صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت ایوان صدر میں آبی وسائل کے انتظام سے متعلق اہم اجلاس ہوا، جس میں پانی کی دستیابی، گورننس اور پاکستان کی آبی سلامتی کو متاثر کرنے والی علاقائی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے اور بھارت کی جانب سے پانی کو ہتھیار بنانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ صدر زرداری نے پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کو سنگین معاملہ قرار دیا اور پاکستان کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری سفارتی اور قانونی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے علاقائی صورتحال سے منسلک توانائی کے شارٹ فال کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ کو کم کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔ صدر نے کہا کہ لوڈ مینجمنٹ کو شفاف اور اعلانیہ انداز میں سختی سے انجام دیا جائے اور پانی کے تحفظ کی کوششوں کو تیز کرنے کی ہدایت دی۔اس کے علاوہ، صدر زرداری نے گھریلو، تجارتی اور صنعتی سطح پر بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے اقدامات کی جلد عمل درآمد پر زور دیا، اور چھوٹے ڈیموں، ریچارج ویلز، اور پانی ذخیرہ کرنے کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کو تیز کرنے کی ہدایت دی۔