اسلام آباد مذاکرات: تعطل، کریڈٹ کی سیاست اور بدلتی عالمی حکمتِ عملی

شہزاد راجپوت
عالمی سیاست میں بعض اوقات فیصلے میز پر نہیں بلکہ پسِ پردہ خواہشات، انا اور کریڈٹ کی جنگ میں ہوتے ہیں۔ حالیہ اسلام آباد مذاکرات  جو ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہوئے اسی پیچیدہ کھیل کی ایک جھلک پیش کرتے ہیں۔ بظاہر یہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے لیکن اگر پس منظر کو سمجھا جائے تو کہانی کچھ اور ہی رخ اختیار کرتی نظر آتی ہے۔ابتدائی مرحلے میں امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کے سپرد کی گئی جو اسلام آباد پہنچے اور ایرانی حکام کے ساتھ تفصیلی بات چیت کا آغاز کیا۔ ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پہلے دور میں غیرمعمولی پیش رفت ہوئی اور کئی اہم نکات پر اتفاقِ رائے بھی پیدا ہو چکا تھا۔ یہاں تک کہ بعض حلقوں میں یہ تاثر بھی ابھرنے لگا کہ دونوں ممالک ایک بڑے بریک تھرو کے قریب پہنچ چکے ہیں۔تاہم عین اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اچانک مداخلت نے صورتحال کو یکسر بدل دیا۔ اطلاعات کے مطابق، انہوں نے جے ڈی وینس کو فوری واپسی کی ہدایت دی اور مذاکرات کو وقتی طور پر روک دیا۔ بظاہر یہ فیصلہ سفارتی حکمتِ عملی کا حصہ لگتا ہے مگر اس کے پیچھے ایک اہم عنصرکریڈٹ کی سیاست بھی دکھائی دیتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ہمیشہ سے بڑی سفارتی کامیابیوں کو اپنی ذاتی قیادت کے کھاتے میں ڈالنے کے خواہاں رہے ہیں۔ ایسے میں اگر یہ تاریخی معاہدہ جے ڈی وینس کے ذریعے طے پا جاتا تو نہ صرف امریکی عوام بلکہ عالمی سطح پر بھی ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو سکتا تھاجو کہ ٹرمپ کے سیاسی مفادات کے لیے خطرہ بن سکتا تھا۔دوسری جانب امریکہ کی موجودہ صورتحال بھی اس فیصلے پر اثرانداز ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ایران کے ساتھ کشیدگی اور ممکنہ جنگی منظرنامے نے واشنگٹن کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں مکمل محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات ہی واحد قابلِ عمل راستہ دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیک ڈور چینلز کے ذریعے تقریباً اسی فیصد معاملات پہلے ہی طے ہو چکے تھے جبکہ چند اہم نکات خصوصاً یورینیم افزودگی اور آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملات ابھی زیرِ بحث تھے۔یہ وہ معاملات تھے جو اسلام آباد میں ٹیبل ٹاک کے ذریعے حل ہو سکتے تھے مگر اچانک تعطل نے اس عمل کو روک دیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور متوقع ہے اور اس بار ڈونلڈ ٹرمپ نے خود اس میں شرکت کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا یہ بیان بھی خاصا معنی خیز ہے کہ آئندہ اڑتالیس گھنٹے بہت اہم ہیںجو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پسِ پردہ سفارت کاری بدستور جاری ہے۔مزید برآں انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ مذاکرات ایسے ملک میں نہیں ہوں گے جو براہِ راست اس تنازع سے غیر متعلق ہو۔ جسے بعض مبصرین نے خطے کی جیوپولیٹیکل ترجیحات خصوصاً ہندوستان سے جوڑ کر دیکھا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں کیا واقعی کوئی اچھی خبر سامنے آئے گی جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے یا پھر یہ سب محض سیاسی بیانیہ ہے تاکہ وقت حاصل کیا جا سکے اور بہتر پوزیشن سے مذاکرات کیے جائیں؟حقیقت شاید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے۔ ایک طرف عالمی طاقتوں کے مفادات دوسری طرف ذاتی سیاسی ساکھ۔یہ دونوں عناصر مل کر اس سفارتی کھیل کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ اسلام آباد جو اس وقت اس عالمی شطرنج کا اہم مہرہ بن چکا ہے آنے والے دنوں میں ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔اگر یہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہوگی بلکہ یہ عالمی سیاست میں ایک بڑی سفارتی فتح بھی تصور کی جائے گی۔ مگر سوال وہی ہے: اس فتح کا کریڈٹ کس کے حصے میں آئے گا؟