چین نے شادی کے قوانین میں اہم اور نئی تبدیلیاں متعارف کروائیں

چین نے شادی کے قوانین میں اہم اور نئی تبدیلیاں متعارف کروائیں

چین میں شادی کے رجحانات میں نمایاں تبدیلی آ رہی ہے کیونکہ حکومت نے مئی 2025 میں ایک نئی پالیسی نافذ کی ہے جس کے تحت اب نوجوان جوڑے ملک کے کسی بھی حصے میں اپنی شادی رجسٹر کرا سکتے ہیں، پہلے یہ سہولت صرف آبائی علاقے تک محدود تھی۔

اس پالیسی کا مقصد شادیوں کی شرح میں اضافہ کرنا اور ملک کے بڑھتے ہوئے آبادیاتی بحران کو روکنا ہے۔اس نئے قانون کے تحت، مختلف صوبوں اور شہروں نے سیاحتی اور خوبصورت مقامات پر شادی رجسٹریشن دفاتر قائم کیے ہیں، جن میں پارک، شاپنگ مالز، سب وے اسٹیشنز، میوزک فیسٹیولز اور دیگر مقامات شامل ہیں۔ سنکیانگ کے خوبصورت ”سَی رَام جھیل“، نانجنگ کے کنفیوشس مندر، چِنگدو کے برف پوش پہاڑ، اور شنگھائی کے نائٹ کلب جیسے مقامات پر اب لوگ اپنی شادی کی رجسٹریشن کروا رہے ہیں، جس سے شادی کا عمل زیادہ یادگار اور تفریحی بن گیا ہے۔اس تبدیلی کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2025 کی تیسری سہ ماہی میں ملک بھر میں شادیوں کی تعداد 16 لاکھ 10 ہزار تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 22.5 فیصد زیادہ ہے۔ اس سے قبل، شادیوں کی شرح میں 20 فیصد کی کمی دیکھی گئی تھی، جس کے بعد یہ رجحان مثبت سمت میں بدل گیا ہے۔مثلاً، بیجنگ کے وکیل وانگ جی یی اور بینک ملازم ژان یونگ چیانگ نے اپنی شادی گوان یین مندر میں رجسٹر کروائی، جہاں وانگ کا کہنا تھا کہ یہ مندر امن اور خوشحالی کی علامت ہے، اور نئی پالیسی نے ان کے فیصلے کو آسان بنا دیا ہے۔

 سنکیانگ کی سی رَام جھیل، جو بلند سطح پر واقع ہے اور محبت کی علامت سمجھی جاتی ہے، وہاں بھی جوڑوں کی بڑی تعداد شادی کے لیے آ رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان وقتی ہو سکتا ہے کیونکہ آبادی میں کمی اور نوجوان خواتین کی ترجیحات میں تبدیلی جیسے عوامل شادی کے مستقل رجحان کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ صرف سہولت یا تفریحی مقامات پر شادی کرنا کافی نہیں، اصل تبدیلی آمدنی اور معاشی خودمختاری سے آئے گی۔مجموعی طور پر، یہ اقدامات چین میں شادی کے رجحانات میں مثبت تبدیلی کا اشارہ ہیں، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ یہ ایک عارضی رجحان ہو سکتا ہے، اور طویل مدتی نتائج معاشی اور سماجی عوامل پر منحصر ہوں گے۔