سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
اگرچہ ہاروپ کی تباہی کے بعد نشانات اورملبہ ملیا میٹ ہوجاتاہے،مگرپاکستان نے حالیہ جنگ میں کئی ہاروپ بحفاظت اتارے جانے والے ڈرونزکی بحالی اور تکنیکی تحقیق کے حوالے سے اہم ہیںکیونکہ ان سے سافٹ ویئر،نیویگیشن اورسنسر ٹیکنالوجی کی نقالی ممکن ہے۔حقائق کی تفتیشی رپورٹوں اورفوجی بیانات نے اس دعوے کوتقویت بخشی ہے،مگر پاکستان کے عسکری ادارے کے علاوہ آزادتحقیقات اور تصاویرکی بنیادپرتجزیہ جاری کیاگیا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف کامیابی سے69سے زائدہاروپ اوردیگرڈرونزکوتباہ کیا اور ان کے ملبے کاعالمی میڈیاکوموقع پرجاکردکھانااس کامضبوط ثبوت ہے اورکچھ کوبحفاظت زمین پراتارکران کاسافٹ ویئراورسینسر ٹیکنالوجی کا تجزیہ کرکے اس کی تباہی کافارمولہ تیارکرنے کے پاکستانی دعوے نے اسرائیل اوربھارت کیلئے کئی مشکلات بڑھا دی ہیں کیونکہ اسرائیل کادعوی تھاکہ امریکاکاجدید ترین نظام بھی ہاروپ ڈرونزکی نشاندہی کرنے سے قاصرہے۔
حال ہی میں آئی ایس پی آرکے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے بلومبرگ کوانٹرویومیں واضح طورپریہ اعلان کیا ہے کہ آئندہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کے جنگی اہداف کیاہوں گے اورپاکستان اپنے پیشگی دفاع کے حق کواستعمال میں پہل کرنے سے گریزنہیں کرے گا۔فوجی بیانات میں ایک واضح اشارہ دیاگیاکہ کسی بڑے حملے کی صورت میں پاکستان اپنی دفاعی اورجوابی صلاحیت کو مشرقی بھارت تک پھیلائے گا۔یہ بیان دورخ رکھتاہے،ایک طرف یہ ڈٹرنس یعنی روک تھام کاپیغام ہے، دوسری طرف دشمن کے اندراضطراب پیداکرنے کی حکمت عملی۔یادرہے کہ صحافتی رپورٹس اورفوجی بیانات میں کبھی کبھارایسی دھمکیوں یااشاروں کاذکرملتاہے جوجنگی مفاہمت یاجوابی طاقت کی اطلاع دیتے ہیں۔اگرپاکستان نے’’مشرقی انڈیا کونشانہ بنانے‘‘کاعلانیہ اشارہ دیاہے تواسے دوسیاق میں سمجھاجاناچاہیے:
٭جوابی تلافی کابطورِڈٹرنس اظہار؛ سیاسی پیغام دشمن کے اندرخوف اوربیرونی دنیاکوخبردارکرنے کاسیاسی آلہ۔عملی طورپر،بین الاقوامی قوانین،علاقائی پیچیدگیاں اورجوہری رکاٹ ایسے فیصلوں کومحدودکرتے ہیں ۔البتہ عسکری طورپرپاکستان کی جانب سے مشرقی علاقے پردھیان دینے کامطلب یہ ہوسکتاہے کہ وہ اپنی رینج-آبجیکٹیوز،فضائی اورراکٹ صلاحیتوں کواس لحاظ سے پرکرے گاکہ اگرضرورت پڑی توجوابی ضرب توجہ کے ساتھ دی جاسکے۔(یہ مرحلہ زبانی بیانات،اسٹریٹجک بریفزاوردفاعی مطالعوں پرمنحصر نہیں ہے بلکہ پاکستان اس سلسلے میں جدیدسہولیات کے ساتھ مکمل تیاری کرچکاہے)۔اب آئیے ہم امریکی اپاچی ہیلی کاپٹرجوانڈیااوراسرائیل کے زیراستعمال ہیں اورچینی ہیلی کاپٹر’’زیڈ-10ایم ای‘‘کاایک فنی وعملی موازنہ آپ کے سامنے رکھتے ہیں تاکہ جنگی اسلحے کی طاقت اورکارکردگی کاادراک ہوسکے۔
چینی ہیلی کاپٹر’’زیڈ-10ایم ای‘‘کاانجن طاقتورہے اورگرم موسم میں اچھی کارکردگی دکھاتاہے۔اس میں ٹینک تباہ کرنے والے میزائل،درمیانے سائزکی توپ،اورراکٹ لگے ہوتے ہیں۔اس میں جدیدریڈار،سینسراورمضبوط بکترموجودہیں جوحفاظت بڑھاتے ہیں۔ یہ نہ صرف نسبتًاسستاہے،اس کی مرمت آسان ہے،اورپاکستان کی ضرورت کے مطابق بنایاگیاہے بلکہ اس کی تیاری میں پاکستانی انجینئرزکابھی خاصاعمل دخل ہے۔
جبکہ اپاچی ہیلی کاپٹر(امریکا)کاانجن ہرطرح کے موسم میں اچھی کارکردگی دکھاتاہے۔اس میں جدیدمیزائل،بڑی توپ اورراکٹ سسٹم نصب ہیں۔اس میں اعلی درجے کاریڈار اور الیکٹرانک دفاعی نظام ہے۔یہ مہنگاہے،لیکن کئی سالوں سے آزمودہ اورقابلِ بھروسا ہے۔پاکستان کیلئے چینی ہیلی کاپٹر’’زیڈ-10ایم ای‘‘ایک عملی انتخاب کاکامیاب نتیجہ ہے ،وہ مقامی میدانِ کاروائی،لاجسٹک قابلیت اورروس/امریکاتک رسائی کی پابندیوں کومدِنظررکھتے ہوئے موزوں حل فراہم کرتاہے۔مگرحقیقی فتح پائلٹس،نیٹ ورک،اورہار مونی میں ہے نہ کہ محض ہوائی گاڑی کی تکنیکی تفصیل میں۔
پاکستانی دفاعی حکمت عملی میں چینی ہیلی کاپٹر’’زیڈ-10ایم ای‘‘کا انتخاب چندعملی محرکات کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔مغربی (خاص کر امریکی)ہتھیاروں تک محدودرسائی،چین کے ساتھ بڑھتاہوادفاعی تعلق،لاگت اورمرمت میں آسانی،اوراسٹرائیک/باہمی دفاعی تقاضوں کیلئے مناسب کارکردگی،اورمتعدد رپورٹس کے مطابق"زیڈ-10ایم ای"کو پاکستانی ضرورت کے مطابق موافق بنایاگیاہیسینسرٹیوننگ،ریڈیئٹر/انجن اپگریڈاورساحلی/صحرائی آپریشن کیلئے فلٹرنگ سسٹمزشامل کیے گئے ہیں۔
پاکستان کے میدان اوربجٹ کیلئے زیادہ موزوں چینی ہیلی کاپٹر’’زیڈ-10ایم ای‘‘ہے،جبکہ اپاچی جدید ٹیکنالوجی اورجنگی تجربے میں آگے ہے۔موجودہ حالات میں چین کاہیلی کاپٹر پاکستان کیلئے بہترانتخاب سمجھاجارہاہے۔تاہم گزشتہ پاک بھارت جنگ میں انڈیا نے فرانسیسی طیارے رافیل کی موجودگی میں خطے میں اپنی برتری کے بڑے نعرے لگائے تھے لیکن وقت آنے پرانڈیاکے تکبر کوپاش پاش ہوتے ہوئے ساری دنیانے دیکھاکہ پاکستانی شاہینوں نے اپنے ہی علاقے سے ان کے نہ صرف پر خچے اڑادیئے بلکہ درجن سے زائد طیاروں کوتکنیکی طورپر’’لاک‘‘کرکے اپنی مہارت کاایساپیغام چھوڑاجس نے ساری دنیاکے دفاعی تجزیہ نگاروں کوبھی مبہوت کردیا اوربالآخررافیل کمپنی کے سربراہ کوعالمی میڈیا کے سامنے نہ صرف اپنے طیاروں کی تباہی کوتسلیم کرناپڑا بلکہ اس نے یہ کہہ کرمودی سرکارکامنہ بھی کالاکردیاکہ ہم نے طیاریفروخت کئے ہیں،لڑنے کاحوصلہ نہیں۔
تکنیکی موازنہ صرف تیزرفتاراعدادوشمارنہیں؛یہ نظریے اورسیاسی بنیادیں بھی ہیں۔مغربی ٹیکنالوجی(امریکا،یورپ)روایتی طور پراعلی فِیڈِلِٹی،طویل تجربہ اورجامع سپلائی چین دیتی ہے۔چینی ٹیکنالوجی نے پچھلے ایک دہائی میں تیزی سے ترقی کی قیمت میں کم، مقامی طورپرموافق اورتیزی سے اپگریڈپذیر۔نتیجتامغرب کی ٹیکنالوجی اکثرزیادہ پیچیدہ،آزمودہ اور مستقل ہوتی ہے؛چینی میدانِ جنگ میں فرق ٹیکنالوجی رفتہ رفتہ کئی میدانوں میں مقابلہ کررہی ہے،خصوصاجب قیمت اورلوکلائزیشن کاسوال ہو۔
علاوہ ازیں امریکااورمغرب سے اسلحہ کی خریداری کے وقت سیاستی اثرات کے ساتھ ساتھ سیاسی خود مختاری کاایک راستہ مجروح ہونے کااندیشہ قائم رہتاہے جس سے ملکی استحکام کے فیصلوں پربھی زدپڑنے کاخدشہ بدرجہ اتم موجودرہتاہے لیکن چین کے ساتھ ایساکوئی معاملہ نہیں۔اس لئے مغربی ٹیکنالوجی طویل آزمائش اوراعلی معیارتوضروررکھتی ہے،مگرمہنگی ہے۔چینی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کررہی ہے،نسبتاسستی ہے،اورگاہک کیلئے کسٹمائزیشن میں لچکدار۔پاکستان کیلئے چینی ماڈلزسیاسی و مالی دونوں پہلوں سے قابلِ قبول ہیں اور ترسیل کیلئے پڑوسی ملک ہمیشہ ایک بہترین انتخاب ہوتاہے۔
ٹرمپ کی پالیسیوں اوراقتصادی اقدامات نے بھارت کومتبادل اتحادیوں کی تلاش پرمائل کیا۔چین کے ساتھ تجارتی ودفاعی روابط اور روس سے توانائی واسلحہ خریداری کے امکانات
بڑھ گئے۔امریکاکاردعمل غالبادبااورمذاکرات کاامتزاج ہوگا،مگربھارت اپنی تزویراتی خودمختاری برقراررکھنے کی کوشش کرے گا۔حالیہ سفارتی واقتصادی پیچیدگیاںجن میں ٹرمپ کی طرف سے بھارت کے خلاف عائدتعرفی اقدامات(ٹیرِفس/پابندیاں)شامل ہیں نے نئی کشیدگی پیداکی ہے۔اس طرح کی اقتصادی دباؤپالیسیاں دہلی کودوسری طاقتوں چین، روس کے قریب لے جانے کا محرک بن گئی ہیں،خاص کرجب انڈیاتوانائی(روسی تیل)،دفاعی سازوسامان،اورتجارتی مواقع کی تلاش میں بھی ہے۔تجزیہ کاروں کاعمومی خیال ہے کہ ٹرمپ کے غیرمتوقع تجارتی فیصلے بھارت-امریکاتعلقات میں کشیدگی کے فوری بعدمودی نے پینترہ بدلتے ہوئے روس اورچین کی بلائیں لینی شروع کردی ہیں اورامریکی اسلحے کے متوقع خریداری کے سودے کوبھی مؤخرکرنے کا عندیہ دے دیاہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیاان موجودہ تناظرمیں روس اورچین بھارت پرمکمل اعتبارکرنے کیلئے تیارہوں گے؟
روسی-ہندوستانی تعلقات تاریخی ہیں،خصوصادفاع اورتوانائی کے شعبے میں۔روس،جوبھارتی ہتھیاروں اورایندھن کابڑاذریعہ ہے، تیزی سے دوبارہ اعتمادحاصل کرسکتاہے بشرطیکہ دونوں ممالک کے اسٹریٹجک مفادات میل کھائیں۔البتہ بھارت اپنی تزویراتی خودمختاری برقراررکھنے کاخواہشمندرہے گاتاکہ مزیدامریکی ردعمل کامقابلہ کرسکے؛وہ امریکا کو اب بھی یقین دلانے کیلئے درپردہ کوششیں کررہاہے کہ حالیہ جھکاؤممکنہ طورپرمختصر مدت تک ہوسکتاہے۔
لیکن امریکاکے ممکنہ ردعمل کی دوراہیں ممکن ہیں(الف)مزید اقتصادی/فوجی دباؤ،(ب)سفارتِ بازاری اورقریبی مذاکرات کی کوشش۔ٹرمپ انتظامیہ کی تازہ پالیسیاں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ واشنگٹن دباؤکے ذریعے پالیسیاں بدلواناچاہتاہے،مگر اس کے خلاف عالمی پالیسی اورکثیرالاطراف مفادات بھی کام کریں گے۔نتیجتا،بھارت کوایک معتدل،مگرپریشان کن غیریقینی میدان مِلے گاجس میں وہ وقتی طورپرمتبادل اتحادی تلاش کرے گا۔
علاقائی امن کی بحالی کیلئے ثالثی اور بین الاقوامی میکانزم کوفعال رکھنالازم ہے؛ یہ جنگ صرف ہتھیاروں کی محاذآرائی نہیں بلکہ تصورات کی ایسی کشمکش ہے جوخودمختاری،تزویراتی اعتماد کاپھندہ تھامے اپنے شکار کی تلاش میں ہے۔عسکری جوابات کوسیاسی راہوں کی نسبت آخری قدم بناناچاہیے۔دفاعی سازوسامان کی مقامی تیاری اوراورریورس انجینئرنگ کے ذریعے خودانحصاری کوفروغ دیا جائے،تاکہ بیرونی بندشیں ملکی دفاعی صلاحیت کوفوری طورپرمتاثرنہ کریں۔اس کے ساتھ یہ ضرورذہن نشین رہناچاہئے کہ امریکاکی دوستی کوہم سے بہترکوئی نہیں جانتا،تیل کی تلاش میں بلوچستان میں تعاون کی پیشکش پرایک مرتبہ نہیں،سوبارسوچنا لازم ہے۔