متحدہ عرب امارات میں شادی، طلاق اور بچوں کی تحویل کے قوانین میں اہم تبدیلیاں

متحدہ عرب امارات میں شادی، طلاق اور بچوں کی تحویل کے قوانین میں اہم تبدیلیاں

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں 15 اپریل 2025 سے وفاقی پرسنل اسٹیٹس قانون میں اہم تبدیلیاں نافذ ہو گئی ہیں، جو شادی، طلاق، بچوں کی تحویل اور ازدواجی حقوق سے متعلق نئے ضوابط متعارف کراتی ہیں۔

 یہ اصلاحات خواتین اور بچوں کے حقوق کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خاندانی تنازعات کے حل کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کا ہدف رکھتی ہیں۔

شادی کے نئے قوانین
خواتین کو اپنی مرضی سے شادی کا حق دیا گیا ہے۔ اگر سرپرست (ولی) شادی سے انکار کرے تو خواتین عدالت سے رجوع کر سکتی ہیں۔غیر ملکی مسلم خواتین کے لیے سرپرست کی اجازت ضروری نہیں، اگر ان کے ملک کے قوانین میں یہ شرط نہ ہو۔شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی ہے۔اگر میاں بیوی کی عمروں میں 30 سال یا زیادہ فرق ہو تو شادی صرف عدالتی اجازت سے ممکن ہوگی۔
منگنی اور تحائف کی واپسی
منگنی کو قانونی وعدہ تصور کیا جائے گا، لیکن یہ شادی کے مترادف نہیں ہوگی۔اگر منگنی ٹوٹ جائے تو 25,000 درہم سے زیادہ مالیت کے تحائف واپس لیے جا سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ شادی کے وعدے کے تحت دیے گئے ہوں۔
ازدواجی حقوق اور رہائش
شوہر پر لازم ہے کہ وہ بیوی کو مناسب رہائش فراہم کرے۔شوہر اپنے والدین یا دوسری شادی کے بچوں کو اسی گھر میں رکھ سکتا ہے، بشرطیکہ بیوی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔
بچوں کی تحویل میں اہم تبدیلیاں
بچوں کی تحویل (کسٹڈی) کی عمر 18 سال تک بڑھا دی گئی ہے۔15 سال یا زیادہ عمر کے بچے یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ والد یا والدہ میں سے کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
سخت سزائیں اور جرمانے
بچوں کو بغیر اجازت ملک سے باہر لے جانے یا والدین کی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے پر:5,000 سے 100,000 درہم تک جرمانہ۔قید کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔
مقاصد اور اثرات
یہ قانونی تبدیلیاں خواتین کی خودمختاری، بچوں کے بہتر تحفظ اور خاندانی معاملات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی ہیں۔ اماراتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات معاشرے میں انصاف اور مساوات کو فروغ دیں گے۔

اس نئے قانون کے تحت اب یو اے ای میں رہنے والے شہریوں اور غیر ملکی باشندوں دونوں کو اپنے خاندانی معاملات کو جدید اصولوں کے مطابق طے کرنے میں زیادہ آسانی ہوگی۔