سیشن کورٹ میں امیر بالاج قتل کیس کی سماعت کے دوران اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں ایک گواہ کا بیان قلمبند کیا گیا اور عدالت نے مزید گواہوں کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔
ایڈیشنل سیشن جج اعجاز بوسال نے کیس کی سماعت کی، جس میں شوٹر مظفر کے پوسٹ مارٹم کرنے والی ڈاکٹر مریم زاہد کی جگہ ڈاکٹر محمد اسلم کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ ملزمان ہارون اور بلاول کے وکیل پی رائے ایڈووکیٹ نے بیان قلمبند ہونے کے بعد گواہ پر جرح کی۔عدالت نے کیس کے دیگر گواہوں کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کارروائی 26 فروری تک ملتوی کر دی۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق اب تک چار گواہوں کے بیانات قلمبند ہو چکے ہیں، اور چوہنگ پولیس نے مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کر رکھا ہے۔کیس میں دیگر ملزمان میں احسن شاہ اور طیفی بٹ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ گوگی بٹ تاحال مفرور ہے۔ امیر بالاج کو یہ قتل ایک شادی کی تقریب کے دوران فائرنگ کر کے کیا گیا تھا، جس کے بعد ملک میں اس واقعے پر شدید توجہ رہی۔