نارووال میں واقع گوردوارہ دربار صاحب کرتارپور میں تین روزہ بیساکھی میلے کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہوگیا ہے۔
اس موقع پر بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کی بڑی تعداد دربار صاحب میں حاضری دینے اور مذہبی رسومات میں مشغول ہے۔ دربار انتظامیہ کے مطابق، 2388 یاتری واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان پہنچے اور حسن ابدال سے کرتارپور لائے گئے ہیں۔ اس دوران، ہیڈ گرنتھی سردار گوبند سنگھ اور دربار کی انتظامیہ نے یاتریوں کا پرتپاک استقبال کیا۔ یاد رہے کہ یاتری دربار صاحب میں حاضری دے رہے ہیں، ماتھا ٹیک رہے ہیں اور مذہبی عبادات میں مصروف ہیں۔ اس موقع پر سکھ یاتریوں نے پاکستان کی مہمان نوازی کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہاں انہیں بے پناہ محبت ملی ہے اور وہ خود کو اپنے گھر جیسا محسوس کر رہے ہیں۔
انہوں نے بھارت حکومت سے مطالبہ کیا کہ کرتارپور راہداری کو مزید آسان بنایا جائے تاکہ وہ بغیر کسی دشواری کے دربار صاحب آ سکیں۔ یاتریوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی جانب سے فراہم کی جانے والی بہترین ٹرانسپورٹ، لنگر، رہائش اور سیکیورٹی سہولیات پر وہ حکومتِ پاکستان کے شکر گزار ہیں۔