پیٹرول 241 روپے اور ڈیزل 266 روپے فی لیٹر کے سرکاری نرخوں کا نوٹیفکیشن وائرل، عوام میں تشویش

پیٹرول 241 روپے اور ڈیزل 266 روپے فی لیٹر کے سرکاری نرخوں کا نوٹیفکیشن وائرل، عوام میں تشویش

بلوچستان کی تحصیل قلعہ سیف اللّٰہ میں پیٹرول اور ڈیزل کے سرکاری نرخ مقرر کرنے کے حوالے سے ایک نوٹیفکیشن سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا ہے، جس نے عوامی حلقوں میں تشویش اور بحث کو جنم دیا ہے۔

اس نوٹیفکیشن کے مطابق، اسسٹنٹ کمشنر قلعہ سیف اللّٰہ کے نام سے جاری ہونے والی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت 241 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 266 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں یہ ہدایت بھی شامل ہے کہ تمام پمپ مالکان کو ان نرخوں پر ایندھن فروخت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، اس امر کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کے اقدامات کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ تاہم، اس ساری صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس نوٹیفکیشن کی ابھی تک کسی بھی سرکاری سطح پر تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ یا متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا ہے، جس کے باعث عوام میں شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ بعض حلقے یہ خیال کر رہے ہیں کہ یہ نوٹیفکیشن پرانا ہو سکتا ہے یا کسی غیر مصدقہ ذریعے سے پھیلایا گیا ہے، جبکہ کچھ اسے حالیہ حکومتی پالیسی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ 
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی غیر مصدقہ معلومات کا سوشل میڈیا پر پھیلنا عوام میں بے چینی پیدا کرتا ہے اور مارکیٹ میں مصنوعی اتار چڑھاؤ کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ کیونکہ ایندھن کی قیمتیں حساس معاملہ ہیں، جو نہ صرف ٹرانسپورٹ بلکہ روزمرہ اشیاء کی قیمتوں پر بھی براہ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔ اگر قیمتوں میں کسی قسم کی تبدیلی کی جاتی ہے تو اس کا باقاعدہ اعلان حکومتی سطح پر کیا جانا ضروری ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے پر فوری وضاحت جاری کی جائے تاکہ افواہوں کا خاتمہ ہو اور صحیح معلومات عوام تک پہنچ سکیں۔ جب تک سرکاری تصدیق یا تردید سامنے نہیں آتی، اس نوٹیفکیشن کو غیر مصدقہ ہی تصور کیا جا رہا ہے، اور شہریوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبروں پر اندھا یقین کرنے سے گریز کریں۔