سیلابی ریلوں میں ریسکیو کی کشتی پر باراتیں ،ڈھول پر بھنگڑے

مشکل حالات کے باوجود پہلے سے طے 4 شادیاں منسوخ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ریسکیو اہلکار خوشیوں کے محافظ قرار
 ٹوبہ ٹیک سنگھ (خصوصی رپورٹ)سیلابی ریلوں میں ریسکیو کی کشتی پر نکلی بارات، چار شادیوں کی تقریبات تاریخی بن گئیں۔کمالیہ کے نواحی گائوں خان دا چک کے رہائشی مسلم شیخ خاندان نے کئی ماہ قبل ایک ہی روز میں چار شادیوں کی تاریخ مقرر کر رکھی تھی۔ تاہم دریائے راوی میں طغیانی کے باعث گائوں زیرِ آب آ گیا۔ چاروں طرف پھیلے پانی اور ٹوٹے ہوئے راستوں نے گائوں کو ایک جزیرے کی شکل دے دی۔مشکل حالات کے باوجود خاندان نے فیصلہ کیا کہ شادیوں کی تقریبات منسوخ نہیں ہوں گی۔ یوں آزمائشوں کے دوران بھی خوشیوں کا سفر جاری رہا۔ سب سے زیادہ توجہ دلہا شہزاد اور دلہن (م) کی بارات نے حاصل کی۔عام باراتیوں کی آمد ممکن نہ ہونے پر ریسکیو 1122 کی ٹیم نے کشتیوں کے ذریعے بارات کو منزل تک پہنچایا۔ سیلابی پانی اور کشتی میں ڈھول کی تھاپ بھنگڑے ، قہقہے اور شادی کے گیت ایک ایسا منظر پیش کر رہے تھے جو برسوں یاد رکھا جائے گا۔دلہن (م) کو جب کشتی پر سوار کر کے لایا گیا تو خواتین نے روایتی گیت گائے، بچے پانی میں کھیلتے رہے جبکہ بزرگ یہ منظر دیکھ کر اشکبار ہو گئے۔ دلہا شہزاد نے کہا "یہ شادی ہمیشہ ہماری یادوں میں زندہ رہے گی، ریسکیو نے ہمارے خواب کو حقیقت بنایا۔" دلہن نے کہا "میں نے کبھی سوچا نہ تھا کہ میری ڈولی پانی میں اٹھے گی، یہ لمحہ ناقابلِ فراموش ہے۔"اہلِ دیہہ نے ریسکیو ٹیم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان بہادر اہلکاروں نے ثابت کیا ہے کہ یہ نہ صرف حادثات میں جانیں بچاتے ہیں بلکہ خوشیوں کے اصل محافظ بھی ہیں۔