سمیع اللہ ملک (دوسری قسط)
2015میں نوازشریف نے چنیوٹ میں لوہے کے ہزاروں ٹن ذخائرکی موجودگی کاباقاعدہ اعلان کیا۔ اس موقع پرماہرین نے حکومت کومشورہ دیاکہ اس علاقے میں تانبے کے ذخائر پرزیادہ توجہ دی جائے،کیونکہ تانبہ سونے کے ساتھ بطورایسوسی ایٹ دھات نکلتاہے۔نوازشریف نے اس موقع پریہ بھی کہاکہ پاکستان کومعدنیات اور کوئلے کے ذخائرسے خودکفیل بنایاجاسکتاہے اوراس سے ملک کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے لیکن نجانے آج تک کیوں سرکاری سطح پرمکمل تفصیلات اورترقیاتی عمل سست روی کاشکاررہا۔
نومبر2024میں پنجاب منرل کارپوریشن کے سربراہ ڈاکٹرثمرمبارک مندنے چنیوٹ منصوبے کی چھ سالہ ایکسپلوریشن پراجیکٹ کے نتائج کااعلان کیا۔ اس پراجیکٹ میں 261.5 ملین ٹن اعلی معیارکے لوہے اور36.5ملین ٹن تانبے کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔اس کے ساتھ ہی،چنیوٹ میں سٹیل مل اورکاپرریفائنری سے سالانہ4.5ملین ٹن99.6فیصدخالص لوہااور 1.5لاکھ ٹن خالص تانبہ حاصل کیاجاسکے گا۔تاہم،ڈاکٹرثمرمبارک مندکے مطابق، اس تحقیق میں سونے کی موجودگی سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ایک مرتبہ پھرغیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی کیلئے اس کوبھی عالمی سرمایہ کاروں کی توجہ کامرکزبنانے کی منصوبہ بندی کااعلان کیاگیاہے۔
تانبہ اورسونے کی موجودگی نے اسے ایک اسٹریٹیجک مقام بنادیاہے لیکن ابھی تک چیلنج باقی ہے کہ صنعتی بنیادوں پرنکاسی کاعمل ابھی تک شروع نہیں ہوسکا۔ پنجاب کے دیگروسائل میں خوشاب اوراس کے گردونواح میں کھادمیں استعمال فاسفیٹ کے ذخائرملکی ترقی میں اپناحصہ ڈالنے کیلئے تیارہیں۔علاوہ ازیں سیمنٹ فیکٹریوں کاخام مال،چوناپتھر اورجپسم وافرمقدارمیں موجودہے۔
پاکستان میں وقتافوقتاقیمتی دھاتوں خصوصاسونے کی دریافت سے متعلق بلندوبانگ دعوے سامنے آتے رہے ہیں۔حال ہی میں پنجاب کے وزیرمعدنیات شیرعلی گورچانی نے اٹک میں700ارب روپے مالیت کے سونے کے ذخائرکی موجودگی کادعوی کیاہے،جس نے میڈیااورعوامی حلقوں میں دلچسپی کوجنم دیاہے۔سوال یہ ہے کہ کیایہ محض دعوے ہیں یاواقعی پاکستان سونے جیسی قیمتی دھات سے مالامال ملک بننے کی صلاحیت رکھتاہے؟
پنجاب کے صوبائی وزیرمعدنیات کے مطابق اٹک کے32کلومیٹرکے علاقے میں28لاکھ تولے سوناموجودہے۔اس سونے کی موجودہ مالیت600 سے 700 ارب روپے بنتی ہے۔سابق نگران وزیرابراہیم حسن مرادکے مطابق یہاں دریائے سندھ اوردریائے کابل کے سنگم پر مقامی افرادمشینوں کے ذریعے سونانکالنے کی کوشش کررہے تھے۔ جیولوجیکل سروے آف پاکستان نے25کلومیٹرکے علاقے سے500نمونے حاصل کیے جن میں سونے کی موجودگی کی تصدیق ہوئی۔یہ دعویٰ اگردرست ثابت ہوتاہے تویہ پاکستان کیلئے ایک اہم اقتصادی پیش رفت ہوسکتی ہے،تاہم اس کی مکمل تصدیق اورتجارتی پیمانے پراستفادہ ابھی باقی ہے۔
ماضی میں سیندک اورریکوڈک جیسے منصوبے تکنیکی ومالی وجوہات کی بناپرتاخیرکاشکارہوتے رہے ہیں۔غیرملکی سرمایہ کاروں کی ہچکچاہٹ،خاص طورپر قانونی تنازعات کے باعث، ترقیاتی عمل میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔کھدائی اورکان کنی کے دوران ماحولیات اورمقامی آبادی کے حقوق کاتحفظ بھی ایک چیلنج ہے۔اکثردعوے میڈیامیں توآتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد،آزادانہ جانچ یا تفصیلی رپورٹس دستیاب نہیں ہوتیں۔
پاکستان کے شمالی علاقے،جیسے گلگت بلتستان،ہنزہ،اوراپردیر،سونے کے ذخائرکے حوالے سے خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔ان علاقوں میں سونے کی موجودگی کی تحقیقات مختلف جیولو جیکل ماہرین نے کی ہیں۔شعبہ جیالوجی کے ماہرین کے مطابق سونازیادہ تر"اگنیس"اور"میٹامورفک"کے پتھروں میں پایاجاتاہے جوپاکستان کے شمالی علاقوں میں کثیرتعداد میں موجودہیں۔اسی طرح جیالوجی کے ایک ماہرپروفیسرنے کہاکہ گلگت،ہنزہ اورغزرکے علاقوں میں سونے کے ذخائرکی موجودگی کے کافی امکانات ہیں۔ان کے مطابق، اپر دیرسے لے کرچترال تک کے علاقے میں تانبہ بڑی مقدارمیں پایاجاتاہے اور سونا اکثر تانبے کے ذخائرکے ساتھ بطورایسوسی ایٹ دھات نکلتاہے۔
ماہرین نے اس بات کی وضاحت کی کہ سوناجب پہاڑی علاقوں سے دریاکے ذریعے بہتاہے،تووہ اپنے ساتھ پتھروں میں موجودسونے کے ذرات لے آتاہے۔جب دریامیدانی علاقوں میں داخل ہوتاہے،تواس کے بہاکی رفتارکم ہوجاتی ہے اور سونے کے ذرات دریاکی تہہ میں بیٹھ جاتے ہیں،جس سے ان ذخائرکی تشکیل ہوتی ہے۔ایسے سونے کو’’پلیسر گولڈ‘‘کہا جاتاہے۔دریائے سندھ کے شمالی علاقے سے لے کراٹک تک کئی مقامات پرپلیسرگولڈکے ذخائرپائے جاتے ہیں،اوریہاں مقامی سطح پرلوگ ان ذخائرکونکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔تاہم،یہ ذخائراتنی بڑی مقدارمیں نہیں ہوتے کہ ان سے تجارتی سطح پرفائدہ اٹھایاجاسکے۔
ابھی حال ہی میں ان تمام معدنیات کے بارے میں حکومت پاکستان کادعوی"یہ معدنیات سیکٹرکھربوں ڈالرزکی قدررکھتاہے،اس سلسلے میں پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025 کے انعقادکے موقع پرامریکا،چین،سعودی عرب سمیت دیگر20ممالک کے اعلی سطحی وفودکی بھرپورشرکت سے پاکستان نے ایک نئے عزم کے ساتھ قومی خودانحصاری کاجوسفر شروع کیاہے، اس میں بیریک گولڈ(بیرک گولڈ)(ریوٹنٹو(ریوٹنٹو)بی ایچ پی بلٹن جیسے عالمی ادارے بھی شامل ہوئے۔اب ضرورت اس امرکی ہے کہ پاکستان میں داخلی سلامتی کی صورتحال کومضبوط کرنے کیلئے ان تمام رکاوٹوں کاازسر نوجائزہ لیاجائے جو غیرملکی سرمایہ کاری میں رکاوٹ کاسبب بن سکتی ہیں۔
بدنصیبی سے مائنزاینڈ منرلزبل پرسیاسی اختلافات،مقامی حکومتوں اوروفاق کے اختیارات پرکشمکش اورقانون سازی میں تنازع کی وجہ سے معاملہ مجرمانہ تاخیرکاشکارہورہاہے۔اس چیلنجزسے نمٹنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پرکام شروع کرنے کی اشدضرورت ہے تاکہ قرضوں میں ڈوبی ہوئی معیشت جوملکی سلامتی کیلئے بھی ایک مسلسل خطرہ ہے،اس سے نجات مل سکے۔
پاکستان میں معدنیات کے ذخائرمیں عالمی سطح پرخاص طورپرتانبااورلیتھیئم کی طلب میں اضافہ کی وجہ سے غیرملکی سرمایہ کاری کی کافی گنجائش ہے۔ بالخصوص بیٹری،الیکٹرک گاڑیاں ،گرین ٹیکنالوجی اوردفاعی صنعت میں پاکستان کے ذخائرکی قدر کرتے ہوئے سعودی،چینی،کینیڈین،ترک کمپنیوں کی دلچسپی کی حوصلہ افزائی کیلئے خصوصی ڈیسک تشکیل دیاجائے تاکہ وقت ضائع کئے بغیرغیرملکی سرمایہ کاری کامثبت جواب دیاجاسکے۔پاکستانی معدنیات میں جہاں غیرملکی دلچسپی بڑھتی جارہی ہے وہاں سرمایہ کاری کے امکانات اورشکوک کے ساتھ ساتھ کچھ سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کے اعلی عہدیدار ایرک میئرنے پاکستان میں سرمایہ کاری کاعندیہ دیاہے۔ان کاکہناتھاکہ ٹرمپ نے معدنیات کے محفوظ، قابل اعتمادذرائع کوامریکاکی اسٹریٹیجک ترجیح قراردیاہے۔امریکی سفارتخانے نے کہاکہ امریکاپاکستان کے ساتھ سرمایہ کاری،تکنیکی تعاون اوروسائل کے ذمہ دارانتظام میں شراکت داری چاہتاہے۔
ریئرارتھ منرلزجیسے لیتھیم، نیوڈیمیم وغیرہ پرعالمی رسائی حاصل کرناامریکاکی حکمت عملی کاحصہ ہے۔ہمیں امریکا کی اس حکمت عملی کابھی بغورجائزہ لینے کی ضرورت ہے کیونکہ امریکا چاہتاہے کہ چین پرانحصارکم ہو،اورپاکستان جیسے متبادل ذرائع کومضبوط کیاجائے۔مقامی میڈیارپورٹ کے مطابق منرلز انوسٹمنٹ کانفرنس2025میں10سے زائدایم اوریوزپر دستخط ہوئے ہیں۔ریکوڈک منصوبے سے وابستہ کینیڈین کمپنی دوارب ڈالرکی فنڈنگ حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔چین پہلے ہی بیلٹ اینڈروڈ منصوبے کے تحت اہم شراکت دارہے۔
پاکستان کے ان قدرتی وسائل سے مکمل فائدہ نہ اٹھانے کی کئی وجوہات ہیں۔ہمیں ان رکاوٹوں اورچیلنجزکے فوری سدباب کیلئے ان امورپرفوری توجہ دینے کی ضرورت ہے:
٭بیوروکریٹک رکاوٹیں دورکرنے کیلئے عالمی قوانین کامطالعہ کرکے ایک مستقل لائحہ عمل تیارکیاجائے۔
٭سست اورپیچیدہ منظوری کے عمل کاجائزہ لیکراس میں آسانی پیداکی جائے۔
٭غیرملکی سرمایہ کاروں کی طرف سے شفافیت کے فقدان پرتوجہ دی جائے۔
٭بلوچستان،وزیرستان جیسے علاقوں میں بدامنی اورسیکورٹی کے خدشات کیلئے زمینی حقائق پرتوجہ دیکراس کاحل تلاش کیاجائے۔
٭کسی بھی منصوبہ بندی کی کامیابی کیلئے مقامی آبادی کی شراکت انتہائی ضروری ہے،ان معدنی ذخائرکے استعمال کیلئے مقامی آبادی کے حقوق کی پاسداری کاپوراخیال رکھاجائے اورحقوق کی محرومی کاازالہ کیاجائے۔
٭سیاسی بے توجہی کے اسباب اور اس کے مثبت حل کی طرف اقدامات اٹھائے جائیں۔
٭غیرملکی سرمایہ کاروں کو یقین دلایاجائے کہ حکومتوں کی ترجیحات کے بدلنے سے ان تمام پراجیکٹ کومکمل تحفظ حاصل ہوگا۔
٭ملک میں سیاسی پالیسی کے عدم تسلسل کوختم کرنے اورداخلی سیاسی انارکی کوختم کرنے کیلئے سیاسی بالغ نظری سے کام لیتے ہوئے عفوودرگزرکااعلان کیاجائے۔
٭تمام علاقائی تنازعات بالخصوص خیبرپختونخوامیں نئے متنازع مائنزاینڈمنرلزبل کے فوری حل پرترجیحاتی کام شروع کیاجائے۔
٭سندھ معدنیات اورتوانائی کے خزانوں کاابھرتاہوامرکزہے تاہم تھرسے متعلقہ چندچیلنجزکی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔(جاری ہے)