متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، نائب وزیر اعظم شیخ منصور بن زاید النہیان کی ایرانی سپیکر محمد باقر قالیباف سے ٹیلیفونک گفتگو ‘دونوں کا خطے میں کشیدگی کم کرنے پر تبادلہ خیال
چند ہفتوں بعد چینی صدر سے ملاقات ہوگی، ہم چین کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں لیکن لڑنا پڑا تو ہم اس میں بھی ماہر ہیں‘چین بہت خوش ہے میں آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھول رہا ہوں :امریکی صدر
ابوظہبی‘واشنگٹن( آن لائن‘مانیٹرنگ ڈیسک ) متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، نائب وزیر اعظم اور صدارتی دیوان کے چیئرمین شیخ منصور بن زاید النہیان نے اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ٹیلیفونک گفتگو کی۔گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں جاری تازہ پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر باہمی دلچسپی کے امور کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں کشیدگی میں کمی لانا ناگزیر ہے، اور اس مقصد کے لیے سفارتی ذرائع اور بات چیت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دونوں جانب سے خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے قیام کے لیے ممکنہ اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق، اس نوعیت کے اعلیٰ سطحی روابط اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ خطے کے اہم ممالک کشیدگی کو کم کرنے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہے ہیں۔دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ نے کہا ہے چین نے اتفاق کیا ہے کہ وہ ایران کو ہتھیار فروخت نہیں کرے گا، چند ہفتوں بعد چینی صدر سے ملاقات ہوگی ہم مل کر کام کررہے ہیں لیکن لڑنا پڑا تو ہم اس میں بھی ماہر ہیں۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹروتھ سوشل پر پوسٹ کیے گئے پیغام میں انہوں نے کہا چند ہفتوں میں جب میں چین پہنچوں گا تو صدر شی جن پنگ مجھے پْرجوش طریقے سے گلے لگائیں گے، ہم سمجھ داری سے اور بہت اچھے طریقے سے مل کر کام کر رہے ہیں‘ چین بہت خوش ہے میں آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھول رہا ہوں میں یہ ان کے لیے بھی کر رہا ہوں اور پوری دنیا کے لیے اور اب یہ صورتحال دوبارہ کبھی پیش نہیں آئے گی۔