کراچی کی جوڈیشل کمپلیکس میں اداکار ساجد حسن کے بیٹے ساحر حسن کے خلاف منشیات برآمدگی کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ، جج شہزاد خواجہ نے تفتیشی افسر کو حتمی چالان پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
پولیس کے مطابق، ساحر حسن کو 22 فروری 2025 کو ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) فیز 6 سے گرفتار کیا گیا تھا، جہاں سے ان کے قبضے سے پانچ پیکٹ ویڈ (گانجا) برآمد ہوئے تھے۔ ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر سینٹرل جیل منتقل کیا گیا ہے۔ دورانِ تفتیش، ساحر حسن نے انکشاف کیا کہ وہ گزشتہ دو سال سے منشیات فروخت کر رہا تھا اور اس کا کاروبار سوشل میڈیا ایپ اسنیپ چیٹ کے ذریعے چل رہا تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وہ ہر ہفتے 4 سے 5 لاکھ روپے کی رقم ادا کرتا تھا اور مہینے میں دو مرتبہ ایک کلو سے زائد ویڈ منگواتا تھا۔
ملزم کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ساحر حسن کو اس کیس میں پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے، کیونکہ ان کے والد ساجد حسن نے 2022 میں درخشان پولیس کے خلاف ایک مقدمہ درج کرایا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ساحر حسن نے کبھی بھی ارمغان یا مصطفی کو منشیات فروخت نہیں کی اور نہ ہی خود خریدی ہے۔عدالت نے آئندہ سماعت پر تفتیشی افسر سے مقدمے کا حتمی چالان طلب کیا ہے۔