خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں طوفانی بارشوں و سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی، 325 سے زائد جاں بحق

خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں طوفانی بارشوں و سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی، 325 سے زائد جاں بحق

ویب ڈیسک: خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں طوفانی بارشوں، بادل پھٹنے، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی ریلوں نے تباہی مچا دی۔

 مختلف حادثات میں اب تک 325 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔صرف بونیر میں قدرتی آفات نے 213 زندگیاں لے لیں جبکہ کئی افراد لاپتا ہیں۔ مانسہرہ میں بھی سیلابی ریلوں اور تودے گرنے سے 20 افراد جاں بحق ہوئے، ضلعی انتظامیہ نے متاثرین کے نام جاری کر دیے ہیں۔ اب تک 15 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 5 افراد کی تلاش جاری ہے۔ہری پور میں تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ گئی جس پر سپل وے کھولنے سے ایک نجی ہوٹل ڈوب گیا، تاہم انتظامیہ نے بروقت خالی کرا لیا۔ ڈیم میں پانی کی سطح 1548 فٹ تک پہنچ گئی ہے جو گنجائش کی بالکل آخری حد کے قریب ہے۔باجوڑ میں کلاؤڈ برسٹ کے بعد آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ میں 21 افراد جاں بحق ہوئے، کئی گاؤں بہہ گئے، مکین بے گھر اور جانور و گاڑیاں بھی سیلابی ریلوں میں بہہ گئیں۔ بونیر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی۔سوات میں بپھرے دریا نے راستے میں آنے والی ہر چیز کو بہا دیا، مینگورہ میں ندی کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا اور رابطہ پل بھی متاثر ہوئے۔

 آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں سیلابی ریلے 6 رابطہ پل بہا لے گئے، مختلف حادثات میں 11 افراد جاں بحق ہوئے۔ مظفر آباد میں کلاوڈ برسٹ سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد سمیت 8 افراد جان سے گئے۔ گلگت بلتستان میں بھی سیلابی ریلوں نے تباہی مچائی، اسکردو میں 5 پل دریا بُرد ہو گئے جبکہ چلاس میں متعدد افراد بہہ گئے۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے مزید بارشوں کی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ 18 سے 22 اگست کے دوران خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں تیز بارشیں اور مزید لینڈ سلائیڈنگ ہوسکتی ہے۔گجرات میں دریائے چناب میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے جس کے باعث کئی ایکڑ زرعی زمین دریا بُرد ہو گئی جبکہ رہائشی علاقے بھی متاثر ہو رہے ہیں۔