کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شنگھائی الیکٹرک گروپ کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی، جس میں سندھ میں قابلِ تجدید توانائی، بجلی کی ترسیل و تقسیم، پانی صاف کرنے کی جدید ٹیکنالوجی اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے چینی کمپنی کو صوبے میں تعاون بڑھانے اور سرمایہ کاری کے لیے موزوں منصوبوں کی نشاندہی کرنے کی دعوت دی۔ملاقات کے دوران سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں شمسی اور ہوائی توانائی پیدا کرنے کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔ صوبائی حکومت صاف توانائی کے منصوبوں میں چینی سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کا خیرمقدم کرے گی۔ ان کے مطابق سندھ کے قدرتی وسائل کو چین کی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ مہارت سے منسلک کرکے توانائی کے شعبے میں نئے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔
شنگھائی الیکٹرک کے کاروباری شعبوں پر بریفنگ
شنگھائی الیکٹرک کے وفد نے وزیراعلیٰ سندھ کو کمپنی کے کاروباری شعبوں اور بین الاقوامی منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ وفد کے مطابق کمپنی بجلی کی پیداوار، قابلِ تجدید توانائی، ماحولیاتی تحفظ، صنعتی آلات، بجلی کی ترسیل و تقسیم اور انجینئرنگ خدمات کے شعبوں میں کام کرتی ہے۔کمپنی کو شمسی اور ہوائی توانائی کے علاوہ ہائیڈروجن، توانائی ذخیرہ کرنے اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز میں بھی مہارت حاصل ہے۔ وفد نے بتایا کہ شنگھائی الیکٹرک بڑے پیمانے پر توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر کام کرنے کا تجربہ رکھتی ہے۔
کراچی میں پانی کی قلت دور کرنے کے لیے ڈی سیلینیشن پر غور
ملاقات میں پانی صاف کرنے کی ٹیکنالوجی، خصوصاً سمندری پانی کو قابلِ استعمال بنانے کے نظام، پر خصوصی گفتگو ہوئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے شنگھائی الیکٹرک کی ڈی سیلینیشن ٹیکنالوجی میں دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کراچی سمیت سندھ کے ساحلی اور پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے علاقوں میں اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔شنگھائی الیکٹرک کے وفد نے ہیبئی میں قائم کمپنی کے ایک بڑے ہائبرڈ ڈی سیلینیشن منصوبے کی تفصیلات بھی پیش کیں۔ بریفنگ کے مطابق اس منصوبے میں ریورس اوسموسس نظام روزانہ 75 ہزار ٹن پانی صاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ ایم ای ڈی پلانٹ کی یومیہ صلاحیت 25 ہزار ٹن ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کی طویل ساحلی پٹی سمندری پانی کو صاف کرکے پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے چینی کمپنی کو صوبے میں جدید ڈی سیلینیشن منصوبوں کے امکانات کا جائزہ لینے اور قابلِ عمل حل متعارف کرانے کی دعوت دی۔
شمسی اور ہوائی توانائی میں سرمایہ کاری کے مواقع
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبے میں شمسی اور ہوائی توانائی کے منصوبوں کے لیے وسیع امکانات موجود ہیں۔ چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور تکنیکی معاونت سے صاف توانائی کے منصوبوں کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔انہوں نے توانائی ذخیرہ کرنے کے جدید نظام اور بجلی کی ترسیل و تقسیم کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید نظام بجلی کی فراہمی کو زیادہ مؤثر بنانے اور صنعتی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت توانائی کے منصوبوں کے قیام کے مواقع موجود ہیں۔ صنعتی ترقی اور نئی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بجلی اور پانی کی قابلِ اعتماد فراہمی ضروری ہے، اسی لیے صوبائی حکومت ان شعبوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔
سندھ حکومت کی چینی کمپنیوں کو تعاون کی یقین دہانی
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ صاف توانائی، پانی صاف کرنے کی جدید ٹیکنالوجی اور ماحول دوست منصوبے سندھ کی پائیدار ترقی میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے شنگھائی الیکٹرک کے ساتھ مسلسل رابطے اور عملی تعاون کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعلیٰ کے مطابق صوبائی حکومت چینی کمپنیوں کو سندھ میں سرمایہ کاری اور منصوبے قائم کرنے کے لیے ممکنہ سہولتیں فراہم کرے گی۔ انہوں نے قابلِ تجدید توانائی، ڈی سیلینیشن، بجلی کے بنیادی ڈھانچے اور ماحولیاتی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں شنگھائی الیکٹرک کے ساتھ تعاون بڑھانے کی امید ظاہر کی۔