قومیں وسائل کی کمی سے نہیں، ان کے ضیاع سے بھی تباہ ہوتی ہیں!

میجر الطاف احمد خان یوسفزئی ریٹایرڈ 

کسی بھی قوم کی ترقی کا راز صرف اس کے قدرتی وسائل، دولت، صنعتوں اور بلند و بالا عمارتوں میں پوشیدہ نہیں ہوتا، بلکہ اس بات میں بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے وسائل کو کس قدر دانش مندی، دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرتی ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ بعض قومیں محدود وسائل کے باوجود ترقی کی منازل طے کر لیتی ہیں، جبکہ بعض بے پناہ وسائل رکھنے کے باوجود بدانتظامی، فضول خرچی اور غیر ذمہ دارانہ طرزِ زندگی کے باعث مشکلات کا شکار ہو جاتی ہیں۔
آج پاکستان بھی ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ہمیں اپنے قومی رویّوں، معاشرتی ترجیحات اور حکومتی اخراجات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور معاشی مشکلات سے دوچار خاندان ہیں، تو دوسری طرف ہمارے معاشرے میں نمود و نمائش، غیر ضروری اخراجات، کھانے پینے کی اشیا کا ضیاع اور وسائل کے غیر محتاط استعمال کی مثالیں بھی نظر آتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہماری چھوٹی چھوٹی فضول خرچیاں اور قومی سطح پر غیر دانش مندانہ اخراجات مل کر ہمارے مستقبل پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں؟

اسلام کا واضح پیغام: اسراف اور تبذیر سے اجتناب

اسلام ایک متوازن اور معتدل طرزِ زندگی کی تعلیم دیتا ہے۔ اسلام نہ جائز خوشیوں سے منع کرتا ہے، نہ انسان کو اپنی ضرورتوں پر خرچ کرنے سے روکتا ہے، لیکن وہ فضول خرچی، نمود و نمائش اور نعمتوں کے بے جا استعمال کو پسند نہیں کرتا۔

اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:ترجمہ: ’’اور کھاؤ، پیو اور اسراف نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ (سورہ الاعراف، آیت 31)

یہ مختصر مگر جامع حکم ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں اعتدال کی تعلیم دیتا ہے۔ کھانے پینے سے لے کر لباس، شادی بیاہ، گھریلو تقریبات، کاروبار، سرکاری وسائل اور قومی خزانے کے استعمال تک، ہر جگہ اس اصول کی اہمیت مسلم ہے۔
قرآنِ مجید میں ایک اور مقام پر ارشاد ہے:ترجمہ: ’’اور فضول خرچی نہ کرو۔ بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔‘‘ (سورہ بنی اسرائیل، آیات 26-27)

یہاں اسراف اور تبذیر کے درمیان فرق سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اسراف سے مراد عموماً ضرورت اور جائز حد سے بڑھ کر خرچ کرنا ہے، جبکہ تبذیر میں مال کو بے مقصد، بے جا یا غلط جگہ خرچ کرنا شامل ہے۔ دونوں رویّے انسان کو مالی نقصان، اخلاقی کمزوری اور معاشرتی عدم توازن کی طرف لے جا سکتے ہیں۔رسول اللہ  نے بھی نعمتوں کی قدر اور ذمہ دارانہ طرزِ زندگی کی تعلیم دی۔ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی ضروریات پوری کرے، اپنے اہلِ خانہ پر مناسب خرچ کرے، ضرورت مندوں کی مدد کرے اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو ضائع نہ کرے۔
پاکستانی معاشرہ اور فضول خرچی کا بڑھتا ہوا رجحان

ہمارے معاشرے میں شادی بیاہ کی تقریبات کو ہی دیکھ لیجیے۔ بعض اوقات ایک تقریب پر اتنی بڑی رقم خرچ کر دی جاتی ہے کہ اسی رقم سے کسی مستحق خاندان کی مدد، کسی بچے کی تعلیم، کسی مریض کا علاج یا کسی بے روزگار نوجوان کے لیے روزگار کا انتظام کیا جا سکتا تھا۔یہ اعتراض نہیں کہ خوشیاں نہ منائی جائیں یا شادی سادگی سے کرنے پر کسی کو مجبور کیا جائے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب خوشی کو معاشرتی مقابلے، حیثیت کے اظہار اور دوسروں سے برتری ثابت کرنے کا ذریعہ بنا دیا جائے تو اس کے اخراجات ضرورت اور استطاعت کی حدود سے تجاوز کرنے لگتے ہیں۔اسی طرح ہوٹلوں اور گھروں میں کھانا ضرورت سے زیادہ تیار کرنا، دعوتوں میں بچ جانے والی خوراک کو ضائع کر دینا، پانی کو بے احتیاطی سے استعمال کرنا، بجلی کے غیر ضروری استعمال اور محض دکھاوے کے لیے مہنگی اشیا خریدنے جیسے رویّوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ایک طرف ایسے خاندان موجود ہیں جو بچوں کے لیے دو وقت کی مناسب خوراک کا انتظام کرنے میں مشکلات محسوس کرتے ہیں، تو دوسری طرف خوراک کی وہ مقدار بھی ضائع ہوتی ہے جس سے کئی ضرورت مند افراد کا پیٹ بھر سکتا ہے۔ یہ تضاد ہمیں اپنے اجتماعی ضمیر سے سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے۔پاکستانی قوم کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سادگی کا مطلب غربت کی نمائش نہیں اور نہ ہی اپنی جائز ضروریات سے محرومی ہے۔ سادگی کا اصل مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی آمدنی، ضروریات اور ذمہ داریوں کے مطابق خرچ کرے، قرض لے کر نمود و نمائش نہ کرے اور اپنی خوشیوں کو دوسروں کے لیے مالی بوجھ نہ بنائے۔

قومی خزانہ: حکمرانوں کی امانت
اگر اسراف اور تبذیر کے مسئلے کو صرف عوام کی عادات تک محدود کر دیا جائے تو یہ تصویر کا ادھورا رخ ہوگا۔ قومی وسائل کے استعمال میں حکمرانوں، سرکاری اداروں اور فیصلہ سازوں کی ذمہ داری کہیں زیادہ اہم ہے، کیونکہ ان کے فیصلوں سے لاکھوں بلکہ کروڑوں شہری متاثر ہوتے ہیں۔

حکومت کے پاس موجود وسائل دراصل عوام کی امانت ہوتے ہیں۔ ان وسائل کو خرچ کرتے وقت یہ سوال بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ کیا یہ خرچ عوام کی حقیقی ضرورت پوری کرے گا؟ کیا اس سے تعلیم، صحت، صاف پانی، روزگار، زراعت، صنعت اور بنیادی سہولتوں میں بہتری آئے گی؟ کیا منصوبے کی لاگت مناسب ہے؟ اور کیا اس کے نتائج کی نگرانی کی جائے گی؟اگر کسی منصوبے پر بھاری رقم خرچ کی جائے لیکن منصوبہ بندی ناقص ہو، تعمیر غیر معیاری ہو، عوام اسے استعمال نہ کر سکیں یا کچھ عرصے بعد وہ منصوبہ دوبارہ مرمت اور اضافی اخراجات کا محتاج بن جائے تو یہ وسائل کے مؤثر استعمال پر ایک سنجیدہ سوال ہے۔اسی طرح سرکاری دفاتر میں غیر ضروری تزئین و آرائش، ضرورت سے زیادہ گاڑیوں اور ایندھن کا استعمال، سرکاری تقریبات پر بے جا اخراجات، غیر ضروری دوروں اور ایسی خریداری سے اجتناب ضروری ہے جس کا عوامی فائدہ واضح نہ ہو۔تاہم ہر بڑے منصوبے یا ہر سرکاری خرچ کو اسراف قرار دینا بھی درست نہیں۔ سڑکیں، ہسپتال، تعلیمی ادارے، پانی کی فراہمی، نکاسی? آب اور شہری سہولتوں پر خرچ ترقی کے لیے ضروری ہو سکتا ہے۔ اصل معیار یہ ہونا چاہیے کہ خرچ ضرورت کے مطابق، شفاف طریقے سے، مناسب قیمت پر اور قابلِ پیمائش عوامی فائدے کے لیے کیا گیا ہو۔

پاکستان کی معاشی صورتِ حال ہمیں کیا سبق دیتی ہے؟
پاکستان کی معاشی صورتِ حال اس بات کی متقاضی ہے کہ قومی وسائل کے استعمال میں زیادہ احتیاط اور مالی نظم و ضبط اختیارu کیا جائے۔ وزارتِ خزانہ کی مالیاتی پالیسی دستاویز کے مطابق جون 2025ء￿  میں پاکستان کا مجموعی عوامی قرض تقریباً 80.52 ٹریلین روپے تھا، جو جون 2024ء￿  میں تقریباً 71.25 ٹریلین روپے تھا۔ یہ اعداد و شمار قومی مالیاتی ذمہ داریوں کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ (ماخذ: وزارتِ خزانہ، حکومتِ پاکستان

قرض کی موجودگی بذاتِ خود ہر خرچ کو غلط ثابت نہیں کرتی، کیونکہ ریاست کو عوامی خدمات اور ترقی کے لیے سرمایہ کاری بھی کرنا ہوتی ہے۔ لیکن جب قومی آمدنی کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی اور ان پر سودی اخراجات میں صرف ہو تو باقی شعبوں کے لیے دستیاب وسائل پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ایسے حالات میں ضروری ہے کہ حکومت اپنی ترجیحات کا جائزہ لے، غیر ضروری اخراجات کم کرے، ٹیکس کے نظام میں انصاف اور بہتری لائے، سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنائے اور ہر ترقیاتی منصوبے کی لاگت و افادیت کا باقاعدہ جائزہ لے۔قومی خزانے کی حفاظت صرف بجٹ میں اعداد و شمار کم یا زیادہ کرنے کا نام نہیں، بلکہ عوام کے پیسے کو عوام ہی کی فلاح کے لیے دانش مندی سے استعمال کرنے کا نام ہے۔

عوام کا کردار: تبدیلی گھر سے شروع ہوتی ہے

حکمرانوں سے احتساب کا مطالبہ کرنا ہر شہری کا حق ہے، لیکن معاشرتی اصلاح اسی وقت مکمل ہو سکتی ہے جب عوام بھی اپنی ذمہ داریوں کو تسلیم کریں۔ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں چند بنیادی اصول اپنانے چاہییں:

*اول: ضرورت کے مطابق خریداری۔* اشیا صرف اس لیے نہ خریدی جائیں کہ وہ سستی ہیں یا دوسروں کے پاس موجود ہیں۔ خریداری سے پہلے ضرورت اور استطاعت کو مدنظر رکھا جائے۔
دوم: خوراک کی قدر۔* گھروں، ہوٹلوں، شادی ہالوں اور دعوتوں میں کھانے کی مقدار کا مناسب اندازہ لگایا جائے۔ بچ جانے والی محفوظ خوراک کو ضائع کرنے کے بجائے صحت و صفائی کے اصولوں کے مطابق مستحق افراد تک پہنچانے کا انتظام کیا جائے۔
سوم: پانی اور بجلی کی بچت۔* نل کھلا چھوڑنا، غیر ضروری روشنیاں جلائے رکھنا اور توانائی کے وسائل کو بے احتیاطی سے استعمال کرنا قومی نقصان کا سبب بنتا ہے۔ ہر شہری کو ان وسائل کی حفاظت اپنا فرض سمجھنا چاہیے۔
*چہارم: شادی بیاہ میں اعتدال۔* خوشی ضرور منائی جائے، مگر قرض لے کر یا اپنی مالی استطاعت سے بڑھ کر اخراجات کرنے سے گریز کیا جائے۔ معاشرتی عزت کا معیار کھانوں کی تعداد، لباس کی قیمت یا تقریب کی شان و شوکت نہیں ہونا چاہیے۔
*پنجم: بچوں کی تربیت۔* نئی نسل کو بچپن ہی سے یہ سکھایا جائے کہ پیسہ محنت سے حاصل ہوتا ہے، نعمتوں کی قدر ضروری ہے اور کسی چیز کو ضائع کرنے کے بجائے اسے مفید طریقے سے استعمال کرنا بہتر ہے۔
ششم: دوسروں کے حقوق کا احترام۔* اپنی آسائش کے لیے مشترکہ وسائل، عوامی مقامات اور قدرتی وسائل کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ صفائی، پانی، بجلی اور ماحول کی حفاظت میں شہری ذمہ داری کو بنیادی اہمیت دی جائے۔

یاد رکھیے، اگر ہر گھر روزانہ تھوڑی سی بچت کرے، ہر ادارہ اپنے غیر ضروری اخراجات کم کرے اور ہر شہری اپنی ذمہ داری پوری کرے تو مجموعی طور پر قومی وسائل کی حفاظت میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔
حکمران کیا کریں؟ محض نصیحت نہیں، عملی مثال قائم کریں

عوام کو سادگی اور بچت کا درس دینے والے حکمرانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود بھی اس کی عملی مثال بنیں۔ اگر عوام کو قربانی کا کہا جائے لیکن سرکاری سطح پر غیر ضروری اخراجات جاری رہیں تو اصلاحی پیغام اپنی تاثیر کھو دیتا ہے۔

حکومت کو چاہیے  سرکاری گاڑیوں، ایندھن، سرکاری رہائش گاہوں، تقریبات اور بیرونی دوروں کے اخراجات کے لیے واضح ضابطے بنائے اور ان پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ غیر ضروری سرکاری اخراجات کا باقاعدہ آڈٹ کیا جائے اور نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں۔
- ترقیاتی منصوبوں کی منظوری سے پہلے ان کی حقیقی ضرورت، لاگت، متوقع فائدے اور طویل مدتی دیکھ بھال کا جائزہ لیا جائے۔ سرکاری خریداری اور ٹھیکوں کے عمل کو شفاف بنایا جائے تاکہ مقابلے، مناسب قیمت اور معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔ سرکاری اداروں میں بجلی، پانی، کاغذ، ایندھن اور دیگر وسائل کی بچت کے قابلِ پیمائش اہداف مقرر کیے جائیں۔بچنے والے وسائل کو تعلیم، بنیادی صحت، صاف پانی، غذائی تحفظ، ہنرمندی اور روزگار کے مواقع جیسے اہم شعبوں کی طرف منتقل کرنے پر غور کیا جائے۔ سرکاری عہدیداروں اور اداروں کی کارکردگی کو صرف خرچ کی گئی رقم سے نہیں بلکہ حاصل ہونے والے نتائج سے بھی جانچا جائے۔حکمرانی کا اصل معیار یہ نہیں کہ کتنی رقم خرچ کی گئی، بلکہ یہ ہے کہ اس رقم سے عوام کی زندگی میں کتنی بہتری آئی۔

اسراف کا علاج صرف قانون نہیں، کردار سازی بھی ہے

یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر فضول خرچی کو صرف قانون کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ معاشرتی رویّوں میں تبدیلی کے لیے تعلیم، تربیت، اخلاقی شعور اور عملی مثالوں کی ضرورت ہوتی ہے۔مساجد کے خطبات، تعلیمی اداروں کے نصاب، ذرائع ابلاغ اور سماجی تنظیموں کو اس موضوع پر مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ وسائل کی بچت کنجوسی نہیں، بلکہ ذمہ داری ہے؛ سادگی کم تری نہیں، بلکہ شعور کی علامت ہے؛ اور دوسروں کی ضرورت کو اپنی آسائش پر ترجیح دینا اعلیٰ انسانی اقدار میں شامل ہے۔اسی طرح کاروباری ادارے خوراک کے ضیاع کو کم کرنے، پانی اور توانائی کی بچت اور سماجی ذمہ داری کے پروگراموں کو فروغ دے سکتے ہیں۔ مقامی حکومتیں بھی شہری سطح پر پانی، صفائی، توانائی اور عوامی املاک کی حفاظت کے لیے مؤثر آگاہی مہمات چلا سکتی ہیں۔سب سے بڑھ کر، معاشرے میں یہ سوچ پیدا کرنا ضروری ہے کہ جو وسائل آج ہم بے احتیاطی سے ضائع کر رہے ہیں، وہ ہماری آنے والی نسلوں کی امانت بھی ہیں۔

 قومی بقا کے لیے اعتدال اور امانت داری

پاکستان کو مضبوط بنانے کے لیے صرف زیادہ وسائل حاصل کرنا کافی نہیں؛ موجود وسائل کی حفاظت، منصفانہ تقسیم اور دانش مندانہ استعمال بھی ناگزیر ہے۔ عوام کو اپنی زندگی میں اعتدال اپنانا ہوگا، کاروباری طبقے کو وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کی مثال قائم کرنا ہوگی اور حکمرانوں کو قومی خزانے کو امانت سمجھتے ہوئے ہر خرچ کا جواب دہ ہونا ہوگا۔اسراف اور تبذیر محض ذاتی مالی معاملات کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ اخلاقی تربیت، معاشرتی انصاف اور قومی ترقی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ جب ایک طرف کوئی شہری اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو اور دوسری طرف وسائل غیر ضروری طور پر ضائع کیے جائیں تو ہمیں اپنی ترجیحات پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنے طرزِ زندگی کا جائزہ لیں اور حکمرانوں سے جواب دہی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنی شہری ذمہ داریوں کو بھی پورا کریں۔یاد رکھیے! قوموں کی ترقی صرف دولت کمانے میں نہیں، بلکہ دولت کی قدر کرنے، اسے امانت سمجھنے اور درست جگہ خرچ کرنے میں بھی پوشیدہ ہوتی ہے۔اگر عوام سادگی اختیار کریں، حکمران دیانت داری سے وسائل استعمال کریں اور معاشرہ اسراف کے بجائے اعتدال کو اپنا شعار بنا لے تو پاکستان کے محدود وسائل بھی بہتر مستقبل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ یہی قرآن و سنت کی تعلیمات کا عملی تقاضا اور ایک ذمہ دار قوم کی پہچان ہے۔
………………