صدر آصف علی زرداری کی شنگھائی الیکٹرک کے چیئرمین سے ملاقات، توانائی منصوبوں اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال

صدر آصف علی زرداری کی شنگھائی الیکٹرک کے چیئرمین سے ملاقات، توانائی منصوبوں اور سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال

اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے شنگھائی الیکٹرک کے چیئرمین وُو لی سے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں جاری توانائی منصوبوں اور سرمایہ کاری پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

صدر زرداری نے شنگھائی الیکٹرک کے پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور سماجی و معاشی ترقی میں کردار کو سراہا۔صدر مملکت نے شنگھائی الیکٹرک کو پاکستان کے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور یقین دہانی کرائی کہ اگر کوئی زیر التوا مسائل ہوں تو انہیں دوستانہ اور باہمی تعاون کے جذبے کے تحت حل کیا جائے گا۔چیئرمین شنگھائی الیکٹرک نے اپنے ملازمین کے لیے فراہم کردہ سیکیورٹی انتظامات پر حکومت کا شکریہ ادا کیا، جس پر صدر نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان میں چینی کارکنوں کے لیے محفوظ اور سازگار ماحول یقینی بنانے کے اقدامات کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔

ملاقات کے دوران تھر میں کوئلہ گیسیفیکیشن پلانٹ کے قیام کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط بھی کیے گئے۔ یہ منصوبہ تھر کوئلے پر مبنی پہلا کوئلہ گیسیفیکیشن اور فرٹیلائزر پلانٹ ہوگا، جو توانائی کی ضروریات کے ساتھ زرعی شعبے کو بھی سہارا دے گا۔ یادداشت پر ایم ایف ٹی سی کول گیسیفیکیشن کے سی ای او شاہد تواوالا اور سینو سندھ ریسورسز/شنگھائی الیکٹرک کے سی ای او مسٹر لِن جیگن نے دستخط کیے۔صدر مملکت کے ہمراہ خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سندھ کے وزراء شرجیل میمن اور سید ناصر شاہ اور چین و پاکستان کے سفراء بھی موجود تھے۔

یہ ملاقات پاکستان-چین تعلقات میں توانائی کے شعبے میں تعاون کو مزید مضبوط کرنے اور ملکی ترقی میں سرمایہ کاری بڑھانے کے عزم کو اجاگر کرتی ہے۔