ویب ڈیسک: انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت 21 اپریل تک ملتوی کر دی ہے۔
عدالت نے اس کیس میں دو اہم گواہان، مجسٹریٹ مجتبی الحسن اور مدعی مقدمہ کو طلب کر رکھا تھا۔ سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہان عدالت میں موجود نہیں تھے، جس کے باعث کیس کی سماعت میں مزید تاخیر ہوئی۔اس دوران، عدالت سے درخواست کی گئی کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے تاکہ ان سے کیس کے حوالے سے مزید رہنمائی حاصل کی جا سکے۔ اس کے علاوہ، درخواست کی گئی کہ تمام ایک ہی نوعیت کے مقدمات کو یکجا کر کے ایک ساتھ ٹرائل شروع کیا جائے۔ یہ درخواست ابھی زیر سماعت ہے۔
مزید برآں، عدالت نے اس کیس میں 12 گواہان کو طلب کیا ہے، اور یہ کیس گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے لٹکا ہوا ہے۔ اب تک، عدالت نے 5 بار سرکاری گواہان مجسٹریٹ مجتبی الحسن اور سب انسپکٹر ریاض کو طلب کیا ہے۔جی ایچ کیو گیٹ ون حملہ کیس میں کل 119 گواہان ہیں، جن میں سے 25 کے بیانات ریکارڈ ہو چکے ہیں، مگر ابھی تک کسی بھی اہم گواہ پر جرح نہیں ہو سکی۔ یہ کیس اب بھی عدالت میں زیر سماعت ہے اور اس کی مزید سماعت 21 اپریل کو ہوگی۔
اس کیس کی سماعت کی طوالت اور گواہان کے تاخیر سے پیش نہ ہونے کے باعث یہ معاملہ مزید پیچیدہ ہو رہا ہے۔