راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس سمیت سانحہ 9 مئی کے 14 مقدمات کی سماعت ملتوی کر دی۔
عدالت نے جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے 16 اپریل تک اور سانحہ 9 مئی کے دیگر 13 کیسز کی سماعت 19 اپریل تک ملتوی کر دی۔سماعت کے دوران عدالت نے نو مئی کے 10 کیسز کے چالان پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سابق ایس پی سٹی فیصل سلیم کو طلب کر لیا۔ جی ایچ کیو حملہ کیس کا ٹرائل بھی پھر ملتوی کر دیا گیا۔ عدالت نے بتایا کہ سب انسپکٹر ریاض، جو اس کیس کے گواہ ہیں، دو ماہ سے بار بار طلبی کے باوجود پیش نہیں ہو رہے، جس کے باعث کیس کی سماعت میں مزید تاخیر ہو رہی ہے۔انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے کہا کہ آئندہ تاریخ پر سب انسپکٹر ریاض اور مجسٹریٹ مجتبیٰ کی طلبی کی گئی ہے۔ اگر یہ گواہ پیش ہوتے ہیں تو ٹرائل اڈیالہ جیل میں کیا جائے گا۔
سانحہ 9 مئی کے تین تھانوں وارث خان، تھانہ سٹی اور نیو ٹاؤن کے ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے کیسز کے چالان پیش کیے گئے، اور ان کی نقول ملزمان میں تقسیم کر دی گئیں۔ عدالت نے ان کیسز میں فرد جرم 19 اپریل کو عائد کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم، پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان، شاہ محمود قریشی، شیریں مزاری اور عمر ایوب پر فرد جرم آئندہ تاریخ پر عائد نہیں کی جا سکے کیونکہ ان کے چالان کی نقول تقسیم نہیں ہو سکیں۔عدالت میں جی ایچ کیو گیٹ 4 حملہ، حساس ادارہ کی بلڈنگ جلانے، آرمی میوزیم پر حملہ اور میٹرو بس اسٹیشن جلانے سمیت 10 دیگر کیسز کے چالان پیش نہ ہونے پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا گیا۔ عدالت نے سابق ایس پی سٹی فیصل سلیم کو طلب کرتے ہوئے حکم دیا کہ ان کیسز کے چالان آئندہ تاریخ پر پیش کیے جائیں۔
سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم عباسی نے بھی تینوں کیسز میں چالان کی نقول وصول کیں اور عدالت میں درخواست جمع کراتے ہوئے کہا کہ نہ تو انہوں نے عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کا کوئی بیان دیا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی بیان کسی مجسٹریٹ کے سامنے دیا ہے۔سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے متعدد رہنما، بشمول عمر ایوب خان، شیخ رشید احمد، راشد شفیق، میجر طاہر صادق، صداقت عباسی، بشارت راجہ اور سیمابیہ طاہر سمیت 500 ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ پولیس نے عدالت میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے تھے۔
یہ کیسز سانحہ 9 مئی کے دوران پاکستان کے مختلف حصوں میں ہونے والے ہنگاموں اور حکومت مخالف احتجاج سے جڑے ہوئے ہیں، جن میں متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے اور متعدد اہم رہنماؤں پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔