قدرتی وسائل سے اقتصادی ترقی کا راستہ

سمیع اللہ ملک (پہلی قسط)
پاکستان معدنی وسائل کے اعتبارسے دنیاکے ان چندممالک میں شامل ہے جہاں قدرتی دولت بے شمارہے۔پاکستان میں معدنیات کے ذخائرکوعمومی طورپرتین بڑی اقسام میں تقسیم کیاجاتاہے۔اسٹریٹجک منرلزمیں تانبا،سونا،لیتھیئم،ریئرارتھ منرلز،کرومائٹیہ دفاعی ،الیکٹرانکس اورگرین ٹیکنالوجی میں استعمال ہوتے ہیں۔انرجی منرلزمیں کوئلہ،یورینیئم، گیس وتیلتوانائی اورجوہری پروگراموں میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔صنعتی وقیمتی پتھرنمک چوناپتھر،جپسم،بیراٹ،ماربل،زمرد،یاقوت،نیلمیہ تعمیرات،زراعت اور جیولری انڈسٹری میں استعمال ہوتے ہیں۔
 معدنیات کے ذخائرنہ صرف ملک کی اقتصادی بحالی میں اہم کردارادا کرسکتے ہیں بلکہ اسے عالمی منڈی میں ایک اسٹریٹجک پوزیشن پربھی لاسکتے ہیں۔ تاہم، ان وسائل سے مکمل فائدہ نہ اٹھانابیوروکریسی،سیکیورٹی،سیاسی عدم استحکام اورشفافیت کے فقدان جیسے مسائل کی نشاندہی کرتاہے۔یہ معدنیات نہ صرف ملک کی اقتصادی ترقی کیلئے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کیلئے بھی کشش کاباعث ہیں۔
اگرچہ سندھ کوبلوچستان کی طرح معدنیات کامرکزنہیں سمجھاجاتا،لیکن اپریل2025کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق صرف سندھ  تھرپارکرمیں185/ ارب ٹن کوئلے کے ذخائر موجودہیں جواسے نہ صرف دنیاکے سب سے بڑے لیگنائٹ کوئلے کے حامل علاقوں میں شامل کرتے ہیں بلکہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات کیلئے کئی دہائیوں تک کافی ہوسکتا ہے ۔اسے عالمی سطح پرکوئلہ مرکزکانام دیاگیاہے۔تھرکاعلاقہ دنیاکے ساتویں بڑے لیگنائٹ کوئلے کے ذخیرے کاحامل ہے۔ یہاں سے حاصل ہونے والاکوئلہ کئی توانائی منصوبوں کا ایندھن فراہم کررہاہے،جن میں تھرکول پاورپلانٹس،چینی کمپنیوں کی سی پیک کے تحت سرمایہ کاری میں پبلک-پرائیویٹ پارٹنرشپ چلنے والے ماڈل بجلی کے کارخانے اسی کوئلہ سے چل رہے ہیں۔
جپسم سندھ میں دادواورجامشوروکے علاقوں میں وافرمقدارمیں پایاجاتاہے اورتعمیراتی صنعت میں دیواریں بنانے اورسیمنٹ کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے ۔سندھ میں نوری آباد،ٹھٹھہ وغیرہ میں سونے اورپتھرکے وسیع ذخائرہیں اوریہ سیمنٹ فیکٹریوں کے بنیادی خام مال میں استعمال ہوتاہے۔ جیولوجیکل سروے کے مطابق(نگرپارکر)سندھ میں بھی سونے کے ذخائرکی نشاندہی ہوئی ہے،تاہم تفصیلات خفیہ رکھی گئی ہیں۔ تاہم ایک عرصے سے ننگرپارکر کے پہاڑی سلسلوں سے گلابی اورسفیدرنگ کے گرینائٹ پتھراورماربل نکالے جا رہے ہیں۔ یہ پتھر تعمیرات، برآمدات اور فرنیچر انڈسٹری میں کام آتے ہیں۔مری گیس فیلڈزسندھ کی توانائی خودکفالت کابڑاذریعہ ہیں۔یہ ذخائرسندھ کوتوانائی کامرکز بناتے ہیں۔
جیساکہ ہم جانتے ہیں کہ بلوچستان کوبجاطورپرپاکستان کا"منرل ہب"کہاجاتاہے۔اس کی زمین معدنیات کامرکزہے اوراسی لئے بلوچستان میں دشمن قوتیں شورش پھیلارہی ہیں۔ریکوڈک اورسیندکسونے اورتانبے کی کانیں بلوچستان کی معدنیات کے وہ چھپے ہوئے قدرتی خزانے ہیں جوملک کی تقدیرسنوارنے کیلئے کافی ہیں۔مشہورریکوڈیک پراجیکٹ میں2022کے معاہدے کے مطابق بیرک گولڈ کینیڈین کمپنی کا50فیصد،صوبہ بلوچستان25فیصداور مرکزحکومت پاکستان25فیصدحصص کے شراکت دارہیں۔ریکوڈیک میں 9-5ملین اونس سونے کے5-41ملین ٹن تانبے کے ذخائرموجودہیں اوراس کیعلاوہ دنیاکے سب سے بڑے غیردریافت شدہ کاپرکیذخائربھی دریافت ہوئے ہیں۔اس 
پراجیکٹ کی پیداواری صلاحیت ایک اندازے کے مطابق4لاکھ ٹن سالانہ تانبہ اورڈھائی لاکھ اونس سالانہ سوناپرمشتمل ہے۔کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ نے پہلے مرحلے میں2028 میں ساڑھے پانچ بلین ڈالرکی سرمایہ کاری کااعلان کیاہے۔انہوں نے ڈھائی لاکھ ٹن تانبہ اوردولاکھ اونس سالانہ پیداوار کا کاہدف رکھاہے جسے وہ بتدریج سرمایہ کاری بڑھاتے ہوئے پیداوارمیں بھی اضافہ کریں گے۔وزارت پیٹرولیم کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں فی الحال ہرسال1.5سے2ٹن سونانکالاجاتاہے۔ریکوڈک کی مکمل فعالیت کے بعدیہ پیداوار8سے10ٹن سالانہ تک پہنچ سکتی ہے۔یادرہے کہ ماضی میں یہ پراجیکٹ معطل کردیاگیاتھالیکن کینیڈین کمپنی کی طرف سے عالمی عدالت میں مقدمہ دائرکردیا گیاتھا جس نے پاکستان پرنہ صرف بھاری جرمانہ عائدکردیابلکہ تاوان کی خاصی بڑی رقم اداکرنے کافیصلہ سنایاتھالیکن بعدازاں موجودہ حکومت کے مذاکرات کے بعداس معاملہ کوسلجھا کر نئے معاہدہ تیارکیاگیا۔
چاغی کاعلاقہ،جسے"سویاہوادیو"بھی کہاجاتاہے،معدنی دولت سے مالامال ہے۔جس کے بارے میں اسے پاکستان میں معدنیات کاسب سے بڑاگڑھ کہاجا رہاہے۔ضلع چاغی میں واقع یہ علاقہ دنیاکے سب سے بڑے تانبے اورسونے کے ذخائرمیں شامل ہے۔ابھی تک اس کاتخمینہ لگانے کیلئے ماہرین کی تحقیقی کمیٹیاں کام کررہی ہیں۔چاغی اورخضدارمیں لیتھیئم وریئرارتھ منرلزکی موجودگی کے مضبوط شواہد کے بعداس پرکام شروع ہوچکاہے۔خضدار،قلات، مستونگ،لسبیلہ اورمسلم باغ قلعہ سیف اللہ میں بیراٹ،لیتھیئم،ریئر ارتھ منرلزفلورائٹ،سیسہ وزنک اورکرومائٹ کے ذخائردریافت ہوچکے ہیں۔ مقامی صنعتوں کیلئے سررینج،مچِ،ڈگی،خوست میں وافرمقدارمیں کوئلہ موجودہے۔
اسی طرح 1973میں پہلا میٹالک مائننگ پروجیکٹ سیندک میں چینی کمپنی کی نگرانی میں تانبہ اورسونانکالنے کاعمل شروع ہو چکاہے جہاں سینکڑوں ملین ٹن خام مال کے پیداواری عمل کا آغازہوچکاہے لیکن عالمی سازش کے تحت بھارت اپنے غیرملکی آقاں کی پشت پناہی سے ان مخصوص علاقوں میں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے بد امنی اورشورش پھیلاکرسیکورٹی کی غیریقینی صورتحال کاپروپیگنڈہ کرکے غیرملکی سرمایہ کاروں کے درمیان شکوک وشبہات بڑھانے کی کوشش کررہاہے جس کامقابلہ ہماری پاک افواج بڑی جوانمردی سے کررہی ہے ۔تاہم بیوریوکریسی کی رکاوٹوں،شفافیت کے فقدان کی وجہ سے مقامی افرادکی شکایات اوربداعتمادی کوفوری دورکرنے کی بھی اشدضرورت ہے۔نیشنل ریسورسزلمٹیڈکے حالیہ دعوی کے مطابق تنگ کور(چاغی)میں نئے سونے اورتانبے کے ذخائرملے ہیں۔کمپنی کے مطابق عالمی ماہرین اورسرمایہ کاراس میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔یہ دریافت ریکوڈک اورسیندک کے بعدایک نیاباب کھول سکتی ہے، بشرطیکہ اس پرسنجیدگی سے عمل ہو۔
خیبر پختونخوا بھی ہمارے ملک کی قسمت بدلنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ یہ صوبہ صرف قدرتی حسن میں ہی نہیں بلکہ معدنیات میں بھی مالا مال ہے۔ خیبرپختونخوا پہاڑوں کے نیچے چھپے خزانے قیمتی پتھروں کی شکل میں موجود ہیں۔ عالمی جیولری مارکیٹ میں بلند مقام وادی سوات میں زمرد، ہنزہ میں یاقوت، مردان میں گلابی ٹوپاز کٹلاگ،چترال میں ایکو امرین، نیلم ویلی میں نیلم، کو ہستان میں پیریڈوٹ کا وافر ذخیرہ دریافت ہو چکا ہے۔ جواہرات اور انرجی ریزروز کا پوشیدہ خزانہ جس کی عالمی مارکیٹ میں اربوں ڈالر کی مارکیٹ موجود ہے ۔ 
چترال،سوات،مانسہرہ اوربنیرمیں دریاں کی ریت میں سونے کے ذرات کی موجودگی کی اطلاعات پرپلیسرگولڈکی موجودگی کی نشاندہی پراس منصوبہ پربھی کام شروع کرنے کا اعلان ہواہے۔جی ایس پی نے دربند،مانسہرہ، اور دیگرعلاقوں میں جیوکیمیکل اورجیوفزیکل سروے کیے ہیں ۔دیگرمعدنیات کے ذخائرمیں مہمندووزیرستان میں کرومائٹ،ہزارہ میں فاسفیٹ،مالاکنڈ،ہری پورمیں صابن پتھراورمئیکاشیرون، کوہاٹ ہنگو، کرک میں گیس،تیل،کوئلہ کاوافر ذخیرہ دریافت ہوچکاہے۔اسی طرح ماربل صنعت میں سوات اورمہمندکے عالمی شہرت کاحامل سفیدماربل(زیارت وائٹ)دریافت ہوچکا ہے ۔اس دریافت کے بعد ہزاروں مقامی لوگ کان کنی اورپالشنگ سے منسلک ہیں۔
دیگرذخائرمیں کوہاٹ،شمالی وزیرستان،کرک،ہنگوسے تیل اورگیس،سوات اورمہمندکامشہور’’زیارت وائٹ ماربل‘‘کے خزائن دریافت ہوچکے ہیں۔ علاوہ ازیں  ماڑی انرجیز کی شمالی وزیرستان میں انعام ربانی کے طورپرگیس وتیل کی تازہ دریافتیں بھی ہماری منتظرہیں جہاں سے روزانہ70ملین مکعب فٹ گیس اور310بیرل کنڈینسیٹ کی پیداوارکا آغاز ہوچکاہے جوملکی خودانحصاری کی طرف اہم پیش رفت ہے۔یادرہے کہ سمندر میں تیل اورگیس کی تلاش میں پاکستانی کمپنیاں ماڑی انرجیز،اوجی ڈی سی ایل اورپی پی ایل اورترکی میں معاہدہ ہوچکاہے اورجلدہی اس سلسلے میں پاکستان کیلئے اچھی خبریں متوقع ہیں۔
پاکستان دنیاکے بڑے نمک برآمد کنندگان میں شامل ہے۔ہمالین پنک سالٹ دنیابھرمیں مقبول ہے۔کھیوڑہ،واری،کالاباغ جیسے علاقوں میں قدرتی نمک کی کانوں کی وجہ سے ساری دنیامیں ایک ممتازمقام کاحامل ہے لیکن ہماری عدم توجہ سے ملک کوجونقصان ہورہاہے، اس کاتذکرہ مضمون کے آخر میں کروں گا۔
پنجاب نمک،کوئلہ اورفولادکے ذخائر سے مالامال ہے۔پنجاب میں معدنیات کاسب سے اہم خطہ سالٹ رینج ہے،جہاں مختلف قدرتی وسائل پائے جاتے ہیں۔کھیوڑہ کی کان دنیا کی دوسری بڑی کان تصورکی جاتی ہے۔اسی طرح صوبہ پنجاب میں صنعت وحرفت، تعمیرات کابنیادی کام مال جپسم،کوئلہ،چونااور پتھرکے اہم ذخائرموجودہیں۔ 
چینی ماہرین نے2015میں چنیوٹ میں اعلی معیارکے(لوہے)کے بڑے ذخائردریافت کیے تھے۔جس کاباقاعدہ وزیرِاعظم نوازشریف نے چنیوٹ پنجاب میں سونے، تانبے اورلوہے کی دریافت کے اعلان کی تصدیق کرتے ہوئے ملک کی قسمت بدلنے کاعندیہ دیاتھا۔(جاری ہے)