یوکرین،نیٹواورامریکا:بدلتی حکمت عملی

سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
روس کی جوہری پالیسی اس کی عسکری حکمت عملی کاایک بنیادی عنصرہے۔روسی سربراہ پیوٹن نے نے حالیہ برسوں میں اس میں جوہری ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال سے متعلق اپنی جوہری ڈاکٹرائن میں  خطے میں نئی تبدیلیوں کے مدنظر2020میں اپنے جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں اہم ترامیم کرتے ہوئے تین نئی شرائط شامل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیاہے کہ اگر
٭روس پرکیمیکل/بائیو ہتھیاروں سے حملہ ہویااس کے جوہری کنٹرول سسٹم کونشانہ بنایاجائے تو۔
٭روایتی جنگ کاجوہری جواب،اس کی کمانڈاینڈکنٹرول سسٹم کونشانہ بنایاجائے،
 ٭اگرروس کی بقاکوروایتی ہتھیاروں سے خطرہ لاحق ہو(جیسے یوکرین میں فوجی شکست)۔
تووہ جوہری ہتھیاروں کااستعمال کرسکتاہے۔ان تبدیلیوں نے امریکااوراس کے اتحادیوں کیلئے خدشات پیدا کر دیے ہیں، کیونکہ یہ مغربی دفاعی حکمت عملی کو چیلنج کرتی ہیں اورنیٹو کو سخت ردعمل پرمجبورکرسکتی ہیں۔امریکاکاخیال ہے کہ یہ ترمیم روس کو یوکرین جیسے تنازعات میں جوہری دھمکی دینے کاموقع دے سکتی ہے۔
روس کے اس اعلان کے فوری بعد نیویارک ٹائمزنے ردعمل کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم روس کی’’جارحیت پسندی،غیر مستحکم‘‘حکمت عملی کوظاہرکرتی ہے،جس سے جوہری جنگ کاخطرہ بڑھتاہے اوربعد ازاں امریکانے اسے’’دھمکی‘‘قراردیتے ہوئے نیٹوکی جوہری طاقت کومضبوط کرنے پرزوردیالیکن ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں اپنے ووٹرزسے یہ وعدہ کیاتھاکہ امریکانہ توکوئی نئی جنگ شروع کرے گااورنہ ہی جاری جنگوں میں مزیدشریک رہے گا۔لیکن اقتدارسنبھالتے ہی ٹرمپ اوران کے معاونین ان تمام انتخابی معاہدوں کوفراموش کرتے نظرآرہے ہیں۔
یوکرین پرروسی حملے کوتین برس ہوچکے ہیں۔اس دوران ڈونلڈٹرمپ نے کئی بارایسی باتیں کہیں جوبعدمیں غلط ثابت ہوئیں۔ دوسری طرف،ولادیمیرپوتن نے اس جنگ کواپنے سیاسی اورعسکری مقاصدکیلئے استعمال کیا،جبکہ یوکرین کے صدرولادیمیر زیلنسکی نے عالمی حمایت حاصل کرنے اوراپنی فوج کومضبوط رکھنے میں کامیابی حاصل کی۔یہ جنگ سیاسی چالوں،سفارتی جوڑتوڑاورعسکری محاذ آرائی کا ایک منفرد امتزاج ہے۔ٹرمپ نے دعوی کیاکہ’’یوکرین نیٹوکارکن نہیں بن سکتا‘‘حالانکہ نیٹوکاآرٹیکل10کسی بھی یورپی ملک کو رکنیت دینے کی اجازت دیتاہے۔ٹرمپ نے یو کرین کے زیلنسکی پرالزام لگایاکہ وہ یورپ اورامریکاکولوٹ رہاہے۔علاوہ ازیں ٹرمپ کے حامی یوکرین کو ’’نازی حکومت‘‘قرار دے رہے ہیں،جبکہ مغربی میڈیاپیوٹن کوجنگی مجرم قراردے رہے ہیں اور ٹرمپ کے بیان کوپیوٹن کے حق میں پروپیگنڈاقراردیتے ہوئے ٹرمپ بیانئے پرابھی تک محتاط ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس سے اتفاق نہیں کررہے۔ 
ادھریورپی یونین میں بھی اختلافات اورعدم اعتمادکی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔جرمن چانسلر اولاف شولزنے ٹرمپ کو’’غیرمعتبر‘‘قرار دیتے ہوئے ایک نئی بحث کاآغازکردیاہے۔ جرمنی صنعتی مفادات،فرانس یورپی فوج کواپنی قیادت میں چاہتاہے۔فائنانشل ٹائمز کے مطابق،امریکایورپ کی خودمختاری کو’’نیٹوکیلئے خطرہ‘‘سمجھتاہے،جبکہ فاکس نیوزکے مطابق ٹرمپ کی پالیسی نے چین کے خلاف یورپ کومتحدکیاہے۔
ادھرروسی میڈیاآرٹی کے مطابق یہ ترمیم صرف’’دفاعی‘‘ہے اورمغرب کوروس کی طاقت کااحترام کرناچاہیے۔پیوٹن کامقصد یوکرین کو’’غیرجانبدار‘‘بنانااورنیٹوکی توسیع روکناہے اور وہ اسے روس کے دفاع کیلئے نیٹوکی توسیع کوخطرہ سمجھتے ہیں۔ ڈونباس پرکنٹرول،یوکرین کوغیرمسلح کرنا،اورنیٹوکی مشرقی یورپ میں موجودگی کم کرناپیوٹن کے اہم اہداف ہیں۔
لیکن یوکرینی میڈیازیلنسکی کو’’قومی ہیرو‘‘کے طورپرپیش کرتاہے،یوکرین میں80%عوام زیلنسکی کی پالیسیوں کے حمایتی ہیں جبکہ روسی میڈیااسے’’مغرب کاکٹھ پتلی کہتاہے۔ زیلنسکی یورپی یونین سے مشترکہ فوجی ڈھانچہ بنانے کی اپیل کررہے ہیں،جس میں وہ مطالبہ کررہے ہیں کہ یورپ کواپنی فوجی طاقت بڑھانی چاہیے تاکہ روس کے خلاف خودکفیل ہو سکیں۔
 زیلنسکی نے حالیہ بیانات میں یورپی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ روس کے خلاف ایک متحدہ یورپی فوج تشکیل دیں۔اس کی بنیادی وجہ نیٹوکی مبہم پالیسی اورامریکی عسکری امدادمیں تاخیرہے۔زیلنسکی کی خواہش ہے کہ یورپ اپنے دفاع کیلئیخودمختار حکمت عملی اختیارکرے،تاکہ روس کی جارحیت کامثرجواب دیاجاسکے۔زیلنسکی کاکہناہے کہ روس کے خلاف یورپ کوامریکا پرانحصارکم کرناہوگا۔یوکرین کویورپی یونین کے ساتھ10سالہ طویل المدتی فوجی معاہدوں کی ضرورت ہے۔
لیکن مغربی میڈیاکے مطابق یہ خیال ابھی’’خیالی‘‘ہے،کیونکہ یورپی ممالک فوجی بجٹ اورخودمختاری پرمتفق نہیں۔یورپی ممالک (جرمنی،فرانس)یوکرین کومالی اورہلکی اسلحہ امداد دے رہے ہیں،لیکن بھاری اسلحہ(جیسے ٹینک،طیارے)کیلئے امریکاپرانحصار کرتے ہیں۔یورپ کی فوجی صنعت امریکاجتنی ترقی یافتہ نہیں،نیزنیٹوکاڈھانچہ امریکاکے بغیرنامکمل ہے۔جرمنی کے پاس صرف 200لڑاکاٹینک ہیں،جبکہ امریکاکے پاس2,500ہیں۔فرانس کادعوی ہے کہ ہماری فوجی صنعت صرف اپنی ضروریات پوری کر سکتی ہے۔ پولینڈ کے وزیراعظم نے کہاکہ اب وقت آگیاہے کہ’’یورپ کواپنی فوجی پیداواربڑھانی ہوگی جبکہ یوکرین کوہتھیار فروخت کرکے امریکااپنی فوجی صنعت کوبھی تقویت دے رہاہے۔ امریکا اب تک یوکرین کو75ارب ڈالرکی امداددے چکاہے لیکن یورپ میں بھی اب’’تھکاوٹ‘‘کے آثار نظر آ رہے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی میں روس کیلئے نرمی دکھانے کے متعددواقعات سامنے آئے۔بعض تجزیہ کاراسے امریکی خارجہ پالیسی کی غلطی قراردیتے ہیں،جبکہ کچھ کے نزدیک یہ ایک سیاسی چال تھی تاکہ امریکاکوغیر ضروری جنگوں سے بچایاجا سکے۔تاہم،اس حکمت عملی نے نیٹواتحادیوں میں بے چینی پیداکی اورروس کوزیادہ جارحانہ اقدامات پرآمادہ کیا۔
جبکہ دوسری طرف ٹرمپ کے حامیوں کاکہنا ہے کہ یہ’’امریکافرسٹ‘‘پالیسی کاحصہ تھاتاکہ روس سے تعلقات بہترہوں لیکن مخالفین(جیسے ڈیموکریٹس)کاکہناہے کہ ٹرمپ نے اپنے سابقہ دورِحکومت(2017-2020)میں روس پرسخت پابندیاں نہیں لگائیں، ڈیموکریٹس کایہ بھی کہناہے کہ ٹرمپ نے پیوٹن کویوکرین پرحملے کی چھوٹ دی جس کی بناپرپیوٹن ایک طاقتوررہنمابن کر سامنے آگیاہے۔ٹرمپ کے موجودہ پالیسی بیانات  سے ایک مرتبہ پھریورپی اتحادیوں میں عدم اعتمادمیں اضافہ کاموجب قراردیتے ہوئے اسے ’’پیوٹن کورعایت اورفائدہ ‘‘قراردیاہے۔سیاسی ناقدین ٹرمپ کے بیانات کوپیوٹن کی خوشنودی کیلئے پروپیگنڈا قراردیتے ہوئے اسے ٹرمپ انتظامیہ کی غلطی اوربعض اسے چال قرار دے رہے ہیں۔ 
مشرقِ وسطی بالخصوص سعودی عرب اورایران کے درمیان چین کی ثالثی سے2023میں سفارتی تعلقات کی بحالی کومغربی میڈیانے’’سعودی عرب کامشرق کی طرف جھکاؤ‘‘ کو ایک سفارتی دہماکہ قراردیتے ہوئے اسے امریکاکیلئے باعثِ تشویش قراردیا ہے۔ایک اوررائے یہ بھی ہے کہ بالآخرسعوی عرب نے امریکی اثرکوکم کرنے کیلئے چین اورایران سے تعلقات بہترکئے ہیں اور عرب میڈیا(الجزیرہ)اس خطے کے استحکام کی بروقت کامیاب کوشش قراردے رہاہے اورچینی میڈیانے اسے’’امن کی فتح‘‘قراردیا ہے۔اس کے علاوہ سعودی عرب نے مستقبل کے اقتصادی تنوع کیلئے آئل پرانحصارکم کرنے کیلئے چین کے ساتھ کئی بڑے تجارتی معاہدے بھی کئے ہیں اورچین اب اپنی ملک کی ضرورت کا28 فیصدتیل سعودی عرب سے خریدرہاہے۔
سعودی عرب میں ہونے والی سفارتی ملاقاتوں کے دوران بعض ایسی باتیں سامنے آئیں جنہوں نے مغربی دنیا کوحیران کردیا۔ان میں سے ایک ریاض کے بندکمرے میں ہونے والی میٹنگ تھی،جس میں روس اورچین کے نمائندوں کے ساتھ یورپی ممالک کے سفارت کاربھی شریک تھے۔اس میٹنگ کے بین الاقوامی تعلقات پرگہرے اثرات ہوسکتے ہیں، خاص طورپرمشرق وسطی میں طاقت کے توازن کے حوالے سے ایک نئی مضبوط سوچ اس وقت ابھرکرسامنے آئی ہے جب ٹرمپ نے فلسطینیوں کوسعودی عرب اور اردن میں بسانے اورغزہ پرامریکی قبضے کابیان دیاہے ۔
امریکی صدرڈونلڈٹرمپ اوریوکرینی صدرولودیمیرزیلنسکی کے درمیان حالیہ اوول آفس ملاقات میں کشیدگی دیکھنے میں آئی، جوسفارتی آداب کے حوالے سے غیرمعمولی سمجھی جا رہی ہے۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس اور معدنیات کے معاہدے پر دستخط کی تقریب منسوخ کردی گئی۔ 
اوول آفس کی ملاقاتوں میں رسمی احترام اور یکجہتی کا اظہارکیاجاتاہے لیکن طاقت کے عدم توازن کونظراندازنہیں کیاجا سکتا۔ سفارتی ملاقاتوں میں آداب اورپروٹوکول کاخاص خیال رکھاجاتاہے،خاص طورپرجب دوممالک کے سربراہان اکٹھے ہوں۔یوکرین اورامریکاکے درمیان یہ ملاقاتیں عام طورپرسفارتی آداب کاحددرجہ خیال رکھتے ہوئے کی جاتی ہیں جس میں سمبولزم اورمقام کا خیال بھی رکھاجاتاہے یعنی اوول آفس امریکی صدرکی طاقت اورخودمختاری کی علامت ہے۔یہاں ملاقات کامطلب ہے کہ امریکا خاص طورپرروس کے ساتھ جاری تنازعے کے تناظرمیں یوکرین کواہم اتحادی سمجھتاہے۔ (جاری ہے)