سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
سفارتی زبان میں بظاہردونوں رہنماں کے بیانات میں یکجہتی، تعاون،اورجمہوریت کے تحفظ پرزوردیاجاتاہے۔مثال کے طورپر، امریکایوکرین کوفوجی اورمعاشی امداددینے کے عہد کااعادہ کرتا۔پروٹوکول کی پابندی کے پیشِ نظرتصاویر،پریس بریفنگز،اور مشترکہ بیانات میں دونوں رہنماں کی برابری اورباہمی احترام کواجاگرکیاجاتا۔کچھ مبصرین کاخیال ہے کہ امریکایوکرین کواپنے مفادات کیلئے استعمال کررہاہے،جس میں سفارتی آداب کااحترام کرتے ہوئے بھی طاقت کاعدم توازن واضح ہوتاہے۔مثال کے طورپر،یوکرین کی فوجی امدادکے بدلے میں امریکاکسی طرح کاسیاسی یامعاشی دبا ڈال سکتاہے لیکن اسے کھلے عام بیان نہیں کیاجاتا۔یوکرین اپنے وسائل کوترقی دے کرعالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرناچاہتا ہے،جس میں مغربی کمپنیوں کی شراکت داریاں شامل ہیں۔یہ معاہدے عام طورپرشفاف طریقے سے ہوتے ہیں۔
ٹرمپ کے بیان کے مطابق انہوں نے یوکرین سے اپنی دی ہوئی گرانٹ کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے یوکرین کی قیمتی دھات کا مطالبہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ یوکرین معدنی ذخائر
(جیسے لیتھیم، ٹائٹینیم، اور قدرتی گیس)کے لحاظ سے امیر ملک ہے۔ یاد رہے کہ روس کے کریمیا پر قبضے کے بعد امریکا نے جہاں ان اقدامات کی مذمت کی تھی بلکہ خود اعتراف کیا تھا کہ کسی ملک کے وسائل پر جبری قبضہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ اگر امریکا کسی غیر قانونی طریقے سے وسائل پر کنٹرول حاصل کرے، تو یہ جارحیت سمجھا جائے گا، لیکن فی الحال ایسے کوئی ثبوت نہیں ہیں۔تاہم امریکا کے ’’سپرپاور‘‘ہونے کے باوجود، یوکرین کے وسائل پر قبضے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ تاہم یوکرین کی تعمیرنومیں مغربی ممالک کے معاشی مفادات ضرورشامل ہیں،جوبین الاقوامی قوانین کے دائرے میں ہیں۔امریکااوریوکرین کے درمیان معدنیات کے معاہدے پر مذاکرات جاری تھے، جس کے تحت امریکا کو یوکرین کی نایاب معدنیات، تیل، گیس اور کلیدی بنیادی ڈھانچے تک رسائی حاصل ہوتی۔ امریکا اس معاہدے کو اپنی یوکرین کیلئے حمایت جاری رکھنے کیلئے اہم قرار دے رہا تھا۔
یوکرینی صدر زیلنسکی نے اس معاہدے پردستخط کرنے کی آمادگی ظاہرکی ہے اورانہیں یقین ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات بحال کر سکتے ہیں۔امریکاکی جانب سے یوکرین کی معدنیات پرممکنہ قبضے کی کوششیں بین الاقوامی قوانین اورسفارتی آداب کے تناظرمیں متنازع سمجھی جاسکتی ہیں۔اگریہ اقدامات یوکرین کی خودمختاری اوراس کے وسائل پر کنٹرول کومتاثرکرتے ہیں توانہیں جارحیت کے زمرے میں شمارکیاجاسکتاہے۔بین الاقوامی قانون کے مطابق،کسی بھی ملک کی قدرتی وسائل پراس کا حقِ خودمختاری تسلیم شدہ ہے ، اوربیرونی دبایااستحصال کوغیر قانونی تصورکیاجاتاہے۔
جے ڈی وینس،جوٹرمپ کے قریبی ساتھیوں میں شمارہوتے ہیں،امریکی خارجہ پالیسی میں ایک نئی سمت دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔وہ روایتی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کوازسرِ نوترتیب دینے کے حامی ہیں اورامریکاکوعالمی معاملات میں کم مداخلت کی پالیسی اپنانے پرزوردے رہے ہیں۔وینس کاکہناہے کہ امریکاکویورپ کی بجائے ایشیاپرتوجہ دینی چاہئے جبکہ مغربی میڈیا انہیں پیوٹن کاغیرمسقیم حامی قراردے رہاہے۔وینس کایہ بھی کہناہے کہ"امریکاکوتائیوان اورچین پرتوجہ دینی چاہیے۔
ابھی حال ہی میں وائٹ ہاس میں زیلنسکی کی حاضری کے دوران ان کے لباس پرتنقیدکی گئی،کیونکہ وہ اس سے پہلے ایک ملاقات میں رسمی سوٹ کے بجائے فوجی لباس میں تھے اور اب امریکی میڈیانے وائٹ ہاس میں زیلنسکی کے غیررسمی لباس شرٹ پہن کرمیٹنگ پرتنقیدکو’’ٹرمپ کی ذاتی نفرت‘‘ سے جوڑاہے۔بعض مبصرین کے مطابق یہ واقعہ درحقیقت ٹرمپ اورزیلنسکی کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی علامت تھا۔ٹرمپ کی قیادت میں امریکی پالیسی میں جوتبدیلیاں آئیں،ان کابراہِ راست اثریوکرین کے ساتھ تعلقات پربھی پڑاہے۔
جے ڈی وینس کی جانب سے جمعہ کے روز اوول آفس میں یوکرین کے صدرزیلنسکی کودوٹوک جواب دینااس بات کامظہرتھاکہ امریکی نائب صدرکسی جھجک کے بغیرمرکزی کردارادا کرنے کوتیار ہیں۔وہ اپنے پیشروں کی طرح محض ایک خاموش سیاسی معاون بننے کی بجائے بھرپوراندازمیں جارحانہ مقف اختیارکرنے سے نہیں ہچکچاتے۔یہ وینس ہی تھے جنہوں نے زیلنسکی پرسب سے پہلے سخت تنقیدکاآغازکیااورپھرصدرٹرمپ اس میں شامل ہوئے۔یہ ملاقات اس وقت تک خوشگوارچل رہی تھی جب تک کہ وینس نے روس یوکرین جنگ کوروکنے کیلئے سفارتی حل تلاش کرنے پرٹرمپ کی تعریف کرنانہیں شروع کی۔
زیلنسکی،جوواشنگٹن اورماسکوکے درمیان براہ راست مذاکرات کے سخت ناقدرہے ہیں،وینس کی بات کاٹتے ہوئے بولے:آپ کس قسم کی سفارت کاری کی بات کررہے ہیں، جے ڈی؟آپ کامطلب کیاہے؟وینس نے فوری جواب دیا’’میں اس سفارت کاری کی بات کر رہاہوں جوآپ کے ملک کی تباہی کوختم کرسکے‘‘۔ان کے سخت لہجے نے یوکرینی صدر کوحیران کردیا۔’’جنابِ صدرپورے احترام کے ساتھ،میرے خیال میں یہ مناسب نہیں کہ آپ اوول آفس میں آکراس معاملے کوامریکی میڈیاکے سامنے اچھالیں۔
وینس نے زیلنسکی پریہ الزام بھی عائدکیاکہ انہوں نے2024کے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی بالواسطہ حمایت کی۔اس الزام کی بنیادزیلنسکی کاگذشتہ ستمبرمیں سوئنگ سٹیٹس میں سے ایک(فیصلہ کن ریاستیں)پینسلوینیامیں ایک اسلحہ بنانے والی فیکٹری کا دورہ اوروائٹ ہاس میں ٹرمپ کی حریف کملاہیرس سے ملاقات تھی۔
وینس کی جانب سے زیلنسکی کواس طرح جھاڑپلانے پرریپبلکن رہنماں کی طرف سے زبردست حمایت دیکھنے میں آئی ہے۔جنوبی کیرولائناکے سینیٹرلنڈسے گراہم،جویوکرین کے حمایتی اورسخت گیرخارجہ پالیسی کے حامی سمجھے جاتے ہیں،نے کہا’’مجھے جے ڈی وینس پرفخرہے کہ وہ ہمارے ملک کے مفادکیلئے کھڑے ہوئے‘‘۔انہوں نے مزیدکہاکہ زیلنسکی کواپنے عہدے سے مستعفی ہوجاناچاہیے۔الاباماکے سینیٹرٹومی ٹیوبرول نے تویہاں تک کہہ دیاکہ زیلنسکی’’یوکرینی لومڑی‘‘ہیں۔ادھرنیویارک کے کانگریس مین مائیک لاولرنے نسبتاًمحتاط ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ یہ ملاقات ’’امریکااوریوکرین دونوں کیلئے ایک ایساموقع تھی جسے انہوں نے کھودیاہے‘‘۔
امریکی نائب صدرکیلئے ان کے ملک کے دورے پرآئے ہوئے سربراہ مملکت پر یہ حملہ معمول کی بات نہیں ہے۔عام طورپران کا کام صدرکے انتخاب میں مدددینااورپھرخاموشی سے اپنے باس کے ساتھ کھڑے رہناہوتاہے۔وہ وفادارمعاون کے طورپربیرونی دوروں کے دوران صدرکی نمائندگی کرتے ہیں اورجیساکہ کہاجاتاہے کہ نائب صدر صدارت سے بس ایک قدم دورہوتے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے نائب صدر،نرم مزاج مائیک پینس کے برعکس وینس کااندازبالکل مختلف ہے لیکن وینس،جنہیں وسیع پیمانے پرٹرمپ کی خارجہ
پالیسی کے بنیادی نظریات کوواضح کرنے والاشخص سمجھاجاتاہے،طویل عرصے سے یوکرین کیلئے امریکی امدادکے بارے میں شدیدشکوک وشبہات کااظہار کرتے رہے ہیں۔جب وہ2022میں اوہائیوسینیٹ کی نشست کیلئے انتخاب لڑرہے تھے توایک پوڈکاسٹ میں انہوں نے صاف کہا:مجھے آپ سے سچ بولناہے،یوکرین میں کیاہوتاہے مجھے اس کی کوئی
خاص پرواہ نہیں ہے‘‘۔مشہورامریکی میڈیاسی این این کے مطابق ٹرمپ نے زیلنسکی کوذلیل کرکے اپنی سیاسی بالادستی ظاہرکی،جس کی مثال کسی بھی سفارتی آدداب میں نہیں ملتی۔
یہ تمام نکات دراصل بین الاقوامی طاقتوں کی کشمکش،میڈیاکے بیانیوں کی جنگ،اورقومی مفادات کے تصادم کوظاہرکرتے ہیں۔ مثال کے طورپر’’روس مغرب تنازعہ‘‘ صرف یوکرین تک محدودنہیں،بلکہ نیٹوکی توسیع،توانائی کے بحران،اورعالمی طاقت کے توازن سے جڑاہے۔ڈیموکریٹس کے مطابق وینس کی پالیسیاں’’ٹرمپ کی خودغرضی‘‘کوظاہرکرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے دفاع میں ان کاکہناہے کہ’’دنیاکوبچانے کیلئے نہیں،امریکاکوبچانے کیلئے ہیں۔ان کی پالیسیاں امریکاکی روایتی سفارت کاری سے ہٹ کر ’’انتشارپسندی ‘‘ کو فروغ دیتی ہیں۔
مجموعی طورپرامریکااوریوکرین کے درمیان معدنیات کے معاہدے پرمذاکرات اوراوول آفس میں پیش آنے والے واقعات سفارتی آداب اوربین الاقوامی تعلقات کے اصولوں کے حوالے سے اہم سوالات کوجنم دیتے ہیں،جن پرمزیدغوروخوض کی ضرورت ہے۔کچھ حلقے دعوی کرتے ہیں کہ امریکایوکرین کی معدنیات تک رسائی حاصل کرنے کیلئے جنگ کو طول دے رہاہے۔یہ بات روسی پروپیگنڈے میں بھی نمایاں ہے،لیکن اس کاکوئی ٹھوس ثبوت موجودنہیں۔دوسری طرف امریکایوکرین کی تعمیرنواورجدیدکاری میں سرمایہ کاری کی بات کرتاہے۔مثال کے طورپر’’ڈی ایف سی‘‘’’یوایس انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن ‘‘نے یوکرین کے انفراسٹرکچراورتوانائی کے شعبوں میں شراکت داریوں کااعلان کیا ہے۔اس حوالے سے سازشی نظریات اورحقیقت کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔ہرملک کامیڈیااپنے قومی مفادات کوتحفظ دیتے ہوئے خبریں پیش کرتاہے،لہذاکسی ایک ذریعے پرانحصارخطرناک ہے۔اگریہ پالیسی جاری رہی تواس سے عالمی سفارتی تعلقات میں بڑی تبدیلیاں آسکتی ہیں۔