ریلوے فنڈز کے ضیاع اور ایم ایل ون پروجیکٹ کی واپسی کا خطرہ

شہزاد راجپوت
پاکستان کا شمار اْن ممالک میں ہوتا ہے جہاں ترقیاتی منصوبوں کا آغاز تو بڑے دعووں کے ساتھ کیا جاتا ہے مگر ان کا اختتام یا تو کاغذوں تک محدود رہتا ہے یا پھر تاخیر کا شکار ہو کر اپنی افادیت کھو بیٹھتا ہے۔ تازہ ترین مثال ریلوے کے سب سے بڑے منصوبے ایم ایل-1 کی ہے  جو چین کی مدد سے سی پیک کے تحت پاکستان کے ریلوے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ اس منصوبے پر اربوں ڈالر لاگت آنی تھی اور توقع تھی کہ اس کی تکمیل سے نہ صرف مسافر ٹرینوں کی رفتار دگنی ہو جائے گی بلکہ مال برداری کی صلاحیت میں بھی کئی گنا اضافہ ہوگا تاہم اطلاعات یہ ہیں کہ چین پاکستان کو فراہم کیے گئے فنڈز کے بروقت استعمال نہ ہونے اور انتظامی بدانتظامیوں کے باعث اب اس منصوبے کو واپس لینے پر غور کر رہا ہے۔یہ صورتحال پاکستان کے لیے نہ صرف ایک اقتصادی دھچکا ہے بلکہ اس کی ساکھ کے لیے بھی بڑا سوالیہ نشان ہے۔ چین جیسے دوست ملک نے جس خلوص سے پاکستان کو اس منصوبے کے لیے مالی اور تکنیکی تعاون فراہم کرنے کا عزم کیا وہ ہمارے نااہل نظام کی نذر ہوتا نظر آ رہا ہے۔ منصوبے کے فنڈز کا بروقت استعمال نہ ہونا، فائلوں کا دفاتر میں دب جانا، سیاسی عدم استحکام اور بیوروکریسی کی سست روی وہ بنیادی وجوہات ہیں جنہوں نے ایم ایل-1 جیسے اہم منصوبے کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔یہ امر بھی غور طلب ہے کہ ریلوے پاکستان کا وہ شعبہ ہے جو برسوں سے زبوں حالی کا شکار ہے۔ پرانے انجن، خستہ حال بوگیاں اور ٹریکس آئے دن پیش آنے والے حادثات، خسارے میں ڈوبی ہوئی کارکردگی اور ملازمین کی بے تحاشہ تعداد نے اس ادارے کو معاشی بوجھ بنا دیا ہے۔ ایسے میں ایم ایل-1 کو ریلوے کی تقدیر بدلنے کا منصوبہ قرار دیا گیا تھا ۔اگر یہ بھی کھو گیا تو پاکستان ریلوے مزید پسماندگی اور عوام مزید مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔چین کی جانب سے فنڈز واپس لینے پر غور اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان پر اعتماد میں کمی آ رہی ہے۔ دنیا بھر میں بڑے مالیاتی ادارے اور دوست ممالک سرمایہ کاری اسی وقت کرتے ہیں جب انہیں یقین ہو کہ رقم درست جگہ اور وقت پر استعمال ہوگی۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں منصوبہ بندی اور عملدرآمد کا فقدان ہر بڑے منصوبے کو کرپشن، تاخیر اور غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیتا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت فوری طور پر اس معاملے کو سنجیدگی سے لے، ایم ایل-1 منصوبے پر کام کی رفتار تیز کرے اور چین کو واضح یقین دہانی کرائے کہ پاکستان اس منصوبے کو اپنی اولین ترجیحات میں رکھے گا۔ بیوروکریسی کو جواب دہ بنایا جائے، سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر قومی مفاد میں مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے اور فنڈز کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جائے۔ بصورت دیگر نہ صرف ایم ایل-1 منصوبہ ہاتھ سے نکل سکتا ہے بلکہ مستقبل میں پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر سرمایہ کاری کے مزید مواقع کھونے پڑیں گے۔ایم ایل-1 محض ایک ریلوے منصوبہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی اقتصادی ریڑھ کی ہڈی بن سکتا ہے۔ یہ منصوبہ سی پیک کی کامیابی کا اہم ترین سنگ میل ہے اور اگر یہ ناکام ہوا تو سی پیک کا پورا تاثر متاثر ہوگا۔وقت آگیا ہے کہ حکومت محض اعلانات اور کاغذی دعووں سے آگے بڑھے۔ اگر اب بھی اداروں کی غفلت، کرپشن اور سست روی پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والی نسلیں بھی ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ قوم کو ریلوے کے حادثوں اور ٹوٹی پھوٹی پٹڑیوں پر لٹکانے والے حکمران یاد رکھیں کہ تاریخ ایسے جرم کو کبھی نہیں بھولتی۔ ایم ایل-1 صرف ایک منصوبہ نہیں یہ پاکستان کے مستقبل کا امتحان ہے اور اس امتحان میں ناکامی کا مطلب ہے قومی اعتماد کا جنازہ ہے۔