صنم جاوید کیس: "عورت ہے، جسمانی ریمانڈ کیوں درکار؟" چیف جسٹس کا استفسار

صنم جاوید کیس:

اسلام آباد (ویب ڈیسک):سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کارکن صنم جاوید کے خلاف 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

 چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔دوران سماعت، چیف جسٹس نے پراسیکیوشن سے سخت سوالات کیے اور استفسار کیا:
"ملزمہ عورت ہے، اس کا جسمانی ریمانڈ کیوں درکار ہے؟"

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ خواتین کے مقدمات میں جسمانی ریمانڈ کے حوالے سے خصوصی احتیاط برتی جانی چاہیے۔ سماعت کے دوران سپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے عدالت کو بتایا کہ لاہور ہائی کورٹ میں صنم جاوید نے جسمانی ریمانڈ کے خلاف اپیل دائر کی تھی، جس پر ہائی کورٹ نے انہیں مقدمے سے ڈسچارج کر دیا ہے۔سپریم کورٹ نے اس معاملے پر صنم جاوید کو نوٹس جاری کر دیا ہے تاکہ وہ خود اپنا مؤقف عدالت کے سامنے رکھ سکیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ صنم جاوید کی جانب سے دائر کردہ اپیل کا جائزہ لیا جائے گا اور اگر ضروری ہوا تو مزید سماعت کی جائے گی۔

یاد رہے کہ 9 مئی 2023 کو ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے تھے، جن میں صنم جاوید بھی شامل تھیں۔ تاہم، ہائی کورٹ نے ابتدائی سماعت میں ان کی شمولیت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہیں مقدمے سے خارج کر دیا تھا۔ اب اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔