قومی اسمبلی‘سینیٹ اجلاس گورنر راج‘ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق ‘دونوں ایوانوں میں قرار داد منظور‘اپوزیشن کا واک آئوٹ
اندرونی خلفشار اور بیرونی دراندازی کی وجہ سے کے پی میں ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کیا، ایک سیاسی جماعت کے نظریئے کی وجہ سے دہشت گردی کو ہوا ملی، سزا یافتہ شخص کیلئے رہائی کا سب سے اہم فورم عدالت ہے:وزیر قانون
طالبان نے ایمرجنسی اور خیبر پختونخوا میں فوج کی تعیناتی کی بھی مذمت کی ہے،پی ٹی آئی سے سوال ہے بتایا جائے ان کا حلیف اور حریف کون ہے؟ یہ ایسی جنگ ہے جو ملک کو، قوم کو متحد ہو کر لڑنی پڑے گی:وزیردفاع
خیبر پختونخوا کی حکومت کو غیر آئینی طریقے سے ختم کیا گیا ہے ،ملک میں جمہوری حکومت کا پنپنا مشکل ہوچکا :سینیٹرحامد خان‘ ایک صوبے سے گورنر راج کا سلسلہ شروع ہوا ہے تو یہ پنجاب اور سندھ تک بھی پہنچ سکتا ہے:شیرافضل مروت
اسلام آباد(آن لائن‘آئی این پی)سینیٹ اور قومی اسمبلی نے آئین کے آرٹیکل 232کی توثیق کردی،خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے حوالے سے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی ،قرارداد کی منظوری کے موقع پر اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کردیا۔ بدھ کو سینیٹ کا اجلاس چیرمین سید یوسف رضا گیلانی کی سربراہی میں شروع ہوا ۔اجلاس میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے آئین کے آرٹیکل 232کے شق نمبر ایک کے تحت خیبر پختونخوا میں صدر مملکت کی جانب سے جاری کردہ ایمرجنسی نافذ کرنے کی دستاویز ایوان میں پیش کی ‘وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا خیبرپختونخوا میں اندرونی خلفشار اور بیرونی دراندازی کی وجہ سے ایمرجنسی لگانے کا فیصلہ کیا، کے پی حکومت کا دہشت گردی کے خلاف رویہ غیر سنجیدہ تھا، سہیل آفریدی نے اپنی سیاسی کو پروان چڑھانے کو ترجیح دی، انہوں نے فورسز اور عوام کی شہادتوں کو نظر انداز کیا، ایک سیاسی جماعت کے نظریے کی وجہ سے دہشت گردی کو ہوا ملی، ایمرجنسی کے اعلان کے بعد 10 روز میں ایوان سے منظوری لازم ہے۔ان کا کہنا تھا پاک فوج نے قربانیاں دیکر وہاں امن حاصل کیا اور دہشتگردی پر قابو پا یا تھا، 2024 تک 2911 دہشتگردی کے واقعات ہوئے، 15 اکتوبر 2025 سے اب تک 3787 دہشتگردی کے واقعات ہوئے، غیرمعمولی صورتحال کیلئے غیرمعمولی اقدامات ناگزیر تھے۔انہوں نے کہا کہ سزا یافتہ شخص کیلئے رہائی کا سب سے اہم فورم عدالت ہے، لیکن دوسری جانب سے اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کے اعلانات کیے گئے، صدر مملکت اور وزیر اعظم کی خواہش پر مذاکرات شروع کیے گئے، ہم نے معاملات سنجیدگی سے حل کرنے کی پوری کوشش کی، قوم نے دیکھا کئی بار مفاہمتی ڈرافٹ میں ترامیم کی گئیں، ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ آگے بڑھنا چاہتے تھے، لیکن دوسری طرف سے بانی کی رہائی اور ان سے ملاقاتوں کا مطالبہ کیا جاتا رہا، کیا صوبائی حکومت کا فرض نہیں ہے کہ وہ جنازوں میں جائیں۔وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا حالات بتاتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے کے علاوہ حکومت کے پاس کوئی چوائس نہیں رہی تھی، پی ٹی آئی کے دورِ حکومت میں دہشت گردوں کو واپس لا کر بسانے کیلئے قائل کرنے کی کوشش کی گئی، جنرل(ر) فیض حمید اور سابق آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ یہاں بیٹھے ہوتے تھے، ہمیں قائل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ ان دہشت گردوں کو واپس لایا جائے تو فائدہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ شادیوں میں میراثی اتنی تعریف نہیں کرتے جتنی بطور وزیر اعظم عمران خان سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کی کیا کرتے تھے۔انہوں نے کہا کہ آپ نے چیا سیڈ کی بات کی ہم تو چائے پراٹھا کھانے والے لوگ ہیں، جیل میں مجھے ایک کمبل دیا، دوسرا کمبل مانگنے پر نہیں ملا، شہباز شریف نے پتہ چلنے پر کمبل مجھے بھیجا، یہ تنقید کرتے وقت ماضی کو دیکھا کریں،