حکمتِ عملی، جنگ اور امن کا فلسفہ

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
دنیاکے حالات جب کجی اورپیچ وخم اختیارکریں توتاریخ کاقلم بھی سکوت میں تیرچھوڑنے لگتاہے۔یہاں ہم ایک ایسے عہدکاتذکرہ کررہے ہیں جس میں جنگ کاچہرہ بدل چکایہ عہد وہ ہے جس میں جنگ کے گیت توپوں اورتلواروں سے نہیں،بلکہ برقی لہروں اورخودکارپرندوں سے گائے جارہے ہیں۔زمین پرسپاہی اب بھی ہیں،مگرفضاپرحکومت اڑتے لوہے کے پروں اورخاموش قاتلوں کی ہے۔فوجی محاذپرانسان کم اورمشینیں بیشتربولتی ہیں؛ڈرونز،کروزمیزائل،اورخودکارہتھیارمیدانِ جنگ کے نئے قلم بن چکے ہیں۔ 
اسرائیل کی وزارتِ دفاع نے ایک ایسے رازکوخودآشکارکیاجس پرپہلے صرف قیاس کے چرچے تھے۔بھارت نے پاکستان کے خلاف جھڑپوں میں اسرائیلی ساختہ ہتھیاراستعمال کیے۔حالیہ کشیدگی میں اسرائیلی حکومت نے باضابطہ منظوری کااعتراف کیاکہ بھارتی آپریشن سندورکے دوران بھارت نے اسرائیلی ساختہ اسلحہ جن میں باراک-8میزائل اور بعض لوٹرنگ مونیوشنز/ہاروپ ڈرونزخصوصی طورپراستعمال ہوئے۔یہ صرف اسلحے کی فراہمی کامعاملہ نہیں،بلکہ ایک تزویراتی اشارہ تھاکہ بھارت اور اسرائیل عسکری سطح پرایک دوسرے کے اتنے قریب ہیں کہ ایک کے دشمن کے خلاف دوسرے کااسلحہ براہِ راست استعمال ہو۔ یہ اعتراف صرف فنی اطلاع نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی دفاعی ربط کی گواہی ہے جس نے روایتی تصورِدشمنی کوتبدیل کیاجب ایک تیسرافریق،دوسرے کے ساتھ براہِ راست دفاعی تعاون میں نظرآئے۔ پاکستان کیلئییہ دوہراچیلنج تھا۔ایک جانب روایتی دشمن بھارت ، دوسری طرف اسرائیلی ٹیکنالوجی کاسامنا۔اس حقیقت نے خطے کی تزویراتی حرکیات کوبدل دیااورپاکستان کے دفاعی منصوبہ سازوں کوفوری ردعمل پرمجبورکیا۔پاکستان نے اپنی بہترین صلاحیتوں اورمنصوبہ بندی سے ایک محاذ پردومکاردشمنوں کامقابلہ کیااوربالآخرجب شکست دشمن کامقدربنی تودشمن نے امدادکیلئے اپنے باپ ٹرمپ کے سامنے دہائی دی اورٹرمپ  سیزفائرکامیڈل اپنے سینے پرسجاکراب امن کے نوبل انعام کامنتظرہے۔
اسرائیلی اعتراف بتاتاہے کہ عسکری سلسلے جغرافیائی سرحدوں سے ماوراہیں؛سازوسامان،تجربات اورجنگی ٹیکنالوجی بھی تبادلے کی اشیابن گئی ہیں۔اس نے اس قدیم مفروضے کوجھٹکادیاکہ دوملکوں کی جنگ میں ثالث غیرجانبدارہی رہتاہے ۔آج جدید اسلحہ ساز کے ساتھ مباشرت روشنی ڈالتی ہے کہ جنگی حرمتِ کے روایتی دائرے بدل چکے ہیں۔ 
بھارتی فوج نے اپنی دستاب صلاحیتوں کومنظم کرنے کیلئے نئے ڈرون/یواے وی دستوں کااجراء تیزکردیاہے؛سوال یہ ہے کہ بھارتی فوج کی نئی’’ڈرون بٹالین‘‘برتری کاخواب ہے یاعارضی فائدہ؟اور’’یواے ویز‘‘ایسابغیرپائلٹ کے ہوائی جنگی ہتھیارہے جن میں جہازکاعملہ یامسافرنہیں ہوتے ۔وہ خودکار’’ڈرون‘‘یادورسے چلنے والی گاڑیاں ہوتی ہیں ۔رفتاراوراونچائی کی ایک کنٹرول شدہ سطح پرطویل عرصے تک پروازکرسکتے ہیں اوربہت سے پہلوں میں اس کاکردارہے۔
اصطلاحا’’ڈرون بٹالین‘‘کوایک مستقل جنگی یونٹ کے طورپرترتیب دیاجارہاہے،جس میں محسوس،حملہ آورخودکش ڈرونزکواکٹھا کرکے مربوط آپریشنل اہداف دیے جاتے ہیں۔ بھارتی فوج میں’’ڈرون بٹالین‘‘کے نام سے اس شعبہ کامقصدڈرونزکوصرف نگرانی کے آلات کے طورپرنہیں،بلکہ براہِ راست حملہ آوریونٹس کے طورپراستعمال کرناہے۔یہ بٹالین جدیدسینسرز،لائیوڈیٹالنکس،اور ہتھیاربردارخودکش ڈرونزسے لیس ہوگی،جوکمانڈسینٹرسے براہِ راست کنٹرول میں رہیں گی۔اس تبدیلی کاخدوخال یہ ہے کہ ہر بٹالین میں تیزکمانڈ ،   انٹیلی جنس،نگرانی،توثیق"اورہتھیاربردارڈرونزکامجموعہ ہوگا،جس سے جنگی فیصلے کم وقت میں اورکم انسانی مداخلت سے لیے جاسکیں گے۔  
فوجی ماہرین کے مطابق یہ بٹالین مختصرمدت میں برتری پیداکرسکتی ہے،خاص طورپراگرمخالف کے پاس ان ڈرونزکی تباہی یا روکنے کامؤثرنظام نہ ہو۔تاہم،ڈرون جنگیں محض مشینوں کی نہیں،الیکٹرانک ذہانت اورریئل ٹائم ڈیٹاکی بھی ہوتی ہیںجہاں پاکستان نے پہلے ہی اپنی صلاحیت کوبہتربناناشروع کردیاہے اورمصدقہ ذرائع کے مطابق حالیہ پاک بھارت جنگ میں اسرائیلی ہاروپ ڈرونزکوکامیابی سے نیچے اتارکرپاکستان نے اس ٹیکنالوجی میں پہلے ہی اپنی مہارت کالوہامنوالیاہے۔اب سوال یہ ہے کہ انڈیاکااس نئی ڈرونز کی یونٹ کی تیاری کیااسے عسکری میدان میں برتری دلاسکے گی؟
فنی طورپر،ڈرون بٹالین ایک وقتی برتری دے سکتی ہے خصوصاًجب دشمن دفاعی بندوبست غیرلپٹنے یاناکافی الیکٹرانک وارفیئررکھتاہو۔مگرحقیقی برتری تعداد،تربیت،کمانڈوکنٹرول نیٹ ورک،اوردشمن کی وِگِلنس(راڈار،ای ڈبلیو،سیٹوآئی ٹوایس آر)پر منحصرہے۔یہ تمام ٹولزفوجی کارروائیوں کے اندرایک دوسرے سے جڑے ہوئے تصورات ہیں،خاص طور پرانٹیلی جنس،نگرانی،اورجاسوسی ’’آئی ایس آر‘‘سے متعلق۔ریڈار(ریڈیوڈیٹیکشن اینڈرینجنگ)ایک ایسانظام ہے جواشیاکاپتہ لگانے اوران کی حد،زاویہ یارفتارکاتعین کرنے کیلئے ریڈیولہروں کااستعمال کرتاہے۔الیکٹرانک وارفیئر’’ای ڈبلیو‘‘برقی مقناطیسی سپیکٹرم کوکنٹرول کرنے کیلئے برقی مقناطیسی اورہدایت شدہ توانائی کااستعمال ہے،جس میں دشمن کے نظام کاپتہ لگانا،تجزیہ کرنااوران میں خلل ڈالنا،نیزدوستانہ نظاموں کی حفاظت کرناشامل ہے۔ 
سی سی ٹوآئی ایس آر(کمانڈ،کنٹرول،کمیونیکیشنز،کمپیوٹرز،انٹیلی جنس،نگرانی،اورجاسوسی)ایک وسیع نظام ہے جوکمانڈروں کو مثرفیصلہ سازی کیلئے ضروری معلومات اورکنٹرول فراہم کرنے کیلئے ان صلاحیتوں کومربوط کرتا ہے۔ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ڈرون-بنیادجنگ میں سائلو(تنہا)ڈرونزشاندارنہیں رہتے؛انہیں جالِ شناسائی،دفاعی کوریج،اورباریک بین ہدفِ شناسی درکارہوتی ہے۔ اگرپاکستان نے سخت الیکٹرانک مداخلت اورمؤثرشورٹ رینج ایئربس ڈیفنس استعمال کیاتوڈرون بٹالین کی افادیت کم ہوسکتی ہے۔
بھارت نے اپنے اتحادی اسرائیل کے ساتھ مل کرنئی جنگی حکمت عملی یہ تیارکی ہے کہ ڈرونزبٹالین کونگرانی،ہدفی نشانہ گیری، باریک حملے اوردشمن کے کمانڈ وکنٹرول کوخلل زدہ کرنے کیلئے استعمال کیاجائے اوربِلاواسطہ نشانے جیسے رڈار،میزائل سائٹس اورفوجی بیسزپرہاروپ ڈرونزسے خودکش حملے کے ذریعے پاکستان پروارکیاجائے۔الیکٹرانک وارفیئرمیں سرمایہ کاری ڈرونزکی کمانڈ لنک اورنیویگیشن کومتاثرکرنے کیلئے جیمِنگ،جی پی ایس اسپووفنگ اورریڈیو فریکوئنسی مداخلت شارٹ رینج اینٹی یواے وی شیلڈز،کاؤنٹر ڈرون سسٹمز جیسے سپائڈراینٹی یواے وی شیلڈنگ اورکینیٹک انٹرسیپشن مڈ-رینج اورلورینج ایئربس دفاع کی ریفارمنگ،تیزی سے موبائل لانچرزکوحرکت میں لایاجائے۔
لیکن پاکستان اس تمام دشمن کاروائیوں پرکڑی نگاہ رکھنے کیلئے جوابی کاروائیوں کی مکمل تیاریوں میں خودکفیل ہے۔اس سلسلے میں بھارتی ڈرون بٹالین کے افعال اورپاک افواج کی جوابی تیاریاں بھی عروج پرہیں گویاآئندہ جنگ میں پہلی مرتبہ امینی جنگ کی بجائے فضائی حدودمیں کامیابی اورناکامی کے فیصلے ہوں گے۔اس سلسلے میں متوقع ڈرونزجنگ میں پاکستان نے اپنے اس اہم فرائض کی تکمیل کیلئے بھارتی ڈرونزبٹالین کی تمام خفیہ اوراعلانیہ تیاریوں پرکڑی نگاہ رکھتے ہوئے دشمن کے حساس مراکز کی نگرانی،وقت آنے پرمخصوص اہداف پرپیشگی دفاع کے نقطہ نظرسے اپنے حق کے پہلے استعمال کااعلان کرتے ہوئے انڈیا کے مشرقی علاقوں کومنتخب کرنے کاعالمی میڈیامیں اعلان کردیاہے جس میں فوری اقدام کے طورپردشمن کے ریڈاراورکمانڈ سسٹم کوناکارہ بنانااولین ترجیح ہوگی۔
پاکستان نے اس کے مقابل تین سطحی حکمت عملی اپنائی ہے۔الیکٹرانک وارفیئر،ریڈیوفریکونسی جیمنگ اوراسپووفنگ کے ذریعے دشمن کے ڈرون کو’’اندھا‘‘کردینے،کاؤنٹرڈرون سسٹم جس میں چھوٹے فاصلے کے اینٹی ڈرون ہتھیار،جوفضامیں ڈرون کومار گرائیں اورملٹی لیئرایئرڈیفنس حملے،درمیانے اورکم فاصلے کی دفاعی پرتیں،جوڈرون یامیزائل کوقریب آنے سے پہلے تباہ کردیں کی کاروائیوں پر فوری عملدرآمدکیاجائے گا۔
بھارت کے پاس ہے’’ہیروں‘‘نامی ڈرون ہے جولمبے فاصلے تک اڑکردشمن کی زمین کاچپکے سے جائزہ لیتاہے،بالکل ایسے جیسے کوئی گدھ آسمان سے شکارپرنظررکھے۔یہ یاتو باہر سے منگوایاگیاہے یاباہروالوں کی اجازت سے بنایاگیاہے۔پھرآتاہے ہاروپ،یہ ڈرون کوئی عام جاسوس نہیں،بلکہ خودکش،جوریڈارسگنل پرنشانہ باندھتے ہیں پہلے ہدف ڈھونڈتا ہے،پھرسیدھاجاکراس سے ٹکراکرپھٹ جاتاہے۔ایک اورایم کیو9ریپرڈرون،جوگھنٹوں نہیں بلکہ پورادن آسمان میں رہ سکتاہے۔یہ نگرانی بھی کرتاہے اور ضرورت پڑے تو نہایت درست نشانہ لگاکرحملہ بھی کرتاہے۔ اس کے علاوہ بھارت چھوٹے چھوٹے ڈرونزکاجھنڈبھی تیارکررہاہے،جوایک ساتھ آسمان میں اڑکردشمن کوگھیرلیتے ہیں،جیسے چڑیاکا غول کھیت پراترتاہے۔ان میں سے کئی ڈرون اب اسرائیل کی مددسے بھارت میں ہی بن رہے ہیں،اورکچھ توسیدھے سیدھے کام کازی یعنی خودکش اندازوالے ہیں۔
پاکستان کے پاس اپنابنایاہوابراق  ڈرون ہے جومیزائل ساتھ لے کرچلتاہے اورجہاں حکم ہو،وہاں سیدھانشانہ لگاتاہے۔اس کے بعدہیں شاہپر-2اورشاہپر-3،یہ درمیانی فاصلے تک اڑکردشمن پرنظررکھتے ہیں اوراگرضرورت ہوتوہتھیاربھی چھوڑسکتے ہیں۔’’یواے وی‘‘کاؤنٹرڈرون یونٹس،جودشمن  کوفضامیں تباہ کرنے کیلئے بنائے گئے ہیں۔یہ سب ڈرونز ہمارے اپنے ادارے’’جی آئی ڈی ایس‘‘اوردوسرے دفاعی مراکزمیں تیارہوتے ہیں،یوں کہیے کہ یہ ہماری اپنی فضاکے بازہیں،جودشمن کی آنکھیں پھوڑدینے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔۔ 
ہاروپ ایک ایساخودکارخاموش قاتل ہتھیارہے جوبظاہر’’یواے وی‘‘کی طرح ہوتاہے۔یہ ہدف کے اوپر گھنٹوں پروازکرسکتاہے،اورجب مطلوبہ نشانہ سامنے آئے توسیدھا ٹکر ا جاتاہے۔اس کی نشاندہی مشکل اس لیے ہے کہ اس کاسائز چھوٹااوررڈارپرکم ظاہرہوتاہے۔یہ زمین کے قریب سست رفتاری سے پروازکرکے رڈارکودھوکہ دیتاہے۔یہ خودکار ہدف شناسی الگورتھم استعمال کرتاہے،جس سے انسانی مداخلت کم ہوجاتی ہے۔ (جاری ہے)