ملکی معاشی بحران کے پیش نظر نئی سیاسی جماعت نے میدان میں قدم رکھا

ملکی معاشی بحران کے پیش نظر نئی سیاسی جماعت نے میدان میں قدم رکھا

پاکستان کی سیاست میں ایک نئی جماعت ’’پاسبان وطن پاکستان‘‘ کے باضابطہ قیام سے متعلق ہے، جس کی قیادت چیئرمین شیخ مختار احمد اور مرکزی صدر محمد طاہر کھوکھر کر رہے ہیں۔

افتتاحی پریس کانفرنس اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں منعقد ہوئی، جہاں پارٹی قیادت نے موجودہ ملکی حالات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک جامع سیاسی، معاشی اور سماجی منشور پیش کیا۔

 جماعت کا پس منظر اور مقصد
پاسبان وطن پاکستان کا قیام ملک کی بگڑتی سیاسی، معاشی اور سماجی صورتحال کے تناظر میں عمل میں لایا گیا۔قیادت کے مطابق یہ جماعت ’’عوام کی امیدوں کا مرکز‘‘ بننے، محرومیوں کا ازالہ کرنے اور ایک ’’اسلامی فلاحی ریاست‘‘ کے قیام کا عزم رکھتی ہے۔
 نظامِ حکومت کے بارے میں مؤقف
رہنماؤں نے کہا کہ موجودہ پارلیمانی نظام ناکام ہو چکا ہے۔پارٹی صدارتی نظامِ حکومت کی حامی ہے، جس میں ایک مضبوط، بااختیار اور جواب دہ صدر براہِ راست عوام کے ووٹ سے منتخب ہو۔
 معاشی وژن
سود سے پاک معیشت اور اسلامی مالیاتی نظام کے نفاذ کا وعدہ کیا گیا۔زکوٰۃ، وقف، بیت المال جیسے اداروں کو فعال بنا کر فلاحی ریاست قائم کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ہر شہری کو روزگار، تعلیم، صحت اور انصاف کی سہولت فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا۔
 عدل و انصاف
عدالتی نظام میں اصلاحات کے ذریعے تیز اور سستا انصاف فراہم کرنے کا عندیہ۔کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اور بلا امتیاز احتساب پر زور۔
 خواتین و اقلیتوں کے حقوق
خواتین کو تعلیم، صحت اور ملازمت میں مساوی مواقع دینے،
اور تشدد و امتیاز کے خاتمے کے اقدامات شامل۔
اقلیتوں کے مذہبی و شہری حقوق اور عبادت گاہوں کے تحفظ کی ضمانت دی گئی۔
 بلدیاتی اور ماحولیاتی ایجنڈا
مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنانے،
اختیارات اور فنڈز کی نچلی سطح تک منتقلی کا اعلان۔
شجرکاری مہمات اور پانی کے ذخائر کے تحفظ کے منصوبے بھی منشور کا حصہ ہیں۔
خارجہ پالیسی
پاکستان کی خودمختاری کو اولین ترجیح۔
کشمیر کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل،
اور فلسطینی عوام کی حمایت کا عزم۔