پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اسٹار بیٹر اور سابق کپتان، بابر اعظم نے اپنی پریس کانفرنس میں فینز کی محبت اور سپورٹ کو اپنی سب سے بڑی حوصلہ افزائی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ فینز کا جتنا محبت اور سپورٹ انہیں ملتی ہے، یہی ان کے لیے سب سے بڑی توانائی کا ذریعہ ہے۔ بابر نے اپنی گزشتہ سیریز کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ شروع میں ان کا کھیل اچھا تھا، لیکن بدقسمتی سے وہ اس وقت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے۔انہوں نے کہا کہ جب اننگز کا آغاز ہوتا ہے تو ان کا ارادہ ہوتا ہے کہ فخر کے ساتھ ٹیم کے لیے بہترین کھیل پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ حالات کے مطابق کھیلنا اور اپنی پرفارمنس کو بہتر بنانا ان کا مقصد ہے۔ خاص طور پر جب وہ سنچری کرتے ہیں تو ان کا حوصلہ بلند ہوتا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ انہوں نے اپنی محنت جاری رکھی اور آخرکار ان کی کوششیں رنگ لائیں۔بابر اعظم نے اپنی ذاتی جدوجہد کے بارے میں بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ اچھا پرفارم نہیں کر رہے ہوتے، تو ذہن میں مختلف خیالات آتے ہیں، لیکن ان کے فینز اور کوچز کی حوصلہ افزائی نے انہیں حوصلہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کو نوازنا چاہتا ہے، تو پھر وہ ضرور نوازتا ہے۔ انہوں نے اپنی فٹنس پر بھی زور دیا اور کہا کہ انہوں نے سخت محنت کی اور روزانہ کی پلاننگ کو مکمل کیا، جس کا نتیجہ ان کے مطابق لازمی نکلتا ہے۔
بابر اعظم کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں اپنے اوپر اعتماد رکھنا بہت ضروری ہے، کیونکہ وقت کے ساتھ سب کچھ بہتر ہو جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے کوچز، خاندان اور قریبی لوگوں کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے ان کی مدد کی اور ان کو حوصلہ دیا۔ انہوں نے تنقید اور ناکامیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی بہتری کے لیے کام جاری رکھا۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام کھلاڑیوں کا ٹیم کے ساتھ تعاون بہت اہم ہوتا ہے، اور فینز کا ساتھ ہونا ان کے لیے ایک بوسٹر کا کام کرتا ہے۔ ان کا بنیادی مقصد صرف کرکٹ کھیلنا اور ٹیم کو میچ جتوانا ہے، نہ کہ ریکارڈ بنانا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ریکارڈ بننے رہتے ہیں، اصل مقصد ٹیم کی کامیابی ہے۔مجموعی طور پر، بابر اعظم نے اپنی پریس کانفرنس میں ثابت کیا کہ محنت، صبر اور فینز کی محبت سے ہی کامیابی ممکن ہے، اور یہی ان کی اصل طاقت ہے۔