آکاشش علی
آگہی سے آگے ہم سب کے لئے یہ بات ضروری ہے کہ ہمیں ہمیشہ زندگی سے مِلے ہر ایک سبق میں سے مثبت فقروں کا چناؤ کرنا چاہیے تاکہ حقائق پہ مبنی وہ تمام عِلم جو مثبت ہو اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا سکیں اور سماج میں انسانیت کے لئے اپنے اپنے تئیں بہترین کردار ادا کر سکیں دراصل دنیا ہم سے آگے نہیں بلکہ ہمارے ہی کچھ غیر اصولی رویے ایسے ہیں جو ہمیں دنیا کی ترقی کی دوڑ میں پیچھے ظاہر کرتے ہیں ورنہ وہ جو خود لو ترقی یافتہ کہلواتے ہیں وہ کسی الگ مٹی سے بنی مخلوق نہیں فرق صرف اتنا ہے کہ وہ اپنے ممالک کے ہر شعبے سے مخلص ہیں اور ہم صرف اوہام میں بھکلاہٹ کو زیادہ اہم س۔جھتے ہیں ،اگر ہم اپنے اندر جھانکیں تو ہمارا کردار خود ہماری مذمت کرے گا کیونکہ انسان کتنا ہی بدکردار، بدلحاظ،بداخلاق ہو اس کا ضمیر اسے جھنجھوڑتا ضرور ہے لیکن یہ ہماری بے حسی ہے کہ عِلم کی روشنی سے آگاہ ہونے کے باوجود بھی ہم صرف اپنی ذاتیات اور خواہشات کو اہمیت دیتے ہیں اور یہ ہمارا وہ چہرہ ہے جسے دیکھ کر بھی ہمیں خود پہ کوئی ملامت کی کیفیت طاری نہیں ہوتی بلکہ الٹا فخر محسوس ہوتا ہے کہ جو ہم کر رہے ہیں یہی درست ہے ، اس لئے ہمیں بدگمانی سے دور رہنا چاہیے کیونکہ بدگمانی انسان کی کامیابی کی سب سے بڑی رکاوٹ کا سبب بنا کرتی ہے۔ اس بات پہ کسی کو کوئی شک نہیں اور ہونا بھی نہیں چاہیے کہ عِلم لامحدود ہے اور عِلم ہی ہے جو تہذیب کی بنیاد ہے اگر عِلم سے انسان تہذیب اخذ نہیں کرتا تو پھر اس سے بہتر ہے وہ عِلم سے اپنا ترکِ تعلق ہی ظاہر کرے کیونکہ منافقت کا اس سے بْرا پہلو اور کوئی نہیں۔
انسان ہونا کچھ اور ہے لیکن انسانیت یہی ہے کہ آپ آئینہ کی طرح شفاف ہوں لیکن عمومآ سماج میں آپ کو یہی منظر بارہا دیکھنے کو مِلے گا کہ یہاں دل میں جو ہو وہ انسانوں کی زباں پہ نہیں ہوتا جس کی وجہ سے ہر وہ انسان اپنا بھروسہ کھو دیتا ہے جس کی بدولت وہ اپنے ہر مثبت ارادہ کے ذریعہ سے پروان چڑھ سکتا ہے۔ بدقسمتی سے طاقتور انسانوں نے اپنی ذاتی خواہشات کو ترجیح دیتے ہوئے اکثر انسانیت کو اپنے قدموں تلے پامال کئے رکھا اور یہی وہ وجہہ ہے کہ غریب انسانوں کو اب جینا مشکل اور مرنا آسان لگتا ہے مگر یہ ناانصافی ہرگز قدرت کی نہیں ہے بلکہ یہ انسانی ناانصافی، بیاختیاری خود انسان ہی کی خود ساختہ ہے جس پہ دل رنجیدہ بھی ہے اور شرمندہ بھی لیکن آخر کب تک ہم محض سوچتے رہیں گے؟ جبکہ عملی طور پہ کچھ بھی کرنے سے ہم بیبس ہیں اور آج ہم عالمی سطح پہ اْس مقام پہ ہیں جہاں ہمارا ہونا ناممکن ہونا چاہیے تھا ، ہم نے ترقی کی فکر کو عام کرنے میں ہمیشہ مجہول ہونا بہتر سمجھا اور اس کے بعد یہی کہہ کر اپنے دلوں کو تسلی دی کے سب کوتاہی بدنظامی کی ہے لیکن بدنظامی کو بہتر نظام میں بدلنے کے لئے کوئی ایسا لائحہ عمل پیش نہیں کِیا جس سے دل کو فخر میسر ہوا ہو اگر کوئی لائحہ عمل پیش بھی کِیا تو اس پہ عمل ہوتا کچھ بھی دکھائی نہیں دیا گیا ، بھوک کل بھی ایک مسئلہ تھی آج بھی ہے ، بیروزگاری کل بھی ایک مسئلہ تھی آج بھی ہے ، غربت میں دھنسے کل بھی لوگ رو رہے تھے اور آج بھی لیکن سرمایہ دار کل بھی خوشحال تھا اور آج بھی خوشحال ہے یہ وہ حقیقت ہے جو تلخ
ہے مگر اس کے سامنے ہر کوئی بے اختیار ہے، سماج میں اس ناانصافی کا ذمہ دار کون ہے؟ یاد رکھئے ذمہ دار ہمیشہ وہی ہوتا ہے جسے کے ذمہ میں ذمہ دارایں سونپ دی جاتی ہیں ، دیکھا جائے تو کل اور آج میں کوئی فرق نہیں آج کا آئینہ آپ کو کل کا ماضی دکھاتا ہے کیوں؟ اس لئے کے ہم نے دانشوروں کی تحریروں سے کچھ نہیں سیکھا اور علم کی روشنی پھیلانے والوں کو قابل احترام نہیں مانا اور قابل?ِلائق ذہین افراد کو گمنام زندگی گزارنے پہ مجبور کیا اس قدر مجبور کیا کہ وہ چیختے چیختے یک بہ یک دنیا سے رخصت ہو گئے اور ابھی موجود ہیں انہیں وہ مقام حاصل ہی نہیں ہونے دیا گیا کہ وہ اپنی تحریروں سے وطن عزیز کو عروج پہ لا سکیں آج ہم جہاں پیں یہ ہمارا مقدر نہیں یہ ہماری ہی کوتاہیاں ہیں سب سے پہلے ہم خود اپنے دشمن ہیں پہلے تو ہم نے عِلم کے فروغ کے لئے جدوجہد ہی نہ کی اگر کی بھی تو ہم ابھی تک کامیابی حاصل نہیں کر سکے یہی ہماری وہ کمزوری ہے جو مستقبل میں بھی ہم سے ہمارا مقام چھین لے گی۔
اگر آج بھی ہم نے مستقبل میں ترقی کے لئے جہالت کو رد کر کے عِلم کو فروغ نہ دیا اور تعلیمی معیار کو بہتر اور عام نہ کیا، صاحب عِلم، دانشوروں، کو ترجیح نہ دی تو آنے والے وقت میں بھی ہم اسی مقام پہ دکھائی دیں گے جہاں آج 78 سال بعد بھی محض خوشحالی کے خوابوں کو ہم اپنی آنکھوں میں سہانے خواب سجائے بیٹھے ہیں اور سسکتے ہوئے سانسوں پہ زندگی کاٹ رہے ہیں۔ بہتر ہے کہ ہمیں اول ترجیح اپنی جوان نسلوں کو فروغ ادب کے لئے راستے ہموار کرنے ہوں گے جس میں طبقاتی تقسیم کا رد ہونا سب سے اہم ہے اس لئے کے سرمایہ دار کا بچہ تو پڑھ کر بزنس ہی کرے گا لیکن مزدور کا بچہ پڑھ کر بزنس مین نہیں بلکہ مزدور طبقہ کے لئے وہ وسائل پ?دا کرے گا جس سے وہ خوشحال ہو سکے۔ قوم کی پہچان قوم کی ترقی سے وابستہ ہوا کرتی ہے اور قابل مقام وہی قوم ہوا کرتی ہے جس نے عالمی سطح پہ اپنا معیار ترقی کی بنیاد پہ قائم کیا ہو، یہ صرف میرا نہیں آپ کا نہیں بلکہ پورے سماج میں سانس لینے والے ہر فرد کا فرض ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ وطن عزیز کا نام ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں سرفہرست پہ لانے کے لئے جدوجہد کرے اور اپنا حقیقی محب وطن ہونے کا جذبہ دکھائے ، البتہ یہ یاد رکھئے
" تحریریں قابلِ اصلاح ہوتی ہیں"