندہ نکال لیا گیا دیگر متاثرہ علاقوں میں بھی ریسکیو کارروائیاں کی گئیں۔ پولیس کے مطابق علاقے میں کئی مکانات تباہ اور بڑی تعداد میں مال مویشی سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں ۔ سوات کے مختلف علاقوں میں دریا ئوں اور برساتی نالوں میں طغیانی آ گئی اورپانی گھروں میں داخل ہو گیا، اسلام پورہ روڈ شگئی میں متعدد گاڑیاں برساتی پانی میں پھنس گئیں، شگر میں گلیشیئر پگھلنے سے سیلاب کے باعث متعدد دیہات متاثر ہو گئے، ریلے میں بہہ کر ایک نوجوان سمیت 10 افراد جاں بحق جبکہ 13 افراد زخمی ہوئے ، مختلف سکولوں میں پھنسے 900 بچوں کو اور گھروں میں محصور خواتین کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔علاوہ ازیں شاہی اور شاہی کوٹ میں ندی نالیوں میں طغیانی سے درجنوں سیاح پھنس گئے ، اطلاع ملنے پر لوئر دیر اور اپر دیر کی ریسکیو ٹیم نے 25 سے زائد پھنسے سیاحوں کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔ڈپٹی کمشنر سوات کے مطابق مالم جبہ روڈ کا 400 میٹر حصہ گل میرہ کے مقام پر سیلابی ریلے میں بہہ گیا، مکانباغ اور ملابابا کے علاقے زیر آب آگئے جس کے باعث لوگوں نے عمارتیں خالی کر دیں۔مینگورہ خوڑ، ہزارہ خوڑ، خوازہ خیلہ سمیت دیگر مقامات میں طغیانی کے بعد ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیاہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق مینگورہ شہر، تحصیل چارباغ، خوازہ خیلہ، مدین، کبل اور بریکوٹ میں سیلاب صورتحال ہیں۔سوات سیدو شریف روڈ پر پانی کی سطح میں اضافہ سے دریا کنارے آبادی میں پانی داخل ہوگیا۔منگلور کے علاقے بیش بنڑ یخ تنگے میں آسمانی بجلی گر گئی جس میں کئی گھر زد میں آگئے، آسمانی بجلی گرنے سے ایک بچی جاں بحق اور متعدد افراد لاپتا ہیں۔منڈا ہیڈ کے قریب دریائے سوات میں پھنسے ہوئے 15 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق محصور افراد لکڑیاں، مچھلیاں اور جانوروں کا چارہ کاٹنے کے لیے دریا کے قریب گئے تھے لیکن دریائے سوات میں اچانک طغیانی اور پانی کا بہا ئو تیز ہونے کی وجہ سے 15 افراد پھنس گئے۔ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے کامیاب ریسکیو آپریشن کرکے تمام محصورین کو بحفاظت نکال لیا۔ علاوہ ازیں بونیر، باجوڑ، مانسہرہ اور بٹگرام کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے۔ دوسری طرف آزادکشمیر میں طوفانی بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ سے 9 افراد جاں بحق اور 2 زخمی ہوگئے ہیں، متعدد پل، رابطہ سڑکیں اور مکانات تباہ ہو گئے، وادی نیلم میں کلا ئوڈ برسٹ سے 6 رابطہ پل اور گیسٹ ہا ئوسز بہہ گئے جبکہ سینکڑوں سیاح محصور ہو گئے ،رتی گلی جانے والی سڑک مختلف مقامات پر بہنے سے بیس کیمپ میں پھنسے 800 سیاحوں کو ریسکیو کرلیا گیاہے ، لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کشمیر کو راولپنڈی سے ملانے والی شاہراہ کوہالہ اور شاہراہ نیلم بھی متعدد مقامات پر بند، سری نگر مظفر آباد سیکشن متعدد مقامات اور لیپہ مظفر آباد شاہراہ مٹی کی تودے گرنے سے بند ہوگئی۔ آزاد کشمیر حکومت نے دو روز کے لیے تعلیمی ادارے بند کر دیئے ہیں۔ گلگت بلتستان میں بھی سیلابی ریلوں سے مختلف وادیوں میں تباہی مچ گئی، چلاس کے اوچھار نالے میں کئی افراد بہہ گئے۔بارش کے باعث فصلیں، مکانات، باغات، رابطہ پل اور واٹر چینل تباہ ہوگئے۔ استور میں سیلاب سے تیار فصلیں، دکانیں، درخت اور کئی موٹرسائیکلیں بہہ گئیں، شاہراہِ قراقرم بند ہونے سے گلگت اور راولپنڈی کے درمیان زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔سکردو میں کئی رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں، سدپارہ ڈیم کا واٹر چینل سیلاب میں بہہ گیا، پاور ہا ئوسز بند ہوگئے۔ یارد رہے ایک روز قبل بھی گلگت بلتستان کے ضلع غذر اور دیامر میں بھی سیلاب سے 10 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے ، غذر کے سیلاب متاثرہ علاقہ میں پاک فوج کا پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے، اس دوران مٹی اور ملبے میں دبے 7 افراد میں سے 4 کی لاشیں نکالی جا چکیں، ایک بچے کو زندہ حالت میں ملبے کے نیچے سے نکالا جا چکا۔دریں اثناء سندھ میں تھرپارکر کے علاقہ میں بارش اور آسمانی بجلی گرنے سے 52 مویشی ہلاک ہو گئے ہیں۔ ادھر اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں حالیہ بارشوں و سیلابی صورتحال پر ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت دی کہ خیبرپختونخوا میں متاثرہ علاقوں میں پھنسے شہریوں اور سیاحوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات تک پہنچایا جائے، جبکہ خیمے، ادویات، اشیائے خورونوش اور دیگر امدادی سامان ترجیحی بنیادوں پر ٹرکوں کے ذریعے فوری روانہ کیا جائے۔انہوں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو ہدایت دی کہ ریسکیو و ریلیف آپریشن میں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ اجلاس کے دوران چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وزیراعظم کو نقصانات بارے تفصیلی بریفنگ دی اور جاری ریسکیو و ریلیف آپریشن پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کے بعد گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور سے ٹیلی فون پر گفتگو بھی کی۔اس موقع پر وزیراعظم نے خیبرپختونخوا میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ وفاقی حکومت پختونخوا حکومت کی ہر ممکن مدد کرے گی ، مشکل کی اس گھڑی میں ہماری تمام تر ہمدردیاں متاثرین کے ساتھ ہیں جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم ہا ئوس میں ایک خصوصی سیل بھی قائم کیا گیا ہے جو این ڈی ایم اے سے چوبیس گھنٹے رابطے میں ہے۔ جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری تازہ ترین ایڈوائزری میں خیبر پختونخوا کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سمیت ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیش گوئی کر دی گئی۔جس کے مطابق 18 اگست سے 22 اگست تک خیبر پختونخوا میں چترال، دیر، ہری پورسمیت دیگر علاقوں میں تیز بارش کا امکان ہے۔ 18 سے 20 اگست کے درمیان اسلام آباد، راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، میانوالی، حافظ آباد، سرگودھا، فیصل آباد، سیالکوٹ، نارووال، اوکاڑہ، لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، ملتان، بہاولپور، بہاولنگر، رحیم یار خان اور اطراف ،سندھ اور بلوچستان کے کئی مقامات پر بھی بارشیں متوقع ہیں۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے)نے دریائے سندھ میں کالاباغ اور چشمہ کے مقامات پر ممکنہ سیلاب کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔ آج سے 17 اگست کے دوران بارشوں کے باعث ان مقامات پر پانی کی سطح میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے درمیانے واونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔ علاوہ ازیں قصور میں دریائے ستلج سے ملحقہ آبادیوں میں نچلے درجے کا سیلاب ہے، ریسکیو 1122 قصورنے متاثرہ علاقوں میں بوٹ ٹرانسپورٹیشن سروس شروع کر دی ہے۔ریسکیوذرائع کے مطابق ریسکیو اہلکاروں نے ولے والا کے مقام پر 175 مویشی محفوظ مقام پر منتقل کر دیئے گئے 10 متاثرہ افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔ محکمہ آبپاشی کے مطابق ہیڈ گنڈا سنگھ سے اس وقت 70 ہزار کیوسک پانی کا اخراج جاری ہے، جس سے دریا کے کنارے آباد بستیاں زیرِ آب آ گئی ہیں۔متاثرہ علاقوں میں کوٹھی فتح محمد، ولے والا، ہرچوکی، چھبر، قلعی شاہو، اطہر سنگھ، فتی والا، بنگلہ دیش بستی، سہجرہ، دھوپ سڑی، چندا سنگھ، مستے کی نگر اور گرد و نواح کے دیہات شامل ہیں۔ ان علاقوں میں فصلوں اور رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے باعث پانی کی سطح میں مزید اضافہ متوقع ہے۔